کرناٹک :زبان کے تنازعہ پر بنگلورو میں کئی مقامات پر مظاہرے
ہندی۔انگریزی زبان کے سائن بورڈز سیاہ
ہوٹلوں، دکانوں اورخانگی کمپنیوں کے دفاتر کے باہر توڑ پھوڑ
بنگلورو :۔27؍ڈسمبر
(زین نیوز ڈیسک)
کرناٹک میں بدھ کو دائیں بازو کے ایک گروپ کرناٹک رکشنا ویدیکے، جو کنڑ زبان کے جبری استعمال پر زور دے رہا ہے
کے ارکان کی جانب سے ریاست کے دارالحکومت بنگلورو میں بشمول کیمپی گوڑا بین الاقوامی ہوائی اڈے اور اعلیٰ سطح کے کاروبار پر پرتشدد مظاہرے کیے جانے کے بعد کرناٹک میں زبان کا تنازعہ تیزی سے بڑھ گیا
زبان کے تنازعہ پر بدھ (27 دسمبر) کو بنگلورو میں کئی مقامات پر مظاہرے ہوئے۔ مظاہرین نے کیمپے گوڑا ہوائی اڈے، ہوٹلوں، دکانوں اورخانگی کمپنیوں کے دفاتر کے باہر توڑ پھوڑ کی۔
شرپسندوں نے ان جگہوں کو نشانہ بنایا جن کے سائن بورڈز پر کنڑ کے بجائے ہندی یا انگریزی لکھا ہوا تھا۔ مظاہرین نے ایسے سائن بورڈز کو پھاڑ دیا یا انہیں کالا کر دیا۔
دکانوں اور کاروباری اداروں کے انگریزی زبان کے سائن بورڈز کو کرناٹک رکشنا ویدیکے، کے غنڈوں نے نقصان پہنچایا، جنہوں نے اعلان کیا کہ اس طرح کے نشانات کرناٹک کی سرکاری زبان کو کمزور کر رہے ہیں جو کنڑ ہے۔ پولیس نے کے آر وی کنوینر ٹی اے نارائن گوڑا سمیت کئی مظاہرین کو حفاظتی تحویل میں لے لیا ہے۔
#WATCH | Bengaluru: Kannada Raksha Vedhike holds a protest demanding all businesses and enterprises in Karnataka to put nameplates in Kannada. pic.twitter.com/ZMX5s9iJd0
— ANI (@ANI) December 27, 2023
درحقیقت بروہت بنگلورو میونسپل کارپوریشن (بی بی ایم پی) نے 25 دسمبر کو ایک حکم نامہ جاری کیا تھاجس میں شہر کی تمام دکانوں، ہوٹلوں اور مالوں میں نصب سائن بورڈز پر 60 فیصد کنڑ زبان کو لازمی قرار دیا گیا تھا۔
اس کے لیے دکانداروں کو 28 فروری تک کا وقت دیا گیا ہے۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں دکانوں کا لائسنس منسوخ کیا جا سکتا ہے۔ بی بی ایم پی کی طرف سے یہ حکم آنے کے بعد لوگوں نے احتجاج شروع کر دیا اور مطالبہ کیا کہ اس حکم کو فوری نافذ کیا جائے۔
سی ایم نے کہا تھاکہ ہر کسی کو کنڑ بولنا چاہئے۔کرناٹک کے وزیر اعلی سدارامیا نے اکتوبر 2023 میں کہا تھا کہ بہت سی زبانیں بولنے والے لوگ یہاں آکر آباد ہوئے ہیں لیکن ہم سب کو کنڑ بولنا چاہئے۔
تمل ناڈو، کیرالہ، تلنگانہ اور اتر پردیش جیسی ریاستوں میں مقامی زبان سیکھے بغیر زندہ رہنا مشکل ہے، لیکن کرناٹک میں آپ زندہ رہ سکتے ہیں۔ کنڑیگا اپنی زبان سکھانے کے بجائے دوسری ریاستوں کے لوگوں کی زبان سیکھ رہے ہیں۔