BRS kotha-prabhakar-reddy

تلنگانہ: بی آر ایس کےاُمیدوار کو انتخابی مہم کے دوران نوجوان نے چھرا گھونپ دیا۔

تازہ خبر تلنگانہ جرائم حادثات
تلنگانہ: بی آر ایس کےاُمیدواار کو انتخابی مہم کے دوران نوجوان نے چھرا گھونپ دیا۔
امیدوار ہسپتال منتقل۔ نوجوان گرفتار
حیدرآباد: ۔30؍اکتوبر
(زین نیوز)
تلنگانہ کے میدک کے رکن پارلیمنٹ اور آئندہ انتخابات کے لئے دوباک  سے بی آر ایس امیدوار کوتہ پربھاکر ریڈی کو پیر کو دولت آباد منڈل کے سورم پلی گاؤں میں ان کی مہم کے دوران ایک نوجوان نے پیٹ میں چھرا گھونپ دیا۔ جس کے نتیجے میں پربھاکر ریڈی شدید زخمی ہو گئے
یہ حملہ اس وقت ہوا جب پربھاکر ریڈی سدی پیٹ ضلع کے دولت آباد منڈل کے گاؤں سورم پلی میں انتخابی مہم کے دوران پادری کے خاندان سے ملنے جا رہے تھے
پربھاکر ریڈی 30 نومبر کو ہونے والے اسمبلی انتخابات کے لیے مہم چلا رہے تھے۔انتخابی مہم چلا رہے بی آر ایس امیدوار کوتہ پربھاکر ریڈی پر چاقو سے حملہ نے ہلچل مچادی ۔
زخمی ایم پی کے حامیوں کی گاڑی کے اندر جانے میں مدد کرنے کا ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کر رہا ہے۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی اور تحقیقات شروع کردی۔ اس دوران حملہ آور کو بھیڑ نے مارا پیٹا اور پولیس کے حوالے کر دیا۔
پیٹ میں شدید چوٹوں کی وجہ سے  پربھاکر ریڈی کو فوری طور پر گجویل ہسپتال لے جایا گیا ہے  جہاں ابتدائی علاج کے بعد  سکندرآباد یشودا ہسپتال منتقل کیا گیا۔وزیر فینانس ٹی ہریش راؤ جو  اپنے تمام پروگرام منسوخ کردیئے ہیں اس وقت یشودا ہاسپٹل پہنچے  ہیں  انھوں نے پربھاکر ریڈی کی عیادت کی اور ڈاکٹروں کو بہتر علاج فراہم کرنےکی ہدایت دی۔ان کی حالت اب بھی مستحکم ہے

 ملزم کی شناخت گدام راجو کے طور پر ہوئی ہے۔ وہ پہلے ایک مقامی نیوز ایپ کے رپورٹر کے طور پر کام کرتا تھااور اب یوٹیوب چینل کے لیے کام کر رہا تھا۔پربھاکر ریڈی سے ہاتھ ملانے کے بہانے راجو نے ان کے پیٹ میں چھرا گھونپ دیا۔راجو فی الحال پولیس کی حراست میں ہے
پولیس کمشنر این سویتا آئی پی ایس نے ایک بیان میں کہا کہ قتل کی کوشش کرنے والے گدام راجو کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور تحقیقات شروع کر دی گئی ہے۔سی پی نے بتایا کہ پربھاکر ریڈی جو شدید خون بہہ رہا تھا، کو ابتدائی علاج کے لیے گجویل ہسپتال منتقل کیا گیا
دریں اثنا، تلنگانہ کے تملائی ساؤندر راجن نے حملے پر صدمے کا اظہار کیا اور مجرم کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کی۔ایکس(ٹویٹر) پر ایک پوسٹ میں انھوں نے لکھاکہ میں انتخابی مہم کے دوران میدک کے ایم پی اور بی آر ایس دوباک ایم ایل اے امیدوار کوتہ پربھاکر ریڈی پر حملے کے بارے میں جان کر حیران ہوں۔
 جمہوریت میں تشدد کی کوئی جگہ نہیں اور ایسے واقعات جمہوری عمل کے لیے خطرہ ہیں۔ میں نے ڈائرکٹر جنرل آف پولیس کو ہدایت کی کہ وہ انتخابی مدت کے دوران انتخابی امیدواروں اور انتخابی مہم چلانے والوں کی تحقیقات اور حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے سخت اقدامات کریں۔
آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے لیے پرامن اور محفوظ ماحول کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔ میں ان کی جلد صحت یابی کی امید کرتی ہوں۔