Supreme Court

سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ: ووٹر فہرست میں آدھار کارڈ کو لازمی تسلیم کرنے کا حکم

تازہ خبر قومی
سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ: ووٹر فہرست میں آدھار کارڈ کو لازمی تسلیم کرنے کا حکم
آن لائن درخواست کی بھی اجازت 
نئی دہلی :۔22؍اگست
(زیڈ این میڈیا سرویس)
سپریم کورٹ نے بہار اسمبلی انتخابات سے قبل جاری ووٹر فہرست کی اصلاحی کارروائی پر اہم احکامات جاری کرتے ہوئے صاف طور پر کہا ہے کہ ووٹر فہرست میں تبدیلیوں اور شمولیت کے عمل کے دوران عوام کے آدھار کارڈ کو بھی درست ثبوت کے طور پر قبول کیا جانا لازمی ہے۔
عدالت عظمیٰ نے مرکزی الیکشن کمیشن (ای سی آئی) کو ہدایت دی ہے کہ ووٹر فہرست سے حذف شدہ ووٹروں کی دوبارہ شمولیت کے لیے آدھار کارڈ سمیت دیگر اسناد کو تسلیم کیا جائے اور ووٹرز کو یہ سہولت دی جائے کہ وہ اپنی درخواست صرف جسمانی طور پر ہی نہیں بلکہ آن لائن بھی جمع کرا سکیں۔
یاد رہے کہ بہار اسمبلی انتخابات سے پہلے تقریباً پینسٹھ لاکھ ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے حذف کیے جانے کی خبریں منظر عام پر آئیں، جس نے ریاست ہی نہیں بلکہ پورے ملک میں سیاسی ہلچل مچا دی۔ اس معاملے پر سیاسی جماعتوں نے شدید احتجاج کیا لیکن متاثرہ ووٹروں کو عملی مدد دینے کے بجائے صرف بیانات تک محدود رہیں۔
یہ تنازعہ آخر کار سپریم کورٹ تک پہنچا، جس نے جمعہ کے روز اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) یعنی ووٹر لسٹ کی تصدیق کے عمل کی سماعت کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو سخت ہدایات جاری کیں۔عدالت نے واضح کیا کہ فارم نمبر 6 میں درج 11 اسناد میں سے کوئی بھی بطور ثبوت پیش کیا جا سکتا ہے، جن میں ڈرائیونگ لائسنس، بینک پاس بک، پانی کا بل اور دیگر دستاویزات شامل ہیں۔
عدالت نے زور دے کر کہا کہ آدھار کارڈ کو بھی ان دستاویزات میں لازماً تسلیم کیا جائے تاکہ ووٹروں کو ان کا حق واپس دلایا جا سکے۔سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ نے سیاسی جماعتوں کے رویے پر شدید برہمی ظاہر کی۔ جسٹس سوریا کانت نے کہا کہ ریاست کی 12 سیاسی جماعتوں میں سے صرف 3 عدالت میں پیش ہوئیں جبکہ باقی سب خاموش رہیں۔
 عدالت نے سوال اٹھایا کہ سیاسی جماعتوں کے پاس تقریباً ایک لاکھ ساٹھ ہزار بوتھ لیول ایجنٹس ہیں مگر ان کی طرف سے محض دو اعتراضات موصول ہوئے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ یہ سیاسی جماعتوں کی بے عملی حیران کن ہے، کیونکہ اگر وہ ووٹروں کے حقوق کے لیے سنجیدہ ہوتیں تو اپنے ایجنٹس کے ذریعے بڑی تعداد میں اعتراضات درج کراتیں۔
 عدالت نے سیاسی جماعتوں کو ہدایت دی کہ وہ صرف الزامات اور احتجاج پر اکتفا نہ کریں بلکہ ووٹروں کی عملی مدد کے لیے آگے آئیں۔سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن سے بھی کئی سوالات کیے اور کہا کہ ووٹر لسٹ کی شفافیت اور درستگی ہر حال میں یقینی بنائی جائے۔ عدالت نے زور دیا کہ ووٹرز کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے تاکہ ان کا حق رائے دہی متاثر نہ ہو۔
عدالت نے اس بات کو بھی اجاگر کیا کہ ووٹر لسٹ کی اصلاحی کارروائی صرف ایک رسمی عمل نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس میں حقیقی شفافیت ہونی لازمی ہے تاکہ کسی بھی اہل ووٹر کو ووٹ کے حق سے محروم نہ کیا جا سکے۔
سپریم کورٹ کے ان احکامات کے بعد ماہرین کا کہنا ہے کہ ووٹر لسٹ میں شمولیت اور تبدیلی کے عمل میں مزید سہولت اور شفافیت آئے گی اور اہل ووٹروں کو دوبارہ اپنا نام درج کرانے اور حق رائے دہی استعمال کرنے کا موقع میسر آئے گا۔
 کیس کی اگلی سماعت 8 ستمبر کو مقرر کی گئی ہے، جہاں عدالت اس معاملے پر مزید پیش رفت کا جائزہ لے گی