اے بی وی پی کارکنوں نےگورکھپور یونیورسٹی کے وائس چانسلر کا پیچھا کر کےپٹائی کردی
رجسٹرار اور پولیس عہدیداروں کو بھی زدوکوب کیا۔ لاٹھی چارج
گورکھپور :۔21؍جولائی
(زین نیوز ڈیسک)
گورکھپور کی دین دیال اپادھیائے یونیورسٹی میں اے بی وی پی کے کارکنوں نے وائس چانسلر اور پراکٹر کی زبردست پٹائی کی ہے۔ کئی دنوں سے دھرنے پر بیٹھے اے بی وی پی کارکنوں کا غصہ جمعہ کی دوپہر کو بھڑک اٹھا۔
کارکنوں نے رجسٹرار کو بری طرح زدوکوب کیا۔ اس واقعہ کو لے کر یونیورسٹی کیمپس میں کہرام مچ گیا ہے۔ اے بی وی پی کارکنوں نے وائس چانسلر کے چیمبر میں توڑ پھوڑ کی۔ دروازہ پھینک دیا گیا ہے۔
اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) کے کارکنوں نے جمعہ کی شام گورکھپور میں دین دیال اپادھیائے یونیورسٹی (ڈی ڈی یو) میں وائس چانسلربردست پٹائی کی ہے۔ کئی دنوں سے دھرنے پر بیٹھے اے بی وی پی کارکنوں کا غصہ جمعہ کی دوپہر کو بھڑک اٹھا۔ کارکنوں نے رجسٹرار کو بری طرح زدوکوب کیا۔
اس واقعہ کو لے کر یونیورسٹی کیمپس میں کہرام مچ گیا ہےکارکنوں نے چیمبر میں توڑ پھوڑ کی۔ دروازہ اکھاڑ کر پھینک دیا۔ اس کے بعد وائس چانسلر اور رجسٹرار کا پیچھا کیا اور مارا پیٹا۔ یہی نہیں انہوں نے مداخلت کرنے آئے پولیس عہدیداروں کو بھی زدوکوب کیا۔
बेचारी UP Police ! कभी ठोंकती है तो कभी ठुकती है। #गोरखपुर #Gorakhpur pic.twitter.com/5mbI21dqxh
— Sakshi (@ShadowSakshi) July 21, 2023
اے بی وی پی کارکنان صبح سے ہی گیٹ پر احتجاج کر رہے تھے۔ وہ دوپہر تک وائس چانسلر کا انتظار کرتے رہے لیکن تین بجے تک وائس چانسلر باہر نہیں آئے۔ جس کے بعد کارکنان وائس چانسلر کے کمرے میں پہنچ گئے۔
اس دوران پولیس اپنی حفاظت میں وائس چانسلر کو باہر لے جارہی تھی کہ کارکنوں نے حملہ کردیا۔ وائس چانسلر کو مارنے کے ساتھ ساتھ کارکنوں نے مداخلت کرنے کی کوشش کرنے والے پولیس عہدیداروں کو بھی زدوکوب کیا۔
بعد میں پولیس عہدیداروںنے اے بی وی پی کارکنوں پر لاٹھی چارج کیا۔ ہنگامہ آرائی میں وائس چانسلر، رجسٹرار، 3-4 اے بی وی پی کارکنان اور کچھ پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔ سبھی کو ہسپتال بھیج دیا گیا ہے۔ اس وقت موقع پر ہنگامہ برپا ہے۔ 3 سے 4 تھانوں کی فورس تعینات کر دی گئی ہے۔ ساتھ ہی 10 کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
اے بی وی پی کے کارکنان یونیورسٹی میں پھیلی بے قاعدگیوں کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ طلباء کے مطابق وائس چانسلر کی یقین دہانی کے بعد بھی کوئی مسئلہ حل نہیں ہوا۔ اس کے بعد، 13 جولائی کو اے بی وی پی کے کارکنوں نے ان کے مطالبات پورے نہ ہونے پر یونیورسٹی میں وائس چانسلر کا پتلا جلا کر مظاہرہ کیا۔
اس دن کارکنوں نے تین گیٹوں کے تالے بھی توڑ دیئے۔ اس کے بعد وائس چانسلر نے طلباء کے مسائل ایک ایک کر کے سنے اور یقین دلایا کہ ان تمام مسائل کو جلد حل کیا جائے گا۔
اس کے بعد ڈین ڈاکٹر ستیہ پال سنگھ نے ہنگامہ کرنے والے 4 کارکنوں کو معطل کرنے اور 4 کارکنوں کو یونیورسٹی میں داخل ہونے سے روکنے کا حکم جاری کیا۔
اس حکم کے خلاف احتجاج میں طلباء جمعہ کو وائس چانسلر سے ملنے پہنچے تو انہوں نے بات کرنے سے انکار کر دیا۔ اس پر کارکنان غصے میں آگئے۔
جب وائس چانسلر نہیں آئے تو اے بی وی پی کے کارکنان ان کے چیمبر میں داخل ہوئے اوریونیورسٹی کے گیٹ پر وائس چانسلر پروفیسر راجیش سنگھ کا انتظار کرتے رہے۔ وہ تین بجے تک باہر نہیں آئے۔ جس کے بعد مشتعل کارکن وائس چانسلر کے چیمبر پہنچ گئے۔ اس دوران پولیس اپنی حفاظت میں وائس چانسلر کو باہر لے جارہی تھی کہ کارکنوں نے حملہ کردیا۔