MP Arvind

بی جے پی ایم پی ڈی اروند کی شرانگیزی

تازہ خبر تلنگانہ
بی جے پی ایم پی ڈی اروند کی شرانگیزی
 مسلم نوجوان کے خلاف اپنی مرضی کے مطابق کارروائی کا مطالبہ
حیدرآباد:۔ 27؍ڈسمبر
(زین نیوز )
بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن پارلیمنٹ نظام آباد ڈی اروند کے اشتعال انگیز اور حملہ کروانے کے بیان کے بعد ریاست میں ہلچل مچ گئی ہے ۔ تفصیلات کے مطابق ڈی اروند نے دورہ جگتیال کے موقع پر اے سی پی کاماریڈی کو فون کیا ۔
ایک سڑک حادثہ سے متعلق انھوں نے شکایت کرتے ہوئے  عمران نامی نو جوان پر مقدمہ درج کرتے ہوئے دو دن پولیس تحویل میں رکھ کر بری طرح زدو کوب کرنے پر زور دیا اور خبردار کیا کہ ایسا نہ کرنے کی دیگر وہ اپنے چیلوں کے ذریعہ عمران کو جسمانی طور گیزید پہنچانے سے بھی گریزنہیں کریں گے ۔
 انھوں نے کہاکہ ان کے حامی عمران کی جسم کی ہڈی پھسلیاں بھی توڑ سکتے ہیں۔ یہ سب باتیں ویڈیو میں کی گئی ہیں جو سوشل میڈیا پر وائرل ہے
جس میں ڈی اروند اور اے سی پی کاما ریڈی کے درمیان ہوئی گفتگو سنائی دے رہی ہے جس میں اے سی پی کہہ رہے ہیں معمولی سا سڑک حادثہ تھا۔پولیس مقدمہ درج کرکے کارروائی کررہی ہے
 اے سی پی نے شرپسند اروند کو بتایا کہ خاطی کے خلاف مقدمہ درج کیا جارہا ہے تو فوری پلٹ کر اروند پر اپنی مرضی مسلط کرتے ہوئے سخت دفعات کے تحت کارروائی کی ہدایت دی ۔ ورنہ یہ اچھی بات نہیں رہے گی۔اگر ہمارے لوگ جاکر کارروائی کرنے پر نہ روئیں
لا اینڈ آرڈر آگر آپ پہلے سے کنڑول میں رکھ لیں تو یہ نوبت نہیں آئے گی اور سر پر نہ چڑھا لیں تو ایسا نہیں ہوگا۔ سر پر چڑھا لینے سے یہ سب مسلئے ہورہے ہیں
اے سی پی نے کہاکہ قانون کے لئے سب مساوی ہیں جس پر اروند نے کہاکہ
تم ایک اے سی پی ہوکر پروفیسر کی طرح تیار ہوئے ہیں
 ۔ دھرم پوری اروند کے اشتعال انگیز بیان اورایک اے سی پی سطح کے عہدیدار کے تئیں ریمارکس پر ہنگامہ برپا ہے
کے بعد سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا ہے ۔ سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے اروند بیان پر سخت تنقید ہورہی ہے ۔

ڈی اروند کے بیان سے یہی ظاہر ہورہا ہے کہ وہ قانون بالاتر ہیں۔ یہی نہیں اے سی پی سے بات کرتے ہوئے ڈی اروند نے عمران کا نام لینے کے بجائے ذلت آمیز فقرہ ( ترکوڑ) کا استعمال کیا