ریاض۔22؍فروری
(ایجنسیز)
سعودی انسانی حقوق کمیشن (ایچ آر سی) کے صدر نے کہا کہ مملکت سعودی عرب دنیا بھر میں انسانی حقوق کے تحفظ اور فروغ کے لئے کام کر رہی ہے کیونکہ اس نے انسانی حقوق کے نئے تربیتی پروگرام شروع کیے ہیں۔اقوام متحدہ کے عالمی یوم سماجی انصاف کے موقع پر اپنے بیان میں ڈاکٹر عوض بن صالح العواد نے کہا کہ سعودی عرب اس بات کا ذمہ دار ہے کہ یہاں کے تمام شعبوں، اداروں اور افراد کے حقوق کو تحفظ فراہم کیا جائے۔موصوف کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ایچ آر سی اور الولید پھیلانٹرپیز نے دونوں فریق کے ذریعہ ایک معاہدے پر دستخط کے طور پر تربیتی پروگرام اور سیمینار کا آغاز کیا ۔جس میں سیکریٹری جنرل اور بورڈ آف ٹرسٹی کی رکن شہزادی لامیا بنت ماجد سعود آل سعود کی موجودگی میں دستخط ہوئے۔اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کا دفتر اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی اور مقامی ماہرین بھی ان پروگراموں کی نگرانی کریں گے۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ اس طرح کے انسانی حقوق کے تربیتی پروگراموں سے انسانی حقوق اور خیراتی کاموں کے شعبے میں کارکنوں کی صلاحیتوں کو فروغ ملے گا۔ڈاکٹرالعواد نے کہا کہ’ ایچ آر سی انسانی حقوق کے میدان میں کام کرنے والے تمام مقامی، علاقائی اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ تعاون کرنے کے لئے تیار ہے‘۔انہوں نے مزید کہا کہ مذکورہ کمیشن کا مقصد انسانی حقوق کے طریقہ کار کو اس شعبے میں ضم کرنا، انسانی حقوق کے طریقہ کار کے ساتھ تعامل کو مستحکم کرنا اور ماہر کارکنوں کے لئے صلاحیتوں کو بڑھانا ہے۔شہزادی لامیا نے خواتین کو بااختیار بنانے اور ان کی حمایت کرنے کی اہمیت پر زور دیا، اور قانونی شعبے میں خواتین کے کام کی حمایت کے لئے کوششوں کو جاری رکھنے پر بھی زور دیا۔تربیتی پروگراموں کا انعقاد دو دن کے دوران کیا جائے گا اور وہ انسانی حقوق سے متعلق بین الاقوامی اور مقامی قوانین، انسانی حقوق، تصورات اور اصطلاحات کے بارے میں ریاست کی ذمہ داری، اور قومی سطح پر حقوق کے تحفظ سے نمٹنے کے لئے کام کرے گا۔وہ اقوام متحدہ کے اداروں، معاہدوں اور پروٹوکول کے کام کے تحت اپنے امور کو انجام دیں گے۔