Independence Day

بہترین معاشرے کی تشکیل کے لیے اختیارات اور ذمہ داریوں میں توازن ضروری

تازہ خبر تلنگانہ
بہترین معاشرے کی تشکیل کے لیے اختیارات اور ذمہ داریوں میں توازن ضروری
اردو یونیورسٹی میں رسم پرچم کشائی سے پروفیسر سید عین الحسن کا خطاب
حیدرآباد،:۔ 15اگست
 (پریس نوٹ) 
آزادی کا مطلب ذمہ داریاں اور اختیارات دونوں ہیں۔ جس دن ہم نے سمجھ لیا کہ ہماری اختیارات کیا ہیں اور ہماری ذمہ داریاں کیا ہے ، تو ہم ایک بہترین معاشرتی توازن قائم کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔
ان خیالات کا اظہار پروفیسر سید عین الحسن، وائس چانسلر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نے کیا۔وہ آج یونیورسٹی کیمپس میں رسمِ پرچم کشائی انجام دینے کے بعد تقریر کر رہے تھے۔ اس موقع پر پروفیسر اشتیاق احمد، رجسٹرار اور پروفیسر عبدالعظیم، پراکٹر بھی موجود تھے۔
پروفیسر سید عین الحسن نے کہا کہ ہندوستان کی آزادی کا حصول آسان کام نہیں تھا۔ بہت سے لوگوں نے اپنی جانوں کی قربانیاں دیں۔ ہندوستانی فطرتاً امن پسند واقع ہوئے ہیں۔ اس لیے انہوں نے عدم تشدد سے کام لیا۔ جس کے باعث جو غاصب قابض تھے وہ ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔
وائس چانسلر نے طلبہ کو مشورہ دیا کہ وہ علم حاصل کرنے میں سنجیدگی اختیار کریں تاکہ زندگی میں حقیقی ترقی حاصل کرسکیں۔ انہوں نے اساتذہ کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریوں سے پہلو تہی نہ کریں۔ ان کے مطابق ہمیں ایک دوسرے کا احترام کرنا پڑے گا، کیوں کہ بغیر احترام آزادی کے کوئی معنی نہیں۔ اور ایسا عمل بےکار ہے جو انسان کو عمل کے لیے آمادہ نہ کرسکے۔
ہندوستان کی 89 ویں یومِ آزادی کی تقریب کا آج مولانا آزادنیشنل اردو یونیورسٹی میں پورے جوش و خروش سے انعقاد عمل میں آیا۔ جس میں ڈاکٹر مظفر حسین خان اور ڈاکٹر شیخ وسیم کی نگرانی میں یونیورسٹی کے کلچرل کلب کے طلبہ نے پرچم کشائی کے بعد قومی ترانہ پڑھا اور حب الوطنی پر مبنی نغمے پیش کیے۔
ڈاکٹر محمد یوسف خان، کوآرڈینیٹر این سی سی نے مانو این سی سی کیڈٹس کامیابیوں کا ذکر کیا۔ان کیڈٹس کا ٹسٹ حولدار سنتوش ، حولدار چکرورتی نے لیا تھا۔ کامیاب کیڈٹس کو رینک کے مطابق بیجس دیئے گئے۔
 لفٹننٹ محمد عبدالمجیب ، اسوسیئٹ این سی سی آفیسر کی نگرانی میں ون تلنگانہ آرٹی بیٹری این سی سی مانو سب یونٹ کے کیڈٹس نے اصلی بندوقوں کے ساتھ گارڈ آف آنر پیش کیا۔
ڈاکٹر محمد مصطفےٰ علی سروری، افسر تعلقات عامہ نے پروگرام کی کارروائی چلائی۔ ڈائرکٹر رضوان احمد کی نگرانی میں آئی ایم سی ٹیم نے یوٹیوب اور سوشیل میڈیا پر پروگرام کا لائیو ٹیلی کاسٹ کیا۔