مسلمان لڑکیوں میں بڑھتا ہوا ارتداد اور ہماری سرد مہری

تازہ خبر مذہبی

قسط دوم
ازقلم : عبدالقیوم شاکر القاسمی
جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء نظام آباد
9505057866
موجودہ دور میں مسلمان خواتین میں تیزی سے ارتداد کے پھیلنے کی ایک تیسری وجہ میرے اپنے علم ودانست کے مطابق یہ ہیکہ آج ہر چھوٹے بڑے بچے اور بچی کے ہاتھ میں آنے والا یہ اسمارٹ فون ہے جو بے حیائیوں اور فحاشیوں کا ایک ایسا آلہ ہے جو مختلف قسم کی نا زیبا وبیہودہ آڈیوز اور ویڈیوز کا سرچشمہ ہے آج کیا مسلم کیا غیر مسلم ہر گھر اور گھر کے ہرفرد کے لےء لازمہ زندگی بناہوا ہے موبائل فون میں انٹر نیٹ کا بے جا اور غلط استعمال اس ارتداد کی لہروں کو مزید بڑھاوا دیے رہا ہے
انٹرنیٹ کے ذریعہ فحش ویڈیو زدیکھنا تو ایک عام فیشن بلکہ خواتین کی ضرورت بن چکی ہےیوٹیوب فیس بوک کارٹوون فحش فلمیں مکالمے خصوصی میک اپ بلوغ کے راز صنف مخالف سے آزادانہ دوستیاں رشتوں کے نام پر لڑکا اورلڑکی کی بے خوف ملاقات فحش لٹریچراور عریانیت کے سارے مناظر دیکھنا اب خواتین اور نوجوان بلکہ کم عمر لڑکیوں کےلےء کوی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی اور کئ والدین اپنے بچے اور بچیوں کی اس عادت سے ہنوز غافل ہیں انہیں پتہ ہی نہیں کہ ان کی اولاد موبائیل فون کی راہ سے کس دلدل میں پھنسے جارہے ہیں
کیا خلوت اور کیا جلوت کیا مجمع عام اور کیا تنہایاں کچھ بھی ان برائیوں سے پاک نہیں رہے آپ کی عقل کے پرخچے اڑجائیں گے جب یہ حقیقت سامنے کھل کر آے گی کہ2018 کی سروے رپوٹ کے مطابق 20 فی صد نابالغ بچے اور بچیاں انٹرنیٹ دیکھنے کے عادی بن چکے ہیںاورمیرا ماننا ہیکہ عادت ایک دوبار دیکھنے کو نہیں بلکہ اس نشہ کو کہتے ہیں جس کے بغیر انسان کو زندگی کا نہ لطف حاصل ہوتاہے اور نہ اس کے بنا جسم کوکوی چین وسکون اور دل ودماغ کو کوئی قرار آتاہے
عقل ماتم کناں اور خردحیرت زدہ ہیکہ 2020 میں یہ اعداد وشمار مزید دوگنہ اور بڑھ گئ ہےکریلا اور نیم چڑھاسال گذشتہ کورونا وائریس کے جال اور وبای مرض کو مزید پھیلنےبسے روکنے کے لےء لاگو ہونے والا لاک ڈاون تو اچھے اچھے سمجھدار لوگوں کو بھی موبائل فون کی برائیوں اور فحاشیوں کی لپیٹ میں لے لیا اسکول میں نرسری اور پی پی ون پڑھنے والی معصوم لڑکیاں اورلڑکے بھی آن لائن تعلیم کا بہانہ بناکر دن ورات اسی موبائل فون کو اپنے پاس رکھے ہوے رہے جس سے تعلیم کم مگر بےبیہودگیاں زیادہ ہوتی چلی گئیںنیز آپ اس موبائل فون کی برائیوں سے چاہ کر بھی نہیں بچ سکتے ہیں کیونکہ خودہم نے کئ بار اسلامی معلومات یا کوی دینی پروگرام کے لےء انٹرنیٹ آن کرتے ہیں تو بے ساختہ وبلاارادہ ایسے مناظر موبائل کی اسکرین پر رونما ہوتے ہیں جس کو کوی عام سمجھدار انسان دیکھنا بھی گوارا نہ کرے جس سے صاف معلوم ہوتا ہیکہ ایک لابی ہے جس کا مقصد ہی طبیعتوں میں ہیجان پیدا کرنا اور انسانیت کو بے حیاء بنانا ہے جس کے لےء وہ نیم برہنہ اور کبھی کبھی مکمل عریاں تصاویر کو اپلوڈ کرکے آپ کے قلب ونظر کو مکدر اورگندا کرنا چاہتی ہیںبہرحالموبائل فون کی تباہ کاریاں صحت پر مرتب ہونے والے اس کے مضر اثرات کے علاوہ درون جسم ہونے والی ایمانی واخلاقی خرابیوں کی ایک طویل فہرست اورلمبی داستان الم ہے جس کیلےء کافی وقت درکار ہےحاصل کلام یہ ہیکہ اس موبائل فون نے بھی کئ معصوم بچیوں کو تباہی کے دہانے پرلاکھڑاکردیاہے
اس لےء ضرورت اس بات کی ہیکہ کوی اور نہ سہی کم ازکم ہم مسلمان تو اس کو بقدر ضرورت اور بوقت ضرورت ہی استعمال کرکے اپنی اولاد کےاخلاق وکردار پر بدنما داغ لگنے سے بچاسکتے ہیںاور اگر کوی اہم یا ضروری پروجیکٹ یا تاریخ سے استفادہ کی نوبت آجاے تو والدین اپنی نگرانی میں اپنی اولاد کو موبائل کے استعمال کی اجازت دے اور لغویات سے بچانے کا اہتمام کریں تو ان شاء اللہ امیدہیکہ کچھ حد تک اس کی تباہ کاریوں کی روک تھام ہوسکےاللہ پاک ہم سب کو توفیق عمل نصیب فرماے ہماری اور ہماری نسلوں کے دین وایمان کی حفاظت فرماے…..
اسی طرح چوتھا سبب یہ ہیکہ ہمارے سماج معاشرہ میں جہیز کی لعنت بھی بہت عام ہوتی جارہی ہے جس کی وجہ سے شادی والدین پر ایک بوجھ لگ رہی ہےیا تو والدین جان بوجھ کر اپنی بچیوں کی اس بے راہ روی اور ارتداد سے بادل ناخواستہ ہی سہی چشم پوشی کررہے اور اپنے بوجھ کو ہلکا کرلینا چاہ رہے ہیںاگرچیکہ یہ سوچ بہت کم لوگوں کی ہےیا تو خود لڑکیاں یہ سمجھ رہی ہیں کہ ہم آگے چل کر اپنے والدین کے لےء بوجھ بننے سے بہتر ہے کہ ابھی سے ہم کسی متمول یا اپنی حیثیت کے ہی لڑکوں سے عشق رچالیں اور انہیں کے ساتھ زندگی گذارلیں وغیرہ اس سلسلہ میں ہمارے ذمہ داران اور تنظیموں کے سربراہان توجہ دیں کہ کس طرح ہم اپنے سماج سے ان برائیوں کا خاتمہ کرسکتے ہیں
بڑی مقدارمیں جوڑے کی رقم بھاری جہیز کی مانگنت نےء مطالبات عمدہ اور لذیذ اور متنوع اقسام کے پکوان عجیب وغریب قسم کے استقبالاور بہت ساری رسم ورواج ہیں جس کی وجہ سے ایک عام خاندان کے لےء اس کو پورا کرنا ناممکن نہ سہی مگر مشکل ضرور لگ رہا ہےشہر کے علماء ائمہ اور خطباء اپنے اپنے اعتبار سے اس سلسلہ میں شعور بیداری کرائیںابھی چند دنوں قبل بھوپال شہر کے کچھ غیور علماء کی جانب سے باضابطہ طورپر اس قسم کی رسم ورواج والی شادیوں میں نکاح نہ پڑھانے اور ان شادیوں کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ جاری کیا جو ایک اچھااور مستحسن اقدام ہے

ہر شہر اور گاؤں میں اس طرح کی مہم کا آغاز ہونا وقت کی ایک اہم ترین ضرورت بن چکی ہےشاید اس قسم کے ماحول سے شادیوں میں کچھ خفت پیدا ہوگی تو معاشرہ میں شادی ہلکی اور آسان ہوگی تو والدین کابوجھ ہلکا ہوگااور اس ارتداد کی چلنے والی ہواؤں کہ کچھ روک تھام ہوسکے گیاللہ پاک فہم وفراست اور عقل وخردمندی سے کام کرنے کی توفیق عطاء فرماے

مزید جاری۔۔۔۔۔۔