از قلم :عبدالقیوم شاکرالقاسمی
جنرل سکریٹری جمعیۃ علماءنظام آباد9505057866
تعمیر عربی زبان کا ایک لفظ ہے جس کے معنی ہے آباد کرنا قرآن مجید میں اللہ پاک نے مساجد کے حوالہ سے اس لفظ کا استعمال فرمایا ہے انمایعمر مساجد اللہ بلاشبہ جولوگ اللہ کی مسجدوں کو آباد کرتے ہیں آگے ان لوگوں کی علامت اور پہچان بھی بتلایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ پر اور یوم آخرت پرایمان لانے والے ہیں نماز قائم کرتے اور زکوۃ اداکرتے اور اللہ کے علاوہ کسی سے نہیں ڈرتے ہیں گویا مساجد کی تعمیر پر اللہ کاکلام اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ یہ مساجد کی تعمیر کرنے والا بندہ ایمان والا ہے تعمیر ایک تو ظاہری ہے اور ایک باطنی ہے اس آیت کریمہ سے دونوں قسم کی تعمیر مرادلی جاسکتی ہے (1)ظاہری تعمیر کامطلب ہے عمارت کا بنوانا اس کی فکر کرنا اس کی دیکھ بھال کرنا صاف صفای کا خیال رکھنا اس کے انتظامی امور اداکرنا اس میں روشنی کا انتظام کرنا وغیرہاس معنی کے اعتبار سے ظاہر ہیکہ ایک مومن ہی ان تمام چیزوں کو پورا کرنے کی فکرکرے گا(2)باطنی تعمیریعنی نمازوں اور سجدوں سے یا ذکراللہ اور تلاوت قرآن سے اس کو آباد کرنا پنج وقتہ نمازوں کا اہتمام ہوں دین اور تعلیم دین کا سلسلہ جاری ہوں تلاوت قرآن کے مراکز لگے ہوں ہرمسلمان کے ایمان کی فکریں ہورہی ہوں اعتکاف ونوافل کے ذریعہ اس مسجد میں لوگوں کی آمد ورفت ہوں باضابطہ امام مسجد نماز اداکرتا اور موذن آواز لگا کر سب کو دعوت دیتا ہوں یہ سب چیزیں باطنی تعمیر کا حصہ ہیں جو مساجد کا مقصد اصلی اور عین حکم الہی ہے تعمیر خواہ ظاہری ہوں یا باطنی دونوں عنداللہ کار ثواب اور باعث اجر ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مساجد کی تعمیر کے حوالہ سے فضیلت بیان کرتے ہوے ارشاد فرمایا من بنی مسجدا بنی اللہ لہ بیتا فی الجنۃجو کوی مسجد کی تعمیر میں حصہ لیتا ہے اللہ پاک اس کے لےء جنت میں ایک گھر تعمیر فرماتے ہیں مذکورہ حدیث سے بناء مساجد میں حصہ لینے والوں کے لے اعزاز اور خوشخبری ہیکہ وہ لوگ خوش قسمت ہیں جو مسجدوں کو آباد کرنے اور کرانے کی فکر کرتے ہیں مکمل مسجد کی تعمیر ہی نہیں بلکہ اگر کوی ایک اینٹ لگادے یا مٹی اور کنکر اٹھا کر پہونچادے یا کسی بھی قسم کی ادنی سے ادنی خدمت کرلے مگر اخلاص کے ساتھ تو اس بندہ مومن کو بھی یہی اجر وثواب عنایت فرماتے ہیںایک روایت کامفہوم ہیکہ جوبندہ مسجد بناے خواہ وہ کسی پرندے کے گھونسلے کے برابر ہی کیوں نہ ہواللہ پاک اس کو بھی جنت میں گھرعنایت فرمائیں گے علاوہ ازیں مختلف روایات واحادیث سے یہ بات معلوم ہوتی ہیکہ ظاہری اعتبار سے مسجد کی کوی بھی خدمت ہوں روشنی کرنا صفای کرنا یہاں تک کہ مسجد سے کسی تکلیف دینے والی چیز کو باہر پھینکنا اس پربھی اللہ تعالی ثواب عطاء فرماتے ہیں اس لےء ہم ایمان والو ں کو چاہیے کہ زیادہ سے زیادہ مساجد کی تعمیر ومرمت میں حصہ داری نبھائیں اور اللہ نے مال ودولت سے نوازا ہے تو ہر قسم کی سہولیات اور عبادت گذاروں کو اطمینان قلبی کی جانب مائل کرنے والی چیزوں سے آراستہ کریں اپنی شادی بیاہوں اور دیگر غیر اسلامی وغیر شرعی رسومات میں خرچ کرنے کے بجاے اللہ کے گھروں کے تحفظ اور وآباد کرنے میں خرچ کریںاسی طرح تعمیر مساجدکا ایک مفہوم عبادات سے اس کو منور کرنا ہےروایات میں جو لوگ صبح وشام مسجدوں میں رہ کر عبادات میں مصروف رہتے ہیں ان کو مسجد کے کھونٹے کہا گیا ہے فرشتے ان کے ہمنشیں ہوتے ہیں وہ بیمارہوجائیں تو فرشتے ان کی عیادت کرتے ہیں وہ کسی کام میں لگ جائیں تو ان کی اعانت کرتے ہیں اسی طرح جو لوگ ایک نماز کے بعد دوسری نماز کے منتظر رہتے ہیں جن کا دل مسجدوں میں لٹکا ہوا ہوتا ہے ان کے لےء عرش کے سایہ میں جگہ دینے کا وعدہ کیا گیا ہے اسی طرح باربار مسجدوں کو جانا عمرہ اور حج کا ثواب حاصل کرنے کے برابر ہے بہرکیف ان سب روایات سے پتہ چلتا ہیکہ باطنی اعتبار سے مسجدوں کو آباد کرنے والے بھی عنداللہ بے حد وحساب اجر وثواب کے مستحق بنتے ہیں اس لےء ہرمسلمان کو چاہہیے کہ وہ مسجدوں میں جاکر جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنے کا اہتمام کرے کسی بھی حال میں نماز کو ترک نہ کریں مسجدوں سے وابستہ رہیں مساجد ایمان والوں کے لےء بہترین پناہ گاہ ہے جہاں پہونچ کر بندہ گناہوں سے بھی محفوظ ہوجاتا ہے اور دیگر مسائل سے بھی یکسو ہوجاتاہے ہمیں چاہیے کہ ہم ہر دواعتبار سے مساجد کو تعمیر کرنے کی فکر کریں یہ ہمارے مومن ہونے کی علامت اقر گواہی ہے اللہ پاک ہم سب کو توفیق عمل نصیب فرماے آمین