تلنگانہ : گورنر کوٹہ کے تحت تلنگانہ کے دو ایم ایل سیز کی تقرری  کالعدم قرار

تازہ خبر تلنگانہ
تلنگانہ : گورنر کوٹہ کے تحت تلنگانہ کے دو ایم ایل سیز کی تقرری  کالعدم قرار
سپریم کورٹ کا حکم نامہ جاری
 نئی دہلی؍حیدرآباد13؍اگست
 (انٹر نیٹ ڈیسک)
سپریم کورٹ نے گورنر کوٹہ کے تحت منتخب ہونے والے تلنگانہ کے دو اراکینِ قانون ساز کونسل، پروفیسر کودنڈا رام اور عامر علی خان کی تقرری کو کالعدم قرار دیتے ہوئے حکم نامہ جاری کیے۔ یہ فیصلہ بدھ کے روز بی آر ایس رہنماؤں داسوجو شروان اور ستیا نارائن کی دائر کردہ عرضیوں پر سماعت کے بعد سنایا گیا۔
بی آر ایس رہنماؤں نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ کودنڈا رام اور عامر علی خان کی تقرری غیر قانونی طور پر عمل میں آئی ہے۔ انہوں نے پہلے گورنر کو اس حوالے سے مطلع کیا مگر گورنر نے ان کا مؤقف مسترد کر دیا۔ اس کے بعد یہ معاملہ سپریم کورٹ میں لے جایا گیا۔ عدالت نے تفصیلی سماعت کے بعد دونوں تقرریوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انہیں منسوخ کر دیا۔
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ ان دو نشستوں پر ہونے والی تازہ نامزدگیاں اس کے حتمی فیصلے سے مشروط ہوں گی۔ اس کیس کی اگلی سماعت 17 ستمبر کو مقرر کی گئی ہے۔یاد رہے کہ کودنڈا رام اور عامر علی خان کی گورنر کوٹہ کے تحت ایم ایل سی تقرری 2024 میں عمل میں آئی تھی، جسے آج سپریم کورٹ نے منسوخ کر دیا۔
ادھر اس فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے عامر علی خان نے کہا کہ انہیں توقع نہیں تھی کہ سپریم کورٹ ایسا فیصلہ دے گی۔ انہوں نے کہا کہ وکیل نے انہیں ابھی عدالت میں پیش آنے والے حالات سے آگاہ کیا ہے، اور آرڈر کا مطالعہ کرنے کے بعد وہ مکمل بیان جاری کریں گے۔
عامر علی خان نے مزید کہا کہ وہ حال ہی میں صحافت کے شعبے سے آئے ہیں اور ان کا کوئی سیاسی پس منظر نہیں ہے، اور اب تک اس فیصلے کے حوالے سے حکومت کے کسی بڑے رہنما نے ان سے بات نہیں کی