Zeeshan Siddiqi

 بابا صدیقی کے قتل میں 4 نہیں 10-15 لڑکے ملوث تھے

تازہ خبر قومی
 بابا صدیقی کے قتل میں 4 نہیں 10-15 لڑکے ملوث تھے
ایم ایل اے فرزند  بیٹا ذیشان صدیقی بھی ٹارگٹ تھا۔ تفتیش کے دوران ملزم کا اعتراف
ممبئی:۔14؍اکتوبر
(زین نیوز ڈیسک)
ممبئی پولیس کے مطابق این سی پی رہنما بابا صدیق کے قتل میں ملوث شوٹروں نے ان کے بیٹے ذیشان کو بھی نشانہ بنانا تھا۔ تفتیش کے دوران ملزمان نے انکشاف کیا کہ انہیں بابا صدیقی اور ذیشان صدیق دونوں کو قتل کرنے کے احکامات تھے ا
 ممبئی پولیس نے پیر کو کہا کہ بیٹا ذیشان صدیقی بھی شوٹروں کا نشانہ تھا۔ پولیس نے بتایا کہ ملزم نے تفتیش کے دوران اس بات کا اعتراف کیا ہے۔
ملزم نے بتایا کہ اسے بابا صدیقی اور ذیشان دونوں کو گولی مارنے کا حکم ملا تھا اسے کہا گیا تھا کہ جس کو ملے اسے مار ڈالو۔ چند روز قبل ذیشان کو بھی دھمکیاں دی گئی تھیں۔پولیس نے کرلا میں اس کمرے کی بھی چھان بین کی جہاں ملزم ایک ماہ تک ٹھہرا تھا۔ یہیں سے قتل کی سازش رچی گئی۔
کیس میں اب تک 6 ملزمین دھرم راج، شیو کمار، گرمل، ذیشان اختر، شبھم لونکر اور پروین لونکر کے نام سامنے آئے ہیں۔ دھرم راج، گرمل اور پروین لونکر کو گرفتار کیا گیا ہے۔
دھرم راج اور گرمل کو 13 اکتوبر کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں دھرم راج نے عدالت کو بتایا کہ وہ نابالغ ہے۔ ہڈیوں کے ٹیسٹ میں ان کا دعویٰ مسترد کر دیا گیا۔ گرومل کے علاوہ پروین لونکر کو پولیس ریمانڈ پر بھیجا گیا ہے۔ لارنس گینگ نے بابا صدیقی کے قتل کی ذمہ داری قبول کر لی۔
12 اکتوبر کی رات این سی پی اجیت دھڑے کے لیڈر بابا صدیقی کا باندرہ میں ان کے بیٹے ذیشان کے دفتر کے باہر قتل کر دیا گیا۔
بابا صدیقی قتل کیس میں نیا زاویہ سامنے آگیا۔ این سی پی اجیت دھڑے کے لیڈر صدیقی کے قتل میں چار ملزم نہیں بلکہ 10-15 لوگوں کا گروپ ملوث تھا۔
ذرائع نےمیڈیا کو بتایا کہ بابا صدیقی ہفتہ کی رات اپنے بیٹے ذیشان کے دفتر سے گھر جا رہے تھے۔ سڑک پر دسہرہ کی پٹاخے چل رہی تھیں۔ اسی دوران 10-15 لڑکوں کا ایک گروپ آیا اور بابا صدیقی سے پوچھا کہ کیا آپ ہمارے ساتھ دسہرہ نہیں منائیں گے؟
بابا صدیقی اکثر ایسی تقریبات میں لوگوں کے درمیان جایا کرتے تھے۔ اس نے ہفتہ کی رات بھی ایسا کیا۔ انہوں نے لڑکوں کے کہنے پر آتش بازی شروع کر دی۔ اس کے بعد جب وہ کار کی اگلی سیٹ پر بیٹھنے لگا تو پٹاخوں کی آواز کے درمیان تین شوٹروں نے ان پر فائرنگ کردی۔
 حملہ آوروں نے پٹاخہ پھوڑا تھا جس سے بابا کے پیروں کے قریب دھواں پھیل گیا جس کی وجہ سے اندھیرا چھا گیا۔ واقعے کے وقت پولیس کی گاڑی تھوڑے فاصلے پر تھی۔
سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ بھی سامنے آئی ہے جس میں لارنس گینگ نے قتل کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ پولیس اس پوسٹ کی تحقیقات کر رہی ہے۔ پوسٹ کرنے والے شخص کا نام شبو لونکر ہے اور اس نے پوسٹ میں لارنس بشنوئی، انمول بشنوئی کو ٹیگ کیا ہے۔
 ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ حملہ آور نہ صرف بابا صدیقی بلکہ ان کے بیٹے ذیشان صدیقی کو بھی قتل کرنے والے تھے تاہم  ذیشان صدیقی بال بال بچ گئے۔ ذرائع نے بتایا کہ ذیشان کھانا کھانے کے لیے وہاں رکے تھے۔
 ذیشان صدیقی دفتر میں بیٹھے کھانا کھا رہے تھا کہ اچانک گولی چلنے کی آواز آئی۔ بابا صدیقی کے قتل کے ساتھ ہی حملہ آور منتشر ہوگئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ذیشان صدیقی کھانا کھانے سے باز نہ آتے تو انہیں بھی قتل کیا جا سکتا تھا