ووٹروں کی تصدیق کے لئےاپوزیشن کا دفتر الیکشن کمیشن تک مارچ
پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کا 16واں دن، اپوزیشن کا شدید احتجاج، کارروائی مفلوج
نئی دہلی: ۔11؍اگست
(انٹر نیٹ ڈیسک)
پیر کو اپوزیشن کے 300 ارکان پارلیمنٹ نے ووٹروں کی تصدیق اور انتخابات میں ووٹ چوری کے الزامات پر پارلیمنٹ سے الیکشن کمیشن کے دفتر تک مارچ کیا۔ اس دوران راہول گاندھی، پرینکا گاندھی، اکھلیش یادو سمیت اپوزیشن کے کئی ارکان پارلیمنٹ کو حراست میں لے لیا گیا۔ اس کے بعد پارلیمنٹ پولیس انہیں اسٹیشن لے گئی۔
احتجاج کے دوران ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ میتالی باغ کی طبیعت خراب ہوگئی اور وہ بے ہوش ہوگئیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور دیگر ارکان پارلیمنٹ نے مدد کی۔ قبل ازیں اس معاملے پر دونوں ایوانوں میں زبردست ہنگامہ ہوا
پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے 16ویں دن پیر کو لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن جماعتوں کے زبردست احتجاج کے باعث کارروائی ایک بار پھر مفلوج ہو گئی۔ جیسے ہی لوک سبھا میں وقفہ سوالات شروع ہوا، اپوزیشن ارکان ہمیں انصاف چاہیے اور "وی وانٹ جسٹس” کے نعرے لگاتے ہوئے ایوان کے ویل تک پہنچ گئے، جس پر اسپیکر اوم برلا نے کارروائی دوپہر دو بجے تک ملتوی کر دی۔
راجیہ سبھا میں بھی زیرو آور کے دوران "ووٹ چوری بند کرو” کے نعروں کے ساتھ احتجاج ہوا اور کارروائی دوپہر تک معطل کر دی گئی۔اس سے قبل بہار میں ووٹروں کی تصدیق کے معاملے پر اپوزیشن نے دہلی میں زبردست احتجاج کیا۔
راہول گاندھی، پرینکا گاندھی اور دیگر اپوزیشن قائدین سمیت 300 سے زائد ارکان پارلیمنٹ نے مکر دوار سے الیکشن کمیشن ہیڈکوارٹر تک مارچ کیا۔لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی، انڈیا بلاک کے تقریباً 300 ایم پیز کے احتجاجی مارچ کی قیادت کر رہے مظاہرین نے قومی ترانہ پڑھا اور "ووٹ بچاؤ” کے بینرز اٹھا رکھے تھے۔
تاہم دہلی پولیس نے کہا ہے کہ انڈیا بلاک نے مارچ کے لیے کوئی اجازت نہیں مانگی تھی، اس لیے اس سے پہلے کہ مارچ دفترالیکشن کمیشن تک جاتا اسے ٹرانسپورٹ بھون کے قریب رکاوٹیں لگا کر روک دیا گیا۔
بعد میں اکھلیش نے رکاوٹوں کو پھلانگ کر آگے بڑھنے کی کوشش کی۔ ارکان پارلیمان کو آگے نہ جانے دیا گیا تو وہ زمین پر بیٹھ گئے۔ پرینکا، ڈمپل سمیت کئی ممبران پارلیمنٹ ‘ووٹ چور گڈی چھوڑ’ کے نعرے لگاتے نظر آئے۔ پولیس نے احتجاج کرنے والے ان ارکان پارلیمنٹ کو حراست میں لے لیا ہے۔
اس موقع پر ایم پی وینوگوپال کی پولیس عہدیداروں سے بحث بھی ہوئی۔21 جولائی سے شروع ہونے والے مانسون سیشن میں اپوزیشن کی جانب سے روزانہ احتجاج کے باعث پارلیمانی کارروائی شدید متاثر رہی ہے۔
گزشتہ 15 دنوں میں صرف 28 اور 29 جولائی کو دونوں ایوانوں میں مکمل دن کی کارروائی ممکن ہوئی، جب پہلگام دہشت گرد حملے اور آپریشن سندھور پر بحث کی گئی۔آج کے ایجنڈے میں وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کی جانب سے نظرثانی شدہ انکم ٹیکس بل 2025 پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ یہ بل 8 اگست کو واپس لے لیا گیا تھا تاکہ 31 رکنی سلیکشن کمیٹی کی تجاویز شامل کی جا سکیں۔
کمیٹی نے اپنی 4584 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں 566 سفارشات پیش کی ہیں، جن میں بل کو مزید واضح، سخت اور موجودہ قانونی ڈھانچے سے ہم آہنگ کرنے کی تجاویز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ نیشنل اسپورٹس ایڈمنسٹریشن بل 2025، نیشنل اینٹی ڈوپنگ (ترمیمی) بل 2025 اور انڈین پورٹس بل 2025 بھی پیش کیے جانے ہیں۔
