جنہیں صحافت کی بنیادی الف، ب بھی نہیں آتی خود کو صحافی کہہ رہے ہیں
یہ رجحان نہ صرف پیشہ ورانہ صحافت بلکہ قومی سلامتی پر بھی سوالیہ نشان بن سکتا ہے
سوشل میڈیا کے نقلی صحافیوں اور سیاسی جماعتوں کی پے رول صحافت پر ریونت ریڈی کی کڑی تنقید
حیدرآباد یکم؍ اگست
(زین نیوز)
وزیر اعلیٰ تلنگانہ مسٹر ریونت ریڈی نے موجودہ صحافتی رجحانات پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صحافت جیسے معزز اور ذمہ دار شعبے کو بعض سیاسی جماعتیں اور سوشل میڈیا کے جعلی صحافی نقصان پہنچا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے افراد جو جرنلزم کی بنیادی ابجد (الف، ب) سے بھی واقف نہیں، آج سوشل میڈیا پر خود کو ’جرنلسٹ‘ ظاہر کر رہے ہیں، جس سے صحافت کی ساکھ کو سنگین خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔
وزیراعلیٰ جمعہ کے روز "نوَ تلنگانہ” روزنامہ کے دسویں یومِ تاسیس کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہاکہ”آج کل ایسے لوگ بھی سوشل میڈیا پر صحافی بنے پھر رہے ہیں جنہیں صحافت کی بنیادی الف، بے بھی نہیں آتی۔ یہ رجحان نہ صرف پیشہ ورانہ صحافت کے لیے خطرناک ہے بلکہ قومی سلامتی پر بھی سوالیہ نشان بن سکتا ہے۔
ریوَنت ریڈی نے کہا کہ موجودہ دور میں صحافتی اداروں کی بڑی تعداد غیر جانب دارانہ صحافت سے دور ہو چکی ہے، تاہم "نوَ تلنگانہ” ان چند اداروں میں شامل ہے جو مسلسل عوام کے حق میں آواز بلند کر رہے ہیں اور اقتدار کی پرواہ کیے بغیر حقائق اجاگر کرتے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ:”تحریک آزادی کے دوران اخبارات نے ملک کو بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
اسی طرح سوشلسٹ تحریک اور کسانوں کی مسلح جدوجہد کے وقت بھی کمیونسٹ تحریک سے وابستہ اخبارات نے عوام میں شعور بیدار کیا۔ ’نوَ تلنگانہ‘ اسی صحافتی وراثت کا تسلسل ہے۔”وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ ماضی میں سیاسی جماعتیں اپنے نظریات عوام تک پہنچانے کے لیے صحافت کا سہارا لیتی تھیں، لیکن آج وہی جماعتیں صحافت کو اپنے مالی مفادات اور سیاسی غلطیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔
آج بعض سیاسی جماعتوں کے زیر اثر اخبارات کا مقصد صحافت نہیں بلکہ اپنے لیڈروں کی غلطیوں پر پردہ ڈالنا اور صرف اپنی آمدنی کا تحفظ بن گیا ہے۔ اس طرز عمل سے ’صحافی‘ کی پہچان مٹ رہی ہے۔”انہوں نے کہا کہ جرنلزم کے بھیس میں کام کرنے والے افراد پر اصل صحافیوں کو نظر رکھنی چاہیے تاکہ صحافت کی ساکھ کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ اب وقت آ چکا ہے کہ اصل صحافی میدان میں آئیں اور ’جرنلسٹ‘ کے مفہوم کو ازسرِ نو متعین کریں۔ ہم ماضی میں جب پریس کانفرنس کرتے تھے تو رپورٹرز سے موضوع پر سوالات آتے تھے، مگر آج ماحول بدل چکا ہے۔ بعض لوگ صرف سیاسی ہدایت پر آتے ہیں، نہ ان کے سوال میں دم ہوتا ہے نہ صحافتی شعور۔انہوں نے مزید کہا کہ کچھ سیاسی جماعتیں جان بوجھ کر صحافتی اداروں کو بے اثر کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، جس پر تمام مخلص صحافیوں کو مل کر روک لگانی چاہیے۔
