Utharkhand Floods

دھرالی، اتراکھنڈ میں بادل پھٹنے سے قیامت خیز تباہی؛ گاؤں زمین بوس

تازہ خبر قومی
دھرالی، اتراکھنڈ میں بادل پھٹنے سے قیامت خیز تباہی؛ گاؤں زمین بوس
صرف 34 سیکنڈ میں سینکڑوں مکانات اور ہوٹل ملبے میں دب گئے
10 فوجیوں سمیت 50 سے زائد افراد لاپتہ، بچاؤ اور راحت کاری کا کام جاری
نئی دہلی :۔6؍اگست
(زین نیوز ڈیسک)
دھرالی، اتراکھنڈ کے اُترکاشی ضلع میں منگل کی رات بادل پھٹنے کا خوفناک واقعہ پیش آیا، جس نے صرف 34 سیکنڈ میں پورے گاؤں کو ملبے میں تبدیل کر دیا۔ بازار، مکانات، ہوٹل، سب کچھ مٹی کے تودوں میں دب گیا۔ 4 افراد کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے، جب کہ 10 فوجی اہلکاروں سمیت 50 سے زائد افراد لاپتہ ہیں۔ امدادی کارروائیاں تیزی سے جاری ہیں، اور اب تک 130 سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔
 کھیر گنگا ندی سے آنے والا ملبہ گاؤں کو بہا لے گیا، جس سے تباہی کی شدت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ دھرالی کے علاوہ ہرشل اور سکھی علاقوں میں بھی بادل پھٹنے کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ ہرشل میں 8 سے 10 فوجیوں کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔بدھ کے روز ہماچل پردیش کے کنور ضلع کے ٹنگلنگ علاقے میں بھی بادل پھٹنے سے شدید تباہی ہوئی۔
 پہاڑوں سے ملبے اور پتھروں کا ایک دیوہیکل ریلا اچانک نیچے سڑک پر آ گرا، جس کی ایک خوفناک ویڈیو بھی منظر عام پر آئی ہے۔ اس واقعے کے بعد علاقے میں سیلاب جیسی صورتِ حال پیدا ہو گئی۔ بادل پھٹنے کے سبب کیلاش یاترا کے دو اہم پل بہہ گئے اور باقی راستے بھی ناقابلِ استعمال ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے یاترا کو فوری طور پر روک دیا گیا ہے۔

 بہت سے یاتری مختلف مقامات پر پھنس گئے تھے، جن میں سے 413 یاتریوں کو انڈو-تبت بارڈر پولیس (آئی ٹی بی پی) کی ٹیم نے زپ لائن کی مدد سے محفوظ مقام تک پہنچایا۔کنور کے ربا گاؤں کے قریب رالڈنگ کھائی میں بھی بادل پھٹنے کا واقعہ پیش آیا، جس سے نیشنل ہائی وے-5 کو بند کر دیا گیا ہے۔ شاہراہ کے تقریباً 150 میٹر کے حصے پر مٹی، پتھر اور ملبہ جمع ہو گیا ہے، جس سے ٹریفک کی روانی مکمل طور پر رک گئی ہے۔
 خوش قسمتی سے اس حادثے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ ریاست کے مختلف علاقوں میں شدید بارشوں کے سبب حالات ابتر ہیں۔ منگل کی رات چندی گڑھ-منالی قومی شاہراہ پر بھی لینڈ سلائیڈنگ کے باعث راستے بند ہو گئے تھے۔ بڑے بڑے پتھروں کے گرنے سے ریاست بھر میں 500 سے زیادہ سڑکیں متاثر ہو چکی ہیں، اور شملہ، منڈی، سولن اور کلو اضلاع میں اسکولوں کو احتیاطاً بند کر دیا گیا ہے۔
دھرالی گاؤں ماضی میں بھی کئی قدرتی آفات کا شکار بن چکا ہے۔ 1864، 2013 اور 2014 میں یہاں بادل پھٹنے کے تباہ کن واقعات پیش آ چکے ہیں۔ ان سانحات کے بعد ماہرینِ ارضیات نے حکومت کو مشورہ دیا تھا کہ دھرالی کو کسی محفوظ مقام پر منتقل کیا جائے، کیونکہ یہ گاؤں مین سینٹرل تھرسٹ یعنی مرکزی ہمالیائی شگاف پر واقع ہے، جو زلزلوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے لیے انتہائی حساس علاقہ ہے۔

 سینئر ماہر ارضیات پروفیسر ایس پی ستی کے مطابق کھیر گنگا ندی جس پہاڑ سے آتی ہے، اس کی بلندی 6,000 میٹر ہے۔ جب بھی وہاں سے برف یا چٹان کا کوئی حصہ ٹوٹ کر گرتا ہے، ندی کا بہاؤ تباہی کا باعث بن جاتا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ تقریباً 6 ماہ قبل پہاڑی کا ایک بڑا ٹکڑا کھیر ندی میں گرا تھا جو پھنس گیا تھا، غالباً اب وہی حصہ نیچے آ گرا اور اس ہولناک سیلاب کا سبب بنا۔
اس قدرتی آفت میں دھرالی کا 1500 سال پرانا کلپ کیدار مہادیو مندر بھی ملبے تلے دب گیا، جو مقامی لوگوں کے عقیدے کا مرکز تھا۔ بھاگیرتھی ندی کے کنارے واقع یہ قدیم مندر پنچ کیدار روایت سے جڑا ہوا تھا۔ مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک قدرتی تباہی نہیں بلکہ ان کے ایمان اور روحانی وابستگی کا نقصان ہے، جس کا درد برسوں تک محسوس کیا جاتا رہے گا۔