Gyanvapi-Masjid

گیان واپی معاملہ: سپریم کورٹ نے مہر بند ‘ وضو خانے کی صفائی کی اجازت دی

تازہ خبر
گیان واپی معاملہ: سپریم کورٹ نے مہر بند ‘ وضو خانےکی صفائی کی اجازت دی
 ہندو فریق کے مطالبہ کو منظوری۔ چھیڑ چھاڑ نہیں ہونی چاہئے۔
صفائی ضلع مجسٹریٹ کی نگرانی میں ہو
نئی دہلی :۔16؍جنوری
(زین نیوز ڈیسک)
اتر پردیش کے وارانسی میں گیان واپی کیمپس میں وضو خانے کی صفائی کی جائے گی۔ سپریم کورٹ نے منگل کو یہ حکم دیا ہے۔
سپریم کورٹ نے ہندو فریق کے مطالبے پر یہ حکم دیا اور کہا کہ وہاں صفائی کا کام ضلع مجسٹریٹ (ڈی ایم) کی نگرانی میں ہونا چاہیے۔۔ اس دوران وضوخانے کے (فوارہ) ڈھانچے کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں کرنی چاہیے۔
منگل کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی سربراہی والی بنچ میں اس کیس کی سماعت ہوئی۔ 3 جنوری کو انہوں نے درخواست پر جلد سماعت کا یقین دلایا تھا۔
چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندرچوڑ، جسٹس جے بی پردی والا اور منوج مشرا کی قیادت والی بنچ نے وارانسی کے ایس ڈی ایم کو ٹینک کی صفائی کی نگرانی کرنے کی ہدایت دی۔
بنچ نے مسلم فریق کی اس دلیل کو دھیان میں لیا کہ انہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ مسلم فریق کے سینئر وکیل حذیفہ احمدی نے بنچ کو بتایا کہ ان کے موکل کو پانی کے ٹینک کی صفائی پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔
 انتظامیہ صفائی کرے۔اس کے بعد بنچ نے ہدایت دی کہ پانی کے ٹینک کی صفائی اس عدالت کے سابقہ ​​احکامات کو مدنظر رکھتے ہوئے ضلع انتظامیہ وارانسی کی نگرانی میں کرائی جائے۔
مئی 2022 میں کمشنر کے سروے کے دوران گیان واپی کے وضو خانے میں بنائے گئے ٹینک میں مبینہ طور پرفوارہ  چشمہ پایا گیا تھا۔
ہندو فریق نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ شیولنگ ہے۔ جبکہ مسلم فریق یعنی انجمن انتظامہ مسجد کمیٹی نے اسے چشمہ(فوارہ) قرار دیا تھا۔ اس کے بعد 17 مئی 2022 کو وارانسی کورٹ نے اس وضوخانے کو سیل کرنے کا حکم دیا تھا۔ تب سے کمپلیکس کا یہ علاقہ سیل ہے۔
اس سال 2 جنوری کو ہندو فریق کے وکیل وشنو شنکر نے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی تھی۔ اس میں گیان واپی کمپلیکس میں پائے جانے والے مبینہ ڈھانچے کے سیل شدہ علاقے کی صفائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ  پانی کی ٹینک میں مچھلیاں مر چکی ہیں۔ مئی 2022 سے اس کی صفائی نہیں ہوئی ہے۔ منگل کو اس پر سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے وضاحت کا حکم دیا۔