جہیز کے نام پر ایک معصوم بھینٹ چڑھ گئی۔درندہ صفت شوہر نے کے سخت موقف پر انتہائی اقدام

تازہ خبر جرائم حادثات قومی

خودکشی سے قبل دلہن کا دردناک ویڈیو منظر عام پر
احمد آ باد:28؍فروری
( زین نیوز ڈاٹ نیٹ)
جہیزکےنام پر ایک اور معصوم بھینٹ چڑھ گئی یہ دالخراش ‘ وہ ضمیرکو جھنجھوڑنے والا واقعہ احمد آبادمیں پیش آیا مزید جہیز کی ؤ ہراسانی سے تنگ ایک بیوی نے سابرمتی ندی میں چھلانگ لگاکر خودکشی کرلی ۔ تفصیلا ت کے مطابق احمد آباد سے تعلق رکھنے والی عائشہ کی شادی پڑوسی ریاست راجستھان سے جالور سے تعلق رکھنے والے عارف خان سے 2018 میں عارف خان سے ہوئی تھی۔
عائشہ کے والد جو پیشہ کے اعتبار سے ٹیلر نے بتایا کہ شادی کے بعد سے انکی لڑکی عائشہ کو شوہر عارف خان کے بشمول سسرالی ارکان خاندا ن مسلسل ہراساں و پریشاں کررہے تھے اپنے مطالبہ کی مانگ کی عدم تکمیل پر عائشہ کو میکے لاکر چھوڑ دیا تھابعد ازاں ددنوں خاندان کے بزرگوں کے افہام و تفہم کے بعد انکی بیٹی کو واپس سسرال میں بھیج دیا گیا تھا مگر 2019 میں عائشہ کو مزید جہیز کے لئے دوبارہ میکے لاکر چھوڑ دیا گیا
عارف اور اس کے اہل خانہ ڈیڑھ لاکھ روپیوں کا مطالبہ کیا گیا جس کو کسی نہ کسی طرح کرکے عائشہ کے والد نے دیا تھا اسکے باوجود مزید جہیز کا مطالبہ کرتے ہوئے عائشہ کو چھوڑ دیا۔شوہر کی جانب سے جہیز کی ہراسانی سے تنگ آکر عائشہ نے سابرمتی ندی میں چھلانگ لگاکر خودکشی کرلی

عائشہ نے خودکشی سے قبل اپنے والدین کو فون بھی کیا تھااور کہاکہ میں سابرمتی ندی کے پل پر کھڑی ہے اور مرنے جارہی ہےوہ زندگی سے ہار گئی ہے ۔عائشہ کے والدین‘ بہت منت سماجت کی اور بہت سمجھانے کی کوشش کی ‘ یہاں تک کہ اسکے قرآن کی قسم دی ‘ نہ سننے کی صورت میں گھر کے تمام افراد کی جانب سے بھی خودکشی کرنے کی دھمکی دی ‘، لیکن عائشہ نے ایک نہ سنی‘ا س نے کہا کہ اب یہ بہت زیادہ ہوچکا ہے‘ اب زندہ رہنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ عائشہ صرف روتی رہی اور کہا عارف مجھے لینے نہیں آرہا ہےمیں نے کچھ دن پہلے اسے فون کیا تھااورکہا تھاکہ اگر آپ کے بغیر مرجائیں گے تو عارف نے کہاکہ مرنا ہے تو مر جاو‘ اور مرنے کا ویڈیو بنانے کے بھیج دینا،اور میں نے ویڈیو بنانے کے بھیج دیا ہے اور اسکے مجھ سے آزادی دیدی ہے
عائشہ نے اپنے والدین کہاکہ‘اگر میں ندی میں کود نے کے بعد بچ جاتی ہوں تو مجھے لئے جاو او رمرجاتی ہوں تو دفنادو۔ عائشہ نے خودکشی کرنے سے پہلے ایک جذباتی‘ رلادینے والا ویڈیوہنستے ہوئے بنائی ، جسکے ذریعہ والدین اور دستوں کو پیغام دے رہی تھی کہا

 

السلام علیکم! ، میرا نام عائشہ عارف خان ہے کیا کہیں یو سمجھ لیجئے خدا کی زندگی شاید اتنی ہی ہوتی ہے ‘ او رڈئیر ڈایڈ ‘ یار کب تک لڑینگ اپنوں سے ‘ عائشہ لڑائیوں کے لئے نہیں بنی ہے‘ پیار کرتے ہیں عارف سے‘اسے پریشان تھوڑے نہ کریں‘اگر اسے آزادی چاہیے تو ٹھیک ہے وہ آزاد رہے‘ چلو اپنی زندگی تو یہیں تک ہے‘ میں خوش ہوں کہ میں اللہ سے ملوں گی’انھیں کہوں کی کہ میرے غلطی کہاں ہوگئی‘ ماں باپ بہت اچھے ملے‘ دوست بہت اچھے ملے‘بس ایک کمی رہ گئی ‘ سکون سے جانا چاہتی ہوں‘اللہ سے دعاء کرتی ہوں کہ اب دوبارہ انسانوں کی شکل نہ دیکھائے‘کچھ محبت نکاح کے بعد بھی ادھوری رہتی ہےاور مجھے

دعاؤں میں یاد کرنا‘ کیا پتہ جنت ملے یا نہ ملے‘چلو الواع!