Praja Darbar F

تلنگانہ پرجا بھون میں عوامی دربار کا آغاز۔ لوگوں کی لمبی قطاریں

تازہ خبر تلنگانہ
تلنگانہ پرجا بھون میں عوامی دربار کا آغاز۔ لوگوں کی لمبی قطاریں
 چیف منسٹر ریونت ریڈی نے براہ راست لوگوں سے درخواستیں قبول کیں
حیدرآباد: ۔8؍ڈسمبر
(زین نیوز)
تلنگانہ پرجا بھون (جیوتی راؤپھولے پرجابھون)  میں پہلے ہی دن لوگوں سے ہلچل مچ گئی ہے۔ لوگ صبح کی اولین ساعتوں سے ہی پرجا بھون کے سامنے قطار میں لگ گئے تاکہ چیف منسٹر ریونت ریڈی کو اپنے مسائل سے واقف کروایا۔ عوامی دربار میں پہچنے والوں کے لئے پولیس نےخصوصی انتظامات کیے ہیں۔تاکہ کسی قسم کی بد نظمی نہ ہو
چیف منسٹر تلنگانہ ریونت ریڈی کی حلف برداری کے دن ہی انھوں نے کہاکہ تھا کہ عوام کے لئے پرجا بھون کے دروازے کھلے رہیں گے  انہوں نے کہا کہ وہ عوام کے لیے دستیاب رہیں گے۔انھوں لوگوں کو پرجا بھون آنے کے لیے بلایاتھا
وزیر اعلیٰ تلنگانہ مسٹر اے ریونت ریڈی کے بطور چیف منسٹر  حلف لینے کے دوسرے دن ہی پرجا بھون میں پرجا دربار کا آغاز عمل میں آیاہے اور عوام کی جانب سے زبردست ردعمل دیکھنے کو ملا جمعہ کی صبح چیف منسٹر ریونت ریڈی اپنی گاڑی میں جوبلی ہلز میں واقع اپنی رہائش گاہ سے پرجا بھون پہنچے۔ جس کے بعد میں عوامی دربار شروع ہوا۔
 سی ایم ریونت ریڈی کے ساتھ ڈپٹی سی ایم بھٹی وکرمارکا اور وزراء نے شرکت کی۔ سی ایم ریونت ریڈی  اور وزراء براہ راست لوگوں سے درخواستیں قبول کی  ہیں۔ وہیں دوسری طرف پرجا دربار کو  عوام کی جانب سے اچھا رسپانس مل رہا ہے۔
جس میں ریاست بھر سے لوگوں بڑی تعداد میں لوگ اپنی شکایات درج کرانے  پہنچے۔  جمعہ کو منعقد ہونے والے پہلے عوامی دربار کے لئے گرین لینڈس میں جیوتی راؤ پھولے پرجا بھون کے سامنے لمبی قطاریں دیکھی گئیں ہیں۔
 ارمنزل سے  علاقہ سے تعلق رکھنے والے ناگیش نے کہا کہ وہ 2BHK گھر کے لیے درخواست دینے کے لیے وہاں موجود تھے۔ متعدد انجمنوں اور گرام پنچایتوں کے نمائندوں سمیت کئی دوسرے بھی ہیں۔
عوامی  دربار سے رجوع ہونے والی عوام کے لئے حکام نے ایک ہیلپ ڈیسک قائم کیا ہے جہاں لوگوں کو اپنی اور اپنی شکایات درج کرانی ہوں گی یا درخواستیں جمع کرانی ہوں گی، جس کے بعد عہدیدار انہیں مزید کارروائی کے لیے اندر بھیجیں گے۔
پرجا بھون میں ہفتہ وار عوامی دربار منعقد ہوگا اور پرجا بھون ہر جمعہ کو عوام کے لیے کھلا رہے گا۔بقیہ دنوں میں حکام ان کو وصول کر کے کوئی حل تجویز کریں گے۔ اس بات کا امکان ہے کہ سی ایس یا دیگر افسران اس پروگرام کو ان دنوں جاری رکھیں گے جب ریونت ریڈی حیدرآباد میں دستیاب نہیں ہوں گے۔
متاثرین کا خیال ہے کہ اگر وہ انہیں براہ راست وزیراعلیٰ کی توجہ دلائیں تو ان کے مسائل حل ہو جائیں گے۔ عوامی دربار میں مختلف محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔