آسام میں سیمنٹ کمپنی کے قیام کے نام پر آدانی گروپ کو زمین الاٹ
990 ہیکٹئر پورا ضلع؟ یہ کیا مذاق ہے؟ — ہائی کورٹ جج برہم
نئی دہلی؍گوہاٹی :۔19؍اگست
(زیڈاین میڈیا سرویس)
ٓآسام کے وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کی حکومت نے اڈانی گروپ کو سیمنٹ کمپنی کے قیام کے نام پر 990 ایکڑ( تین ہزار بیگھا) زمین الاٹ کی ہے۔ اس معاملے پر گوہاٹی ہائی کورٹ میں سماعت جاری ہے۔ عدالت کے دوران جب جج کو یہ بتایا گیا کہ ایک نجی کمپنی کو تین ہزار بیگھا زمین دی گئی ہے تو وہ حیرت زدہ رہ گئے اور سخت لہجے میں کہاکہ تین ہزار بیگھا! پورا ضلع؟ یہ کیا مذاق ہے؟”
اصل تنازع ایک ہزار دو سو ہیکٹئر (تقریباً 9,000 بیگھا) "خاص زمین” (Khas Land) کا ہے جو نارتھ کچر ہلز آٹونومس کونسل (NCHAC) کے تحت آتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ زمین اڈانی گروپ کو بغیر شفاف کارروائی اور مقامی برادریوں کی رضامندی کے حوالے کر دی گئی، جو نہ صرف آئینی تحفظات کی خلاف ورزی ہے بلکہ مقامی قبائلی حقوق پر بھی براہِ راست حملہ تصور کیا جا رہا ہے۔
مقامی ذرائع اور سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ مجوزہ سیمنٹ پلانٹ کو ایشیا کا سب سے بڑا قرار دیا جا رہا ہے، لیکن اس کے قیام سے تقریباً 14,000 قبائلی خاندان جن میں کربی، دیمسا، ناگا اور آدیواسی برادریاں شامل ہیں بے گھر ہو جائیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ علاقہ حیاتیاتی تنوع (biodiversity) سے مالا مال ہے، اور اتنے بڑے پیمانے پر صنعتی منصوبے سے یہاں کے جنگلات، ندی نالے اور جنگلی حیات کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
کسان تنظیموں اور عوامی نمائندوں نے حکومت کے اس اقدام کو عوام دشمن اور سرمایہ دار نواز پالیسی قرار دیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے بھی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ترقی کے نام پر قبائلی برادریوں کے بنیادی حقوق اور زمینوں کو غصب کر رہی ہے۔
عدالت نے حکومت سے وضاحت طلب کر لی ہے اور اس پورے عمل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ عوامی ردعمل کے بعد ریاستی حکومت شدید دباؤ میں ہے اور اب دیکھنا یہ ہے کہ آئندہ سماعتوں میں یہ معاملہ کس رخ اختیار کرتا ہے