کرناٹک بی جے پی رکن اسمبلی بسنا گوڑا پاٹل کے متنازعہ ریمارکس پر ہنگامہ
مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز بیان، پولیس میں شکایت درج
بنگلور:۔ 19 اگست
(انٹرنیٹ ڈیسک)
کرناٹک بی جے پی کے رکن اسمبلی بسنا گوڑا پاٹل یتنال کے متنازعہ ریمارکس نے ملک گیر سطح پر شدید ہنگامہ کھڑا کر دیا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جو ہندو نوجوان مسلم لڑکیوں سے شادی کریں گے، انہیں پانچ لاکھ روپے بطور انعام دیے جائیں گے۔ اس بیان پر مختلف حلقوں میں سخت تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
یہ تنازع اُس وقت اور شدت اختیار کر گیا جب 3 اگست کو کرناٹک کے کپّلّہ میں ولامیکی سماج سے تعلق رکھنے والے نوجوان گویسِدّپا نائک (26) کو ایک مسلم لڑکی سے محبت کرنے کی پاداش میں مسجد کے سامنے تیز دھار ہتھیاروں سے حملہ کر کے قتل کر دیا گیا۔ پولیس نے اس کیس میں تین افراد کو گرفتار کیا ہے جبکہ مرکزی ملزم نے ہتھیاروں سمیت خود کو پولیس کے حوالے کر دیا۔
واقعہ کے بعد یتنال نے مقتول کے گھر والوں سے ملاقات کی اور مطالبہ کیا کہ اس قتل کو مذہبی بنیادوں پر ہونے والی واردات قرار دیا جائے اور حکومت کے قواعد کے مطابق متاثرہ خاندان کو مالی امداد فراہم کی جائے۔اسی دوران یتنال نے متنازعہ بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ ہندو نوجوانوں کو مسلم لڑکیوں سے شادی پر پانچ لاکھ روپے بطور انعام دیں گے اور اس سلسلے میں خصوصی مہم بھی شروع کریں گے۔
ان کا الزام تھا کہ ’’لَو جہاد‘‘ کے معاملات میں حکومت مسلمانوں کو تحفظ دیتی ہے لیکن ہندو نوجوانوں کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھاتی۔ان کے ان بیانات پر مسلم تنظیموں کی جانب سے سخت ردِعمل سامنے آیا ہے۔ خدمتِ ملت ضلع کے ایگزیکٹیو صدر قمر جنید قریشی نے پولیس میں شکایت درج کرائی ہے،
جس میں کہا گیا ہے کہ یتنال کے بیانات مذہبی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے والے اور مسلمانوں کی توہین پر مبنی ہیں۔ شکایت کے بعد پولیس نے یتنال کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
