کون ہے؟ ISIS دلہن شمیمہ بیگم

تازہ خبر عالمی

شہریت دینے سے برطانیہ ‘ نیدر لینڈ اور بنگلہ دیش کا انکار
لندن :2؍مارچ
(ویب ڈیسک)
پندرسال کی عمر میں لندن سے ملک شام بھاگ کر اسلامک اسٹیٹ میں شامل ہونے گئی شمیمہ بیگم نے واپس برطانیہ لوٹنے کیلئے عدالت میں عرضی داخل کی تھی ۔ اب سپریم کورٹ آف برطانیہ نے نہ صرف شمیمہ کی عرضی خارج کردی ہے بلکہ مستقبل میں بھی وہ برطانیہ کی شہریت واپس پانے کیلئے کوئی کیس نہیں کرسکے ، اس کا بھی بندوبست کردیا ہے ۔
برطانوی عدالت کا کہنا ہے کہ شمیمہ کی واپسی سے ملک کو خطرہ ہوسکتا ہے ۔آئی ایس آئی ایس دلہن کا نام سال 2019 میں سرخیوں میں آیا تھا ، جب اس کو شام کیمپ میں نو مہینے کی حاملہ پایا گیا تھا ۔ بچے کی پیدائش کے ساتھ ہی نمونیا سے موت ہوگئی تھی ۔ شمیمہ نے بتایا کہ پہلے بھی اس کے دو بچوں کی موت ہوچکی تھی ۔ اس کے بعد سے شمیمہ کے نام پر حقوق انسانی کی تنظیمیں شور مچانے لگیں ۔
تنظیموں کا کہنا تھا کہ شمیمہ نوعمری میں غلط لوگوں کی صحبت میں آگئی تھی ، جس کی وجہ سے اس نے دہشت گردوں سے وابستہ ہونے جیسا قدم اٹھایا اور اب اس کو واپس عام لوگوں کے ساتھ رہنے کا موقع ملنا چاہئے ۔اس کے ساتھ ہی شمیمہ بیگم کو برطانوی شہریت لوٹانے کی مہم چل پڑی ۔ بتادیں کہ شمیمہ سال 2015 میں آئی ایس آئی ایس سے وابستہ ہونے کیلئے بیتھنل گرین سے فرار ہوگئی تھی ۔
وہ سال 2019 میں مارچ میں شام کے ایک پناہ گزیں کیمپ میں نظر آئی ۔ بدحال شمیمہ اس وقت اچانک سب کی ہمدردیوں کا مرکز بن گئی ۔ حالانکہ دہشت گرد تنظیم سے وابستگی اور سیکورٹی وجوہات کی وجہ سے برطانیہ کی وزارت داخلہ نے اس وقت شمیمہ کی شہریت ختم کردی تھی ۔شمیمہ اور حقوق انسانی کی تنظیم کے وکیل اس کی برطانوی شہریت واپس پانے کیلئے کوشش کررہے تھے ۔
اس کولے کر حال ہی میں فیصلہ آیا ہے ، جس کے تحت وہ نہ تو برطانوی شہریت واپس پاسکے گی اور نہ ہی مستقبل میں شہریت کو لے کر دوبارہ عرضی داخل کرسکے گی ۔شمیمہ کے والدین کا بنگلہ دیش سے تعلق ہونے کی وجہ سے یہ مانا جارہا تھا کہ برطانیہ کی عدالت کے انکار کرنے پر وہ شاید بنگلہ دیش لوٹ سکے ۔ حالانکہ بنگلہ دیش نے بھی اس بات سے انکار کرتے ہوئے شمیمہ کیلئے سخت رویہ اختیار کیا ۔
وہاں کے وزیر خارجہ عبد المومن کے مطابق چونکہ شمیمہ دہشت گرد تنظیم سے وابستہ تھی ، اس لئے بنگلہ دیش کے اس کے اپنے یہاں جگہ دینے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ہے ۔اس درمیان شمیمہ کے شوہر اور آئی ایس آئی ایس کے دہشت گرد یاگو ریڈجیک نے اپنے ملک نیدرلینڈ سے مدد مانگی ۔ ڈچ نزاد کا یہ دہشت گرد بھی آئی ایس آئی ایس سے وابستہ ہونے کیلئے شام چلا گیا تھا ۔ یہیں شمیمہ اور یاگو نے شادی کرلی ۔ اب یاگو شام کے ڈیٹینشن سینٹر میں قید ہے ۔
نیدر لینڈ نے شمیمہ کو شہریت دینے کی یاگو کی اپیل خارج کردی ہے ۔برطانیہ ، نیدر لینڈ اور بنگلہ دیش سے مایوس شمیمہ کے پاس کل ملا کر فی الحال کوئی راستہ نہیں ہے ۔ یعنی وہ دنیا میں کسی شہریت کے بغیر ہوگی ۔ اگر آپ کسی بھی ملک کے شہری نہ ہوں تو یہ حالت کافی خطرناک ہوسکتی ہے ۔ آپ کے پاس ووٹ کرنے کا حق نہیں ہوگا ۔ نہ ہی آپ کے پاس کسی قسم کی سہولیت ہوگی جو ایک ملک کے شہری کو ہوتی ہے ۔ اسکول اور کالج میں داخلہ ، نوکری ، ہیلتھ کیئر اور جائیداد کا حق بھی نہیں ہوتا ہے ۔
اگر کوئی بچہ کسی ریفیوجی سے پیدا ہوتا ہے تو وہ اسٹیٹ لیس ہوسکتا ہے ۔ کئی مرتبہ انتظامی وجوہات سے بھی کسی کے پاس شہریت نہیں ہوتی ہے اور یہاں تک کہ بچے کے جنم کے بعد اس کا صحیح طریقہ سے رجسٹریشن نہ ہوتو وہ بھی اسٹیٹ لیس ہوتا ہے ،
کیونکہ اس کے پاس کوئی سرٹیفکیٹ نہیں رہتا کہ اس کی پیدائش کہاں ہوئی ہے ۔ کسی کی شہریت تب بھی نہیں ہوسکتی ، جب وہ کسی دوسرے ملک کے شہری سے شادی کرکے آئے ، وہاں رہے اور کسی وجہ سے وہاں کی شہریت نہ لے سکے ۔ ساتھ ہی اپنی شہریت بھی سرینڈر کرچکا ہوا ۔ ایسے میں شادی ٹوٹ جانے پر وہ شخص کسی بھی ملک کا نہیں رہ جاتا ہے ۔