Lawyers in Jagtial Protest

 چیف جسٹس آف انڈیا پر حملے کے خلاف جگتیال میں وکلا کا احتجاج

تازہ خبر تلنگانہ
 چیف جسٹس آف انڈیا پر حملے کے خلاف جگتیال میں وکلا کا احتجاج
سیاہ پٹیاں باندھ کر عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ
جگتیال:۔ 7 اکتوبر
 (نامہ نگار)
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بی۔ آر۔ گَاوائی پر ہوئے حملے کے خلاف جگتیال ضلع کے وکلا نے منگل کو زبردست احتجاج کیا۔ وکلا کی جے۔ اے۔ سی۔ (JAC) کی قیادت میں تمام وکلا نے سیاہ پٹیاں باندھ کر عدالتی کارروائیوں کا بائیکاٹ کیا۔
بعد ازاں انہوں نے ایک ریلی نکالی جو تحصیل چوراہے پر واقع ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کے مجسمہ تک پہنچی، جہاں انہوں نے حملے کے خلاف اپنا احتجاج درج کرایا۔
اس موقع پر وکلا نے کہا کہ سپریم کورٹ میں پیش آنے والا یہ واقعہ دراصل آئین پر حملہ ہے۔ انہوں نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ وکلا کے تحفظ کے لیے خصوصی قانون بنایا جائے تاکہ عدالتی نظام کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔مقررین نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وکالت کے بھیس میں موجود انتہا پسند عناصر عدالتی نظام کو کمزور کر رہے ہیں۔
 وکلاء کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں پیش آیا واقعہ ہندوستانی عدالتی تاریخ کا ایک سیاہ دن بن کر رہ گیا ہے۔وکلا نے مزید مطالبہ کیا کہ چیف جسٹس پر حملہ کرنے والے شخص کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کیا جائے اور اس کے پسِ پشت سرگرم غیر قانونی عناصر کی مکمل تحقیقات کر کے انہیں بے نقاب کیا جائے۔
اس احتجاجی پروگرام میں وکلا بیرودول لکشمن،محمد سلیم، کورماچلم اوما مہیش، گڈکنڈولا مہیش، چِرّا دلیپ، کروناکر، پُرشوتھم،محمد اکبر، سنتوش، راجنا، محمدفضل، روی، وینکٹیش، نکھل، سائی، کرن اور راجو سمیت دیگر وکلا نے شرکت کی