Superim-Court

ہریانہ تشدد پر سختی، نفرت انگیز تقاریر پر فوری کارروائی کی ہدایت

تازہ خبر قومی
 ہریانہ تشدد پر سختی، نفرت انگیز تقاریر پر فوری کارروائی کی ہدایت
یقینی بنائیں کہ اب کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہ ہو۔سپریم کورٹ
نئی دہلی:۔2؍اگست
(زین نیوز ڈیسک)
ہریانہ کے نوح اور آس پاس کے علاقوں میں پھوٹ پڑے تشدد میں اب تک چھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ فرقہ وارانہ تشدد کے پیش نظر ہریانہ سے متصل سرحدی اضلاع میں بھی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ یہاں نوح تشدد پر سپریم کورٹ نے سیکوریٹی فورسز کو تعینات کرنے اور سخت کارروائی کرنے کی ہدایات دی ہیں۔
نوح کے تشدد کے پیش نظر سپریم کورٹ نے بدھ کو حساس علاقوں میں سیکوریٹی فورسز کی تعیناتی بڑھانے اور نفرت انگیز تقاریر کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا۔ نفرت انگیز تقاریر سے ماحول کی خرابی کا ذکر کرتے ہوئے جسٹس سنجیو کھنہ اور جسٹس ایس وی بھٹی کی بنچ نے حساس علاقوں میں سی سی ٹی وی کیمرے لگانے کا بھی حکم دیا۔
سپریم  کورٹ نے کہاکہ ہمیں امید اور بھروسہ ہے کہ پولیس افسران سمیت ریاستی حکومتیں اس بات کو یقینی بنائیں گی کہ کسی بھی کمیونٹی کے خلاف نفرت انگیز تقاریر نہ کی جائیں اور نہ ہی کوئی تشدد کیا جائے، نہ ہی املاک کو نقصان پہنچے اور جہاں بھی ضرورت ہو پولیس فورس یا نیم فوجی دستے مناسب تعداد میںتعینات کیا جائے۔
عدالت نے مرکز کی طرف سے پیش ہونے والے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایس وی راجو کو ہدایت دی کہ وہ فوری طور پر حکام سے رابطہ کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ اب کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہ ہو۔
وشو ہندو پریشد (VHP) اور بجرنگ دل کے کارکنوں نے ہریانہ کے نوح اور گروگرام میں ہونے والے فرقہ وارانہ تشدد کے خلاف بدھ کو قومی دارالحکومت میں کئی مقامات پر مظاہرے کیے، جس سے شہر کے کئی حصوں میں ٹریفک بلاک ہو گئی۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں بجرنگ دل کے حامیوں کو نرمان وہار میٹرو اسٹیشن کے قریب ہنومان چالیسہ پڑھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ بعد میں انہوں نے وکاس مارگ کو روکنے کی کوشش کی لیکن پولیس نے انہیں ہٹا دیا
واضح رہے کہ 31 جولائی کو نوح میں فرقہ وارانہ تشدد میں دو ہوم گارڈز سمیت چھ افراد مارے گئے تھے جب ایک ہجوم نے وی ایچ پی کے جلوس کو روکنے کی کوشش کی تھی۔
ریاستی حکومت کے مطابق تشدد کے سلسلے میں اب تک 116 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ہریانہ کے کچھ اضلاع میں تشدد کے واقعات کے پیش نظر قومی راجدھانی میں حساس مقامات پر سیکوریٹی بڑھا دی گئی ہے۔