Zain Article Title

پیدائش کے سرٹیفکیٹس اور شہریت کی نئی پالیسی

تازہ خبر مضامین
پیدائش کے سرٹیفکیٹس اور شہریت کی نئی پالیسی
ہندوستان میں شناخت کا بحران یا انتظامی اصلاح؟
ہندوستانی مسلمانوں کو اس پالیسی کی سنگینی کو سمجھنے اپنی برادری میں شعور بیدار کرنے کی ضرورت
Imran zainاز:۔عمران زین
(ایڈیٹر زین نیوز)
 ہندوستان میں شہریت اور شناخت کے مسائل ہمیشہ سے حساس اور پیچیدہ رہے ہیں، اور حالیہ دنوں میں مرکزی حکومت کی نئی پالیسی نے اس موضوع کو مزید اہمیت عطا کی ہے۔ 27 اپریل 2026 کو پیدائش کے سرٹیفکیٹس کی رجسٹریشن یا اپ ڈیٹ کے لیے آخری تاریخ مقرر کی گئی ہے،
 جبکہ شہریت کے ثبوت سے متعلق نئی شرائط نے شہریوں، خاص طور پر اقلیتی برادریوں جیسے کہ مسلمانوں، پسماندہ طبقات، اور نقل مکانی کرنے والوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ *پیدائش و اموات کی رجسٹریشن (ترمیمی) ایکٹ 2023*، جو یکم اکتوبر 2023 سے نافذ العمل ہے، نے پیدائش کے سرٹیفکیٹ کو ہر شہری کے لیے مرکزی شناختی دستاویز قرار دیا ہے۔
اس پالیسی کے تحت دیگر دستاویزات جیسے اسکول سرٹیفکیٹس، آدھار کارڈ، یا راشن کارڈ اب پیدائش کے ثبوت کے طور پر قابل قبول نہیں ہوں گے۔ یہ مضمون اس نئی پالیسی کے اہم پہلوؤں، اس کے ممکنہ اثرات، عوامی خدشات، اور ہندوستانی مسلمانوں کے لیے ایک خصوصی اپیل کا جامع جائزہ پیش کرتا ہے، تاکہ وہ اپنی شناخت کو مضبوط کریں اور مستقبل کی پریشانیوں سے بچ سکیں
مرکزی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پیدائش کا سرٹیفکیٹ اب اسکول داخلے، پاسپورٹ، ووٹر رجسٹریشن، نکاح نامہ، جائیداد کے حقوق، اور سرکاری خدمات تک رسائی کے لیے لازمی ہوگا۔ 27 اپریل 2026 کے بعد، بغیر پیدائش کے سرٹیفکیٹ کے شہریوں کو اہم سرکاری خدمات سے محرومی اور قانونی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ شہریت کے ثبوت کے تقاضوں کے تحت، شہریوں کو ان کی پیدائش کی تاریخ کی بنیاد پر تین زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے۔
یکم جولائی 1987 سے پہلے پیدا ہونے والوں کو اپنی شہریت ثابت کرنے کے لیے ایک دستاویز جیسے پیدائش کا سرٹیفکیٹ، پاسپورٹ، میٹرک یا اعلیٰ تعلیمی سند، سرکاری شناختی کارڈ، مستقل رہائش کا سرٹیفکیٹ، یا ذات پات کا سرٹیفکیٹ پیش کرنا ہوگا۔ 1987 سے 2 دسمبر 2004 کے درمیان پیدا ہونے والوں کو اپنی ایک دستاویز کے ساتھ والد یا والدہ کی ایک دستاویز بھی درکار ہوگی،
 جبکہ 2004 کے بعد پیدا ہونے والوں کو اپنی دستاویز کے علاوہ دونوں والدین کی دستاویزات پیش کرنا ہوں گی۔ جن افراد کی پیدائش 15 سال سے زیادہ پرانی ہے اور ابھی تک رجسٹر نہیں ہوئی، وہ اب عدالتی مداخلت کے بغیر میونسپل یا تحصیل دفاتر میں درخواست دے سکتے ہیں۔ ضروری دستاویزات میں اسکول سرٹیفکیٹس، آدھار کارڈ، راشن کارڈ، یا پاسپورٹ شامل ہیں، اور اگر رجسٹریشن 12 مہینوں کے اندر ہو تو کوئی فیس نہیں، ورنہ معمولی فیس عائد ہوگی
حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس پالیسی کا مقصد شناختی تصدیق کو منظم کرنا، دھوکہ دہی کو روکنا، اور ایک یکساں قومی رجسٹریشن نظام قائم کرنا ہے۔ تاہم، عوام میں خدشات ہیں کہ یہ پالیسی نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (NRC) یا شہریت ترمیمی قانون (CAA) جیسے اقدامات کی طرف ایک قدم ہو سکتی ہے، جو خاص طور پر اقلیتوں اور پسماندہ طبقات کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتی ہے۔
 ایک سروے کے مطابق، ملک میں تقریباً 75 فیصد بزرگ مسلم شہریوں کے پاس نہ تو پیدائش کا سرٹیفکیٹ ہے اور نہ ہی شادی کی رجسٹریشن۔ دہلی، حیدرآباد، اور آسام جیسے علاقوں میں بڑی تعداد میں لوگوں کے پاس پرانے شناختی کارڈز یا والدین کے درست دستاویزات نہیں ہیں۔
 آسام میں 2019 میں این آر سی کے دوران 19 لاکھ سے زائد افراد اپنی شہریت ثابت نہ کر سکے، جو ایک سنگین مثال ہے کہ دستاویزات کی کمی کس طرح شہریوں کو شناخت کے بحران میں دھکیل سکتی ہے
 ہندوستانی آئین ہر شہری کو مساوی حقوق دیتا ہے، اور ماہرین قانون کے مطابق، دستاویزات کی کمی کی بنیاد پر شہریت سے محرومی آئینی اصولوں کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹرز کے تحت بھی شہریت سے محرومی ایک سنگین اقدام ہے، جس کے لیے شفاف اور منصفانہ عمل ضروری ہے۔
 دہلی جیسے شہروں میں جھگی بستیوں اور غیر منظم آبادیوں میں رہنے والوں کے پاس اکثر مستقل پتے سے منسلک دستاویزات نہیں ہوتے، جس سے خاندانی دستاویزات جمع کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ آسام کے تجربے سے سبق سیکھتے ہوئے، یہ ضروری ہے کہ شہری ابھی سے اپنی تیاری شروع کریں
مختلف ریاستیں اس پالیسی پر متضاد ردعمل ظاہر کر رہی ہیں۔ آسام میں بی جے پی کی زیر قیادت حکومت نے اس کی حمایت کی ہے، جبکہ مغربی بنگال، کیرالہ، پنجاب، اور تلنگانہ نے شہریت کے سخت قوانین کی مخالفت کی ہے۔ دہلی میں شہری نقل مکانی اور غربت کی وجہ سے عملی چیلنجز زیادہ ہیں
اس تناظر میں،ہندوستانی مسلمانوں کے لیے یہ ایک اہم اپیل ہے کہ وہ اپنی شناخت سے متعلق دستاویزات کو ترجیحی بنیادوں پر درست اور مکمل کریں۔ ہر ہندوستانی شہری، بالخصوص مسلمان مرد و خواتین، کے لیے درج ذیل دستاویزات درست تاریخ پیدائش اور نام کی صحیح اسپیلنگ کے ساتھ ہونا ضروری ہیں۔
پیدائش کا سرٹیفکیٹ اب مرکزی شناختی دستاویز ہے۔ اگر آپ کے پاس نہیں ہے تو فوراً میونسپل کارپوریشن یا تحصیل دفتر سے رجسٹریشن کروائیں۔ آدھار کارڈپتہ اور شناخت کا بنیادی ثبوت ہے۔ نام اور تاریخ پیدائش کی مطابقت چیک کریں۔   ووٹر کارڈووٹنگ اور شہریت کے ثبوت کے لیے اہم ہے۔ ووٹر لسٹ میں نام شامل کروائیں۔  پین کارڈ مالیاتی لین دین کے لیے ضروری ہے۔
راشن کارڈخاندانی شناخت اور پتہ کے ثبوت کے طور پر اہم ہے۔ اسکول لیونگ سرٹیفکیٹ تعلیمی ریکارڈ اور پیدائش کے ثبوت کے طور پر قابل قبول ہے۔ پاسپورٹ بین الاقوامی سفر اور شہریت کے ثبوت کے لیے مضبوط دستاویز ہے۔ شادی کا سرٹیفکیٹ خاندانی ریکارڈ کے لیے اہم ہے۔ اموات کا سرٹیفکیٹ مرحوم رشتے داروں کے لیے شہریت یا وراثتی معاملات میں مددگار ہے۔
 گھر کے کاغذات پراپرٹی کارڈ یا رجسٹریشن پر نام درست کروائیں۔  تمام پرانے اور نئے دستاویزات کو محفوظ رکھیں، ان کا لیمینیشن کروائیں، اور ڈیجیٹل کاپیاں بنائیں۔ تمام دستاویزات میں نام، تاریخ پیدائش، اور پتہ یکساں ہونا چاہیے۔ درخواست کے لیے مقامی میونسپل کارپوریشن یا تحصیل دفتر سے رابطہ کریں اور اسکول سرٹیفکیٹس، آدھار کارڈ، یا راشن کارڈ جیسے دستاویزات جمع کروائیں۔ آدھار کارڈ، ووٹر کارڈ، اور پین کارڈ کے لیے آن لائن پورٹلز جیسے uidai.gov.in یا incometax.gov.in استعمال کریں
ہندوستانی مسلمانوں سے گزارش ہے کہ وہ اس پالیسی کی سنگینی کو سمجھیں اور اپنی برادری میں شعور بیدار کریں۔ مساجد، کمیونٹی سینٹرز، اور سوشل میڈیا کے ذریعے اس پیغام کو پھیلائیں کہ ہر فرد اپنے دستاویزات مکمل کرے۔ اگر آپ کے دستاویزات درست ہیں تو اپنے دوستوں، رشتے داروں، اور پڑوسیوں کی مدد کریں،
خاص طور پر غریب یا کم تعلیم یافتہ افراد کے لیے مالی یا رہنمائی کی صورت میں تعاون کریں۔ یہ پالیسی نہ صرف قانونی تقاضوں کی تکمیل ہے بلکہ آپ کی شناخت اور شہری حقوق کے تحفظ کا ذریعہ بھی ہے۔ آسام کے این آر سی کے تجربے سے سبق لیں، جہاں دستاویزات کی کمی نے لاکھوں افراد کو مشکلات سے دوچار کیا
دستاویزات کی حفاظت کے لیے احتیاط برتیں۔ تمام کاغذات کو محفوظ مقام پر رکھیں، ان کی فوٹو کاپیاں بنائیں، اور ڈیجیٹل اسٹوریج جیسے گوگل ڈرائیو پر اپ لوڈ کریں۔ اگر کسی دستاویز میں نام یا تاریخ پیدائش میں تضاد ہے تو فوراً متعلقہ دفتر سے رابطہ کر کے اصلاح کروائیں۔ 27 اپریل 2026 سے پہلے پیدائش کے سرٹیفکیٹ کی رجسٹریشن مکمل کریں، کیونکہ اس کے بعد سرکاری خدمات تک رسائی میں مشکلات ہو سکتی ہیں۔
 ہم عام شہری، خاص طور پر دیہی علاقوں، جھگی بستیوں، اور نقل مکانی کرنے والے طبقات سے تعلق رکھنے والے، حکومت سے فریاد کرتے ہیں کہ اس پالیسی کو نافذ کرنے میں ان کی مشکلات کو سمجھا جائے۔ ہمارے بزرگ، جن کے پاس پرانے دستاویزات یا والدین کے ریکارڈز نہیں ہیں، اور وہ غریب جو فیس ادا کرنے یا پیچیدہ عمل سے گزرنے کی استطاعت نہیں رکھتے، ان کے لیے رجسٹریشن کا عمل آسان کیا جائے۔
دیہی اور پسماندہ علاقوں میں مقامی زبانوں میں آگاہی مہمات چلائی جائیں تاکہ ہر شخص اس پالیسی کو سمجھ سکے۔ پنچایت سرٹیفکیٹس جیسے مقامی اسناد کو قبول کیا جائے تاکہ جن کے پاس رسمی دستاویزات نہیں ہیں، وہ بھی اپنی شناخت ثابت کر سکیں۔ فیسوں کو مکمل طور پر ختم یا کم سے کم رکھا جائے، اور موبائل ایپلیکیشنز یا آن لائن پورٹلز کے ذریعے سہولت فراہم کی جائے تاکہ شہریوں کو طویل قطاروں اور بیوروکریٹک پیچیدگیوں سے نہ گزرنا پڑے۔
 عام اور بزرگ شہریوں، اقلیتوں، اور نقل مکانی کرنے والوں کے لیے خصوصی رجسٹریشن کیمپس لگائے جائیں، جہاں مفت یا کم خرچ میں رجسٹریشن کی سہولت دی جائے۔
  شہریت سے محرومی کے معاملات سے بچنے کے لیے ایک واضح اور منصفانہ قانونی فریم ورک بنایا جائے، جو ہندوستانی آئین کے اصولوں کی پاسداری کرے اور کسی بھی شہری کو اس کی سرزمین پر اجنبی ہونے کا احساس نہ دلائے۔
 یہ پالیسی انتظامی شفافیت کی طرف ایک قدم ہو سکتی ہے، لیکن اگر اسے حساسیت اور عوامی سہولت کے بغیر نافذ کیا گیا تو یہ لاکھوں شہریوں کے لیے شناخت کا بحران پیدا کر سکتی ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں سے اپیل ہے کہ وہ اس موقع کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی برادری کی بھلائی کے لیے کردار ادا کریں۔
 اپنے دستاویزات مکمل کریں، دوسروں کی مدد کریں، اور شعور بیدار کریں۔ 27 اپریل 2026 سے پہلے اپنی پیدائش کے سرٹیفکیٹ سمیت تمام اہم دستاویزات مکمل کریں۔ اپنی شناخت کو محفوظ بنائیں اور اپنی برادری کی مدد کریں۔ اب عمل کریں، مستقبل کی پریشانیوں سے بچیں!