خدمت خلق ہی نصیب العین۔ ڈاکٹر کی فیس صرف 10/-روپئے

بین الریاستی

زین نیوز ڈسک
22؍ڈسمبر
موجودہ دور میں خانگی اسپتال کارخ کرنے سے عوام اس لئے گھبراتے ہیں کیوں کہ جو بھی اس کی سیڑھیاں چڑھتا ہے دواخانہ کا انتظامیہ اس کی جیب خالی کئے بغیر نہیں رہتا ۔ بسااوقات تو دواخانہ کے بلز کی ادائیگی کیلئے غربا ء کو اپنے مال و اسباب بیچنے تک مجبور ہونا پڑتا ہے کیوں کہ قلیل آمدنی کی وجہ سے عوام اس کی ادائیگی کے متحمل نہیںہوتے۔ ایسے گراں بار دور میںبعض ایسے بھی ڈاکٹر س ہیں جو انسانیت کی خدمات کا جذبہ رکھتے ہیں یہ ان کے اپنے پیشہ کا بنیادی تقاضہ بھی ہے۔ ان میںجواں سال ایک خاتون ڈاکٹر ہے جو صرف دس روپئے کی برائے نام فیس کے ساتھ غریبوں اورمعاشی طورپر کمزور طبقہ کی طبی خدمت کا بیڑا اٹھایا۔ یہ کوئی اور نہیں ڈاکٹر نوری پروین ہیں۔ جن کا ؍بائی وطن وجئے واڑہ ہے۔ڈاکٹر پروین جنھوں نے کڑپہ کے ایک خانگی میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کی ڈگری لینے کے بعد خدمت خلق کے مشن کا باضابطہ آغاز کیا۔ آندھراپردیش کے ضلع کڑپہ میں خانگی میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس مکمل کرنے کے بعد انھوں نے 104میڈیکل سرویز میں خدمات انجام دیں اور پھر ایک خانگی دواخانے سے وابستہ ہوئیں ۔ اس وقت سے انھوں نے غربا‘بے کس و لاچار افراد کے علاج میں مددکا فیصلہ کیا اور رواں سال فروری میں کڑپہ کے ماساپیٹھ کی ایک غریب بستی میں اپنا کلینک شروع کیا ہے۔وسط مارچ میں کورونا کے پھیلاؤ سے ہر عام وخاص خوفزدہ ہوگئے تھے لیکن ڈاکٹر پروین نے اس سے بے پرواہ مریضوں کا علاج میںمنہمک ہو گئیں جبکہ کارپوریٹ دواخانوں نے عام علاج ومعالجہ خدمات کو پوری طرح سے مسدود کردیا تھا۔ ڈاکٹر پروین نے جذبے انسانیت کے ساتھ دو سال قبل دو رضاکارانہ تنظیموں کا آغاز کیا۔ ان میں سے (1 انسپائرنگ انڈیا اور(2 نور چیارٹیبل ٹرسٹ قابل ذکر ہیں اول الذذکر تنظیم کا مقصد تعلیم اور ادویہ کی فراہمی ‘‘کے لئے تحریک چلانا ہے تو دوسری تنظیم (جو ان کے دادا نام سے قائم کی گئی ہے ) اس کا ر خیر اورکام خدمت خلق پر مخیط ہے۔ لاک ڈاون کے دوران ڈاکٹر پروین نے روزآنہ سینکڑوں افراد کوکیلئے طعام کا انتظام کیا۔ ان کے اس جذبہ انسانیت کو دیکھ کر بیشتر تنظیمیں نہ صرف متاثر ہوئیں بلکہ انہیںاپنی تنظیموں سے با ضابطہ رکنیت دیتے ہوئے وابستہ کیا۔ڈاکٹر پروین نے بتایاکہ غریب عوام کی خدمت کا یہ جذبہ انہیں اپنے سرپرستوں سے وراثت میںملا جن کو والدین نے اس کی تربیت دے رکھی تھی۔ ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر پروین نے بتا یا کہ وہ اپنے ذاتی اخراجات سے تین یتیم بچوں کی کفالت کررہی ہیں ان کی تعلیم ‘ قیام وطعام اور دیگر ضرورتوں کی تکمیل قابل ذکر ہے۔انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مستقبل میں ملٹی اسپیشالٹی ہاسپٹل کے قیام کا ارادہ رکھتی ہیں جہاں غربا و مساکین‘بے کس ولاچار عوام کا انتہائی کم خرچ پرعلاج کریں گی ۔