افغانستان میں گر کر تباہ ہونے والا طیارہ ہندوستانی نہیں تھا

تازہ خبر عالمی
افغانستان میں گر کر تباہ ہونے والا طیارہ ہندوستانی نہیں تھا
 پاک افغان میڈیا نے اسے ہندوستانی طیارہ قرار دیا تھا۔
نئی دہلی :۔21؍جنوری
(زین نیوز ڈیسک)
 افغانستان کے علاقے بدخشاں خان میں اتوار کو ایک طیارہ گر کر تباہ ہو گیا۔ پاکستان اور افغانستان کے میڈیا ہاؤسز نے بتایا تھا کہ یہ بھاہندوستانی طیارہ تھا۔
تاہم شہری ہوا بازی کی وزارت نے کہا کہ یہ طیارہ ہندوستان کا نہیں ہے۔ یہ مراکش میں رجسٹرڈ ایک چھوٹا طیارہ ہے۔ جو فنی خرابی کے باعث راستہ کھو کر گر کر تباہ ہو گیا۔
تحقیقات کے لیے ٹیم بھیج دی ہے۔رات 12 بج کر 45 منٹ پر افغان میڈیا کے حوالے سے بتایا گیا کہ یہ طیارہ ہندوستان کا تھا،جو ماسکو جا رہا تھا۔

آدھے گھنٹے میں پھر اطلاع آئی کہ یہ ہندوستانی مسافر طیارہ نہیں ہے۔ درحقیقت افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے کوئی بھی ہندوستانی طیارہ ان کی فضائی حدود سے نہیں گزر رہا ہے۔
دریں اثنا، طلوع نیوز نے بدخشاں محکمہ اطلاعات کے ترجمان ذبیح اللہ امیری کے حوالے سے بتایا کہ واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک ٹیم علاقے میں بھیج دی گئی ہے۔
طالبان نے حادثے کی تحقیقات کے لیے ٹیم بھیجی۔طیارےکے حادثے کے حوالے سے مختلف دعوؤں کے درمیان طلوع نیوز نے بدخشاں کے محکمہ اطلاعات کے ترجمان ذبیح اللہ امیری کے حوالے سے کہا کہ واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک ٹیم علاقے میں بھیج دی گئی ہے۔ طیارے اور حادثے کے بارے میں مزید معلومات تحقیقات کے بعد ہی متوقع ہیں۔
گر کر تباہ ہونے والا طیارہ DF-10 ماڈل کا چھوٹا طیارہ تھا۔معلومات کے مطابق افغانستان میں گر کر تباہ ہونے والا چھوٹا طیارہ DF-10 ماڈل کا تھا۔
یہ ایک چھوٹا 2 انجن والا طیارہ ہے، جس میں 6 مسافروں اور عملے کے ارکان کو لے جانے کی گنجائش ہے۔ اسے چارٹرڈ فلائٹ یا ایئر ایمبولینس کے طور پر چلایا جاتا ہے۔
DF-10 ماڈل کے ہوائی جہاز کی رینج بہت لمبی نہیں ہوتی، یعنی ایک بار ایندھن بھرنے کے بعد یہ بہت لمبی دوری کا سفر نہیں کر سکتا۔ اس وجہ سے تھائی لینڈ سے آتے ہوئے ہندوستان کے بہار کے گیا ایئرپورٹ پر ایندھن لے گیا تھا۔
ہندوستانی فضائی کمپنیاں افغان فضائی حدود استعمال نہیں کرتیںافغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد یعنی 2021 کے بعد کوئی ہندوستانی طیارہ افغان فضائی حدود سے نہیں گزر رہا ہے۔
یہ سیکورٹی وجوہات کی بنا پر کیا جا رہا ہے۔ ایسی صورت حال میں، مغربی ممالک کے لیے پرواز کے دوران، ایئر لائنز کو ازبکستان کے راستے تھوڑا طویل فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے۔