راہول گاندھی کا الیکشن کمیشن پر سنگین الزام
بی جے پی کے حق میں مبینہ طور پر "ووٹ چوری” میں ملوث
ہمارے پاس ایٹم بم ہے، جب پھٹے گا تو الیکشن کمیشن نہیں بچے گا
نئی دہلی:۔ یکم؍اگسٹ
(زین نیوز ڈیسک)
کانگریس کے سینئر رہنما اور رکن پارلیمنٹ راہول گاندھی نے ایک بار پھر الیکشن کمیشن آف انڈیا کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے بی جے پی کے حق میں مبینہ طور پر "ووٹ چوری” میں ملوث قرار دیا ہے۔ گزشتہ 9 دنوں کے دوران یہ دوسرا موقع ہے جب راہول گاندھی نے انتخابی ادارے پر دھمکی آمیز انداز میں الزامات عائد کیے ہیں۔
جمعہ کے روز پارلیمنٹ سے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راہول گاندھی نے کہا:”الیکشن کمیشن ووٹ چوری کر رہا ہے۔ ہمارے پاس ایٹم بم ہے، اور جب وہ پھٹے گا تو الیکشن کمیشن نہیں بچے گا۔ ہم ان افراد کو نہیں چھوڑیں گے جو الیکشن کمیشن کے اندر بیٹھ کر بھارت کے خلاف کام کر رہے ہیں، جو کہ غداری کے مترادف ہے۔ چاہے وہ ریٹائر ہو جائیں، ہم انہیں ڈھونڈ نکالیں گے۔
راہول گاندھی نے اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) مشق پر بڑھتے ہوئے تنازعہ کے درمیان جمعہ کو دعویٰ کیا کہ حزب اختلاف کی آزادانہ تحقیقات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو فائدہ پہنچانے کے لیے الیکشن کمیشن آف انڈیا کے بڑے پیمانے پر "ووٹ چوری” میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
راہول گاندھی نے واضح کیا کہ وہ ان باتوں کو محض سیاسی بیان بازی کے طور پر نہیں کہہ رہے بلکہ ان کے پاس اس سلسلے میں "سو فیصد ثبوت” موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جیسے ہی یہ ثبوت منظر عام پر آئیں گے، پورے ملک کو معلوم ہو جائے گا کہ الیکشن کمیشن کس طرح بی جے پی کے حق میں ووٹ چوری میں ملوث رہا ہے۔
قبل ازیں 24 جولائی کو بھی سخت وارننگیاد رہے کہ 24 جولائی کو بھی راہول گاندھی نے الیکشن کمیشن کو سخت لہجے میں خبردار کرتے ہوئے کہا تھا:”اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ اس سے بچ نکلیں گے، تو یہ آپ کی خام خیالی ہے۔ ہم آپ کو اس معاملے سے آسانی سے نہیں نکلنے دیں گے۔”انہوں نے الزام لگایا کہ کرناٹک کی ایک نشست پر بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں کی گئی ہیں، جہاں ہزاروں کی تعداد میں 50، 60 اور 65 سال کے نئے ووٹرز کو فہرست میں شامل کیا گیا ہے
، جب کہ 18 سال سے زائد عمر کے اہل ووٹرز کو خارج کر دیا گیا ہے۔راہول گاندھی نے کہا:”ہم نے صرف ایک نشست کی چھان بین کی، اور وہاں بھی ہمیں سنگین تضادات ملے۔ میرا ماننا ہے کہ یہی کھیل ہر سیٹ پر کھیلا گیا ہے۔”بہار میں ووٹر لسٹ پر تنازعاپوزیشن نے بہار میں ووٹر لسٹ کی نظرثانی کے عمل پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔
راہول گاندھی سمیت دیگر اپوزیشن رہنماؤں نے الیکشن کمیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بہار کے ووٹروں کی تصدیق کے نام پر لاکھوں اہل رائے دہندگان کو فہرست سے نکال دیا گیا ہے۔الیکشن کمیشن نے تاہم اس عمل کو شفاف اور اعداد و شمار پر مبنی قرار دیا ہے۔
جاری کردہ معلومات کے مطابق ووٹروں کی کل تعداد کم ہو کر 7.24 کروڑ رہ گئی ہے، جب کہ اس سے قبل یہ تعداد 7.89 کروڑ تھی۔ یعنی تقریباً 65 لاکھ ووٹروں کو فہرست سے نکالا گیا ہے۔کمیشن کے مطابق نکالے گئے ناموں میں وہ افراد شامل ہیں جو یا تو فوت ہو چکے ہیں، مستقل طور پر دیگر مقامات پر منتقل ہو چکے ہیں یا جن کے نام فہرست میں دہرا اندراج تھے۔
اعداد و شمار کے مطابق:22 لاکھ ووٹرز کی وفات ہو چکی ہے36 لاکھ ووٹرز دوسری جگہ منتقل ہو چکے ہیں7 لاکھ ووٹرز نئی جگہ کے مستقل رہائشی بن گئے ہیںخصوصی مہم 24 جون سے جاریووٹروں کی تصدیق اور نظرثانی کے لیے الیکشن کمیشن نے 24 جون 2025 سے ایک خصوصی مہم (Special Intensive Revision – SIR) شروع کی تھی، جس کا پہلا مرحلہ 25 جولائی کو مکمل ہوا۔
اس مرحلے میں 99.8 فیصد کوریج حاصل کی گئی اور ریاست بھر میں فارم حاصل کیے گئے۔اپوزیشن کا مطالبہاپوزیشن جماعتوں نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ ووٹر لسٹ سے متعلق تمام فیصلے شفاف طریقے سے کیے جائیں اور کسی بھی طرح کے سیاسی دباؤ کو برداشت نہ کیا جائے۔ راہول گاندھی نے کہا کہ وہ جلد ان الزامات کے حق میں موجود "ثبوت” عوام کے سامنے پیش کریں گے۔
