راہول گاندھی کو ’دہشت گرد‘ کہنے اور جان سے مارنے کی دھمکی دینے کا الزام
ساورکر ہتکِ عزت کیس: راہول گاندھی کو سکیورٹیی دینے کا مطالبہ
ووٹ چوری‘ کیس بے نقاب کرنے کے بعد خطرہ بڑھ گیا ہے،راہول گاندھی کے وکیل کا دعویٰ
پونے:۔13؍اگست
(انٹر نیٹ ڈیسک)
کانگریس کے سینئر رہنما راہول گاندھی نے بدھ کو پونے کی ایم پی؍ایم ایل اے خصوصی عدالت میں جان کو خطرہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا۔ ساورکر ہتکِ عزت کیس کی سماعت کے دوران راہول کے وکیل ملند پوار نے عدالت میں تحریری نوٹس پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’ووٹ چوری‘‘ معاملہ بے نقاب کرنے کے بعد ان کے موکل کی سلامتی کو مزید خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔
وکیل نے عدالت سے اپیل کی کہ جن افراد نے راہول گاندھی کے خلاف ہتکِ عزت کی شکایت درج کرائی ہے، وہ ناتھورام گوڈسے کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، اس لیے منصفانہ سماعت کے لیے انہیں حفاظتی تحفظ فراہم کرنا ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے۔ عدالت نے کیس کی اگلی سماعت 10 ستمبر مقرر کی ہے۔
ملند پوار نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی لیڈر آر این بٹو نے راہول گاندھی کو ’’دہشت گرد‘‘ کہا، جبکہ بی جے پی کے ایک اور لیڈر ترویندر ماروا نے کھلے عام دھمکی دی کہ اگر راہول نے ’’صحیح رویہ‘‘ اختیار نہ کیا تو ان کا انجام بھی ان کی دادی کی طرح ہو سکتا ہے۔
شکایت کنندہ ستیہ کی ساورکر کا تعلق ساورکر اور گوڈسے خاندانوں سے ہے اور وہ اپنے اثر و رسوخ کا غلط استعمال کر سکتا ہے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ مہاتما گاندھی کا قتل ایک سوچی سمجھی سازش تھی اور راہول گاندھی کی خاندانی تاریخ کے پیش نظر انہیں نقصان پہنچنے یا جھوٹے مقدمے میں پھنسائے جانے کا اندیشہ ہے۔
ساورکر کیس میں راہول گاندھی کے خلاف یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ ان کے بیان سے ہندو برادری کی توہین ہوئی۔ راہول گاندھی نے کہا تھا کہ ’’ایک سچا ہندو کبھی پرتشدد نہیں ہوتا، نہ نفرت پھیلاتا ہے۔ بی جے پی نفرت اور تشدد پھیلاتی ہے۔
مارچ 2023 میں لندن میں ایک تقریب کے دوران راہول گاندھی نے دعویٰ کیا تھا کہ وی ڈی ساورکر نے اپنی ایک کتاب میں لکھا ہے کہ انہوں نے اور ان کے چند ساتھیوں نے ایک مسلمان شخص کو مارا پیٹا اور اس پر خوشی کا اظہار کیا۔
اسی بیان کی بنیاد پر ستیہکی ساورکر نے ان کے خلاف ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کیا۔3 جولائی کو پونے کی ایم پی/ایم ایل اے عدالت نے ستیہکی ساورکر کی اس درخواست کو مسترد کر دیا تھا، جس میں انہوں نے راہول گاندھی کو متعلقہ کتاب عدالت میں پیش کرنے کا حکم دینے کی استدعا کی تھی۔ جسٹس امول شندے نے قرار دیا کہ کانگریس رہنما کو کتاب پیش کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
راہول گاندھی اس سے قبل بھی ساورکر پر تنقیدی بیانات دے چکے ہیں۔ 17 نومبر 2022 کو مہاراشٹر کے اکولا ضلع میں بھارت جوڑو یاترا کے دوران انہوں نے ساورکر پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے انگریزوں کو خط لکھ کر وفاداری کا یقین دلایا اور خوف کے باعث معافی مانگی، جب کہ گاندھی، نہرو اور پٹیل نے ایسا کرنے سے انکار کر کے برسوں جیل میں وقت گزارا۔
