قسط اول
ازقلم عبدالقیوم شاکر القاسمی
جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء نظام آباد9505057866
ومن یتبع غیرالاسلام دینا فلن یقبل منہ. القرآن گذشتہ کئ دنوں سے اخبارات ودیگرذرائع ابلاغ سے مسلسل یہ خبریں موصول ہورہیں اور ہرآے دن اخبارات کی یہ شہ سرخیاں بن رہی ہیں کہ فلاں مقام پر مسلم لڑکی نے غیرمسلم لڑکے سے شادی رچای ….کبھی یہ پڑھنے کو ملتا کہ غیرمسلم عاشق کی دہوکہ دہی کے بعد مسلم لڑکی نے گلاکاٹ لیا …کہیں سے یہ اطلاع ملتی کہ مسلم لڑکی نے غیرمسلم کے ساتھ عشق رچاکر مذہب تبدیل کرلیا…کہیں سے معلوم ہوتا کہ مسلم لڑکی نے غیرمسلم عاشق کے ساتھ مل کر کورٹ میریچ کرلیا وغیرہ وغیران خبروں پر جونہی نگاہ پڑتی ہے دل خون کے آنسو رونے لگتا ہے بدن جذبات سے مغلوب ہوکر بے چین ہوجاتا ہے کسی سے کہتے ہوے کلیجہ منھ کو آنے لگتا ہے بہرحالہونٹ بھی اپنے دانت بھی اپنے ہیں کس سے کہا جاے کیا کہاجاے کس زبان سے کہاجاے آج جس ماحول اور حالات سے ہم اور ہمارا سماج ومعاشرہ گذررہا ہے وہ کسی سے چھپا ہوا نہیں ہے
ہماری بہو بیٹیاں اور قوم کی لڑکیاں اور دختران ملت اسلامیہ جس تیزی سے دینی وفکری بے راہ روی کاشکار ہوتی جارہی ہیں وہ ہمارے لےء اورپوری ملت کے لےء ایک لمحہ فکریہ ہے ان سب کے باوجود ہماری سردمہری بھی اب معنی خیز بنتی جارہی ہے ضرورت اس بات کی ہیکہ اس سلسلہ میں کوی عملی اقدام اٹھایا جاے اوراپنی خاموشی کو توڑ کر اس ارتدادی لہر کو روکنے کی حتی المقدور سعی اور قابل قدر کوشش کی جاے موجودہ حالات میں جہاں بیرونی اور خارجی فتنوں کا ایک ناتھمنے والا سلسلہ چل رہا ہے وہیں داخلی اور اندرونی فتنوں نے بھی کوی کسر نہیں چھوڑی ہے اب رہی سہی فکروں کو قوم مسلم کا آپسی انتشار واختلاف نے ایک دوسرے کو جداجدا کرکے ہمارے ملی شیرازہ کو بکھیردیا ہے
ان تمام چیزوں سے ہم باہر نکل سکیں گے تب ہی اپنی اور اپنے اہل وعیال اور بنات حوا کی کچھ فکر کرسکیں گے ورنہ حالات کو دیکھ کریہ پتہ نہیں چلتا کہ یہ ارتداد جلد رک پاے گا ملت کے ذمہ داران اور لڑکیوں کے سرپرستوں اور والدین کی یہ مشترکہ ذمہ داری ہیکہ وہ ان حالات پر کنٹرول کریں اور اپنی اپنی صلاحیتوں کے مطابق اس حوالہ سے اپنی دینی ومذہبی ذمہ داریوں کو اداکریں اس سلسلہ میں راقم سطور اپنے درد دل کا کچھ اسطرح اظہار خیال کرنا چاہتا ہے کہ پورے ملک میں ایک لابی اور ایک خاص قسم کی ذہنیت کام کررہی ہے کہ غیرمسلم نوجوانوں کو روزآنہ یہ سبق سکھلایا اور پڑھایا جاتا ہیکہ وہ مسلمان لڑکیوں کو مال ودولت کا جھانسہ دے کر یا اچھے مکان اوراچھے کپڑوں اور تکمیل خواہشات کا لالچ دلاکر ان مسلم لڑکیوں کو اپنے دام محبت میں گرفتارکرکے اپنے بستر تک لانے میں کامیاب ہوں پھر ان سے ان کے دین وایمان کا سودا کرالیا جاے اور اپنے مذہب میں داخل کرکے آسانی سے مرتد بنالیا جاے
( اسباب وعلل )ہم لوگوں کو چاہیے کہ اس ارتداد کے اسباب وعلل کی جانب غورکریں اور اس کے تدارک کے لےء حکمت عملی اختیار کریں تو ان شاء اللہ نتائج سامنے آئیں گے ورنہ تو ہم اپنوں سے ہی دور ہوتے چلے جائیں گے غورکرنے سے پتہ چلتا ہیکہ سب سے بڑا اوراہم سبب بچیوں کادین سے دور ہونا اور خوف خدا سے عاری اور آزاد ہونا ہے ظاہر ہیکہ جس بندہ اور بندی میں خوف خدا ہوگا وہ معمولی سا گناہ کرنے سے بھی ڈرے گا ہزار بار سوچے گا کہ میں اپنے مالک وخالق کی نافرمانی کیسے کرسکتا ہو جس نے مجھے پیدا کیا اور ہر نعمت سے نوازا ہم ان حالات میں سب سے پہلے اپنی اولاد کے دین اور علم دین کی فکر کریں ان کو اللہ ورسول اور احکامات شرع سے واقف کرائیں ان کو ان بتائیں کہ تمہارے لےء زیب وزینت کہاں تک کس حد تک کرنے کی اجازت ہے وقت ضرورت کن مردوں سے بات کرنے کی اجازت دی گیء اور کن کن لوگوں سے تمہیں پردہ کرنا ہے گھروں میں کیسے باحجاب رہیں کالج اور بازار میں جائیں تو کیسے مستور ہوکر جائیں علم حاصل کرنے چلیں تو کن احکامات کی پاسداری کرنا لازم ہے تمہاری آواز تمہارا چلنا پھرنا تمہارا بات کرنا یہ سب کیسے ہوں اور کس اعتبار سے ہوں ان چیزوں سے واقف کرانا بہت ضروری ہے
ورنہ حالات اور ماحول کا رونا رونے سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں ہے اسی طرح بچیوں کے ارتداد کا ایک دوسرا سبب مخلوط تعلیم ہے لہذاہمیں اپنی بچیوں کو مخلوط تعلیم سے بچانے کی فکرکرنا ضروری ہے محض دنیا کی تعلیم اور چند ڈگریوں کی خاطر ہم اپنی بچیوں کے دین وایمان کا سودا نہیں کرسکتے ہم مانتے ہیں کہ تعلیم ضروری ہے لیکن اپنے حدود سے تجاوز کرنے والی تعلیم سے ہم.کبھی سمجھوتہ نہیں کرسکتے آج کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اسی طرح ہاسٹلوں میں اختلاط مرد وزن کی وجہ سے جو بے حیائ عام ہوتی جارہی ہے پھر اسی کے نتیجہ میں جو عشق ومعاشقہ چل رہا ہے وہی ارتداد تک پہونچارہا ہے اس لےء مخلوط تعلیم سے حتی الامکان گریز واجتناب کریں …..جاری ..