Arnaz Banu

گجرات میں اسکول ایوارڈز کی تقریب میں اسکول ٹاپر مسلم طالبہ کو ایوارڈ دینے سے انکار

تازہ خبر قومی
گجرات میں اسکول ایوارڈز کی تقریب میں اسکول ٹاپر مسلم طالبہ کو ایوارڈ دینے سے انکار
ایوارڈ تقریب کے بعد دینے کا تیقن، والدین کا لینے سے انکار  
دوسری پوزیشن حاصل کرنے والی طالبہ کو ایوارڈ دئے جانے سے تقریب کا آغاز
 مذہبی امتیاز برتنے کا الزام
احمد اآباد:۔19؍اگست
(زین نیوز ڈیسک)
مذہب کی بنیاد پر جان بوجھ کر امتیازی سلوک کے معاملے میں شری کے ٹی پٹیل اسمرتی ودیالیہ، مہسانہ ضلع کے لنوا گاؤں میں واقع ایک اسکول نے اپنے اسٹار طالب علم کو اعزاز دینے سے انکار کردیا۔
ارناز بانو نے اپنے امتحانات میں 87 فیصد نمبر حاصل کرنے کے باوجود انہیں دوسروں کے ساتھ پہچانا نہیں گیا۔ تاہم دوسرے رینکرز اور اس سے کم نشانات حاصل کرنے والوں کو ایوارڈ دئیےگئے
تفصیلات کے مطابق گجرات کے کھیڑا اسکول میں ٹاپر کے طور پر ابھرنے والی ایک لڑکی کو مبینہ طور پر 15 اگست کو یوم آزادی کی تقریب کےجب ارناز بانو اپنے اسکول کی طرف سے پہنچی تو انہیں توقع تھی کہ وہ سب سے پہلے اسٹیج پر بلائی جائے گی۔کیوں کہ و ہ10 دسویں جماعت میں %87 کے اسکور کے ساتھ ٹاپر تھیں۔نظر انداز کردیا گیا
بتایا جاتا ہے کہ ارناز بانو روتے ہوئے گھر واپس آگئی ہیں۔ لوناوا گاؤں کے رہنے والے اس کے والد سنور خان نے اس واقعے پر اپنی پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ اس نے ہمیں بتایا کہ جو ایوارڈ ان کا ہونا چاہیے تھا وہ دوسری پوزیشن حاصل کرنے والی طالبہ کو دیا گیا تھا

  سنور خان نے کہاکہ میں نے اسکول کے حکام اور اساتذہ سے وضاحت طلب کی، لیکن ان کے جوابات مبہم تھے۔ اگرچہ وہ ہمیں یقین دلاتے ہیں کہ انعام 26 جنوری کو دیا جائے گا
ارناز کے والدین نے الزام لگایا ہے کہ اسکول کے حکام نے مذہبی امتیاز برتاو ہے۔ارناز کو اس لیے مبارکباد نہیں دی گئی کیونکہ ہم مسلمان ہیں اور یہ گجرات ہے۔ ہمیں امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ ہم اسلام کی پیروی کرتے ہیں۔
ارناز کے والدسنور خان نے وائبس آف انڈیا کے حوالے سے بتایا ۔لڑکی کا دل ٹوٹ گیا اور رو پڑی جس کے بعد اساتذہ نے مبینہ طور پر اس کے والدین کو بتایا کہ اسے صرف انعامات کی تقسیم کے دن ہی مبارکباد دی جائے گی۔
تاہم اس کے والدین نے دعویٰ کیا کہ یہ انعام نہیں تھا بلکہ اس کی محنت اور لگن کا اعتراف تھا جس کے لیے وہ رو پڑی۔اسکول نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے امتیازی سلوک کے خلاف سخت پالیسی برقرار رکھتے ہیں۔
اسکول کی پرنسپل نے وائبس آف انڈیا  کے حوالے سے کہا کہ یقین رکھیں مستحق طالب علم کو 26 جنوری کو اس کا انعام ملے گا۔
یہ قابل ذکر ہے کہ وہ مقررہ دن پر غیر حاضر تھی جس کی وجہ سے پریزنٹیشن میں رکاوٹ پیدا ہوئی
تاہم والدین نے ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی بیٹی اس دن موجود تھی۔ سنور خان نے کہاکہ "اسکول سی سی ٹی وی کیمروں سے لیس ہے، جو ضروری وضاحت فراہم کر سکتے ہیں۔
اس واقعے نے سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر کارکنوں اور شہریوں میں بے اطمینانی کی لہر دوڑا دی ہے۔ ایک ٹوئٹ میں مصنف سلیل ترپاٹھی نے کہا ہے کہ ’یہ مودی سے نفرت کرنے والے ہندوستان کی حالت ہے۔