Masjid Puranipet

جگتیال کی تمام مساجد میں وقف ترمیمی قانون کے خلاف خاموش احتجاج 

تازہ خبر تلنگانہ
جگتیال کی تمام مساجد میں وقف ترمیمی قانون کے خلاف خاموش احتجاج 
جگتیال،:۔11 اپریل
 (زین نیوز)
مرکزی حکومت کی جانب سے پارلیمنٹ میں منظور شدہ وقف ترمیمی قانون کے خلاف آج جگتیال کی تمام مساجد میں خاموش و پُرامن احتجاج درج کیا گیا۔ یہ احتجاج آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی اپیل پر مرکزی کمیٹی ملت اسلامیہ اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی (JAC) جگتیال کے اشتراک سے منظم کیا گیا۔
شہر کی تمام بڑی مساجد میں نماز جمعہ سے قبل اور بعد، سینکڑوں مصلیان بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر مساجد میں داخل ہوئے اور ہاتھوں میں احتجاجی پلے کارڈس تھامے خاموشی کے ساتھ اپنا احتجاج درج کروایا۔ پلے کارڈس پر "وقف ہمارا حق ہے”، "بل واپس لو”، "اقلیتوں کے حقوق پر حملہ نامنظور” جیسے جملے درج تھے۔
اس موقع پر مرکزی کمیٹی ملت اسلامیہ اور جے اے سی کے ذمہ داران نے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت نے پارلیمنٹ میں جس عجلت سے وقف ترمیمی بل کو منظور کیا، وہ نہ صرف افسوسناک بلکہ اقلیتوں کے آئینی و مذہبی حقوق پر ایک براہ راست حملہ ہے۔ اس قانون کے ذریعے اوقافی جائیدادوں پر سرکاری کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک کی جمہوری اقدار، آئینی تحفظات اور اقلیتوں کے وقار کو پامال کرنے والے اس قانون کے خلاف ملک بھر کے مسلمان متحد ہیں۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ مرکزی حکومت فوری طورپر اس قانون کو واپس لے۔ کے اختتام پر اعلان کیا گیا کہ ہندوستان کے مسلمان وقف ترمیمی قانون کے مکمل خاتمے تک اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔
 اس موقع پر صدر مرکزی کمیٹی ملت اسلامیہ جگتیال محمد عبدالباری، محمدریاض خان،محمد مجیب الدین‘ علماء و حفاظ حافظ سید ابرارشریف، حافظ سید شمس الدین تبریز،مفتی یونس قاسمی، حافظ اسلم رشیدی،حافظ شاداب، مولاناشیخ امام،محمد منعم الدین‘محمد حبیب الدین‘ محمد ارشاد‘  صدور مساجد اور دیگر نے حصہ لیا