افغان وزیرِ خارجہ مولانا امیر خان متقی کا دارالعلوم دیوبند کا تاریخی دورہ
پرتپاک استقبال ۔ "قاسمی” روایت سے منسلک ہونے کی رسم ادا ۔
دارالعلوم لائبریری میں طلباء سے مخاطب کرنے والی تقریر منسوخ
نئی دہلی؍دیوبند:۔11؍اکتوبر
(انٹر نیٹ ڈیسک)
افغانستان کے قائم مقام وزیرِ خارجہ مولانا امیر خان متقی نے ہفتہ کے روز اتر پردیش کے معروف دینی ادارے دارالعلوم دیوبند کا باضابطہ دورہ کیا، جہاں ان کا دارالعلوم کے علما، اساتذہ اور طلبا نے نہایت پرتپاک اور احترام کے ساتھ استقبال کیا۔مولوی امیر خان متقی نئی دہلی سے سڑک کے راستے دوپہر کے وقت دیوبند پہنچے۔
ان کے دورے کے سلسلے میں مقامی انتظامیہ اور سکیوریٹی اداروں نے پیشگی تیاری کر رکھی تھی، جبکہ دارالعلوم کی انتظامیہ نے بھی خصوصی استقبال کے انتظامات کیےاستقبالیہ تقریب میں دارالعلوم کے مہتمم مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی نے مہمانِ خصوصی کا خیرمقدم کیا۔ اس موقع پرجمعیۃ علماء ہند کے صدر و ناظم تعلیمات مولانا ارشد مدنی اور دیگر ممتاز علما بھی موجود تھے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، مولانا امیر خان متقی کو طلبا کے سامنے متعارف کروایا گیا اور انہوں نے دارالعلوم کے اہم نمائندوں سے ملاقاتیں بھی کیں۔متعدد رپورٹس کے مطابق، دارالعلوم کے علما نے مولانا امیر خان متقی کو اجازت حدیث کی سند مرحمت فرمائی اورانہیں دستار بھی دیاگیاہے۔
امارت اسلامیہ افغانستان کے وزیر خارجہ حضرت مولوی امیر خان متقی کی دارالعلوم دیوبند تشریف آوری کے موقع پر حضرت اقدس مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی دامت برکاتہم العالیہ (مہتمم و شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند) کے کلماتِ استقبالیہ، جس میں حضرت والا نے وزیر محترم اور امارت افغانستان کی خدمت میں خراجِ تشکر و امتنان پیش کیا اور وزیر موصوف کی دیوبند آمد کو اہلِ دیوبند کے لیے سعادت گردانا۔
نیز اس کے ساتھ وزیر مکرم مولوی امیر خان متقی صاحب کے تاثراتی کلمات، جس میں وزیر محترم نے دارالعلوم دیوبند اور افغانستان کے قدیم تعلقات، دارالعلوم دیوبند کی عظیم ترین دینی و اصلاحی خدمات اور ہندوستان کے دینی مدارس کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

بعض ذرائع نے یہ بھی اطلاع دی کہ انہیں دارالعلوم کی علمی روایت کے تسلسل میں روایتی لقب “قاسمی” سے منسوب کرنے کی رسم بھی ادا کی گئی، جو اس دورے کو ایک محض رسمی ملاقات سے آگے ایک گہرے علمی و روحانی تعلق کی علامت بناتی ہے مولانا امیر خان متقی نے اس موقع پر مقامی میڈیا اور طلبا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ میں دیوبند کے علمائے کرام اور اہلِ علاقہ کے اس پرتپاک استقبال پر تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔
ہندوستان اور افغانستان کے تعلقات کا مستقبل مجھے نہایت روشن نظر آتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی، تعلیمی اور اقتصادی روابط کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے۔میڈیا اطلاعات کے مطابق، مولوی امیر خان متقی کی دارالعلوم لائبریری میں طلباء سے مخاطب کرنے والی تقریر منسوخ کردی گئی۔
وہ اپنے مقررہ وقت سے تقریباً ڈھائی گھنٹے قبل ہی روانہ ہو گئے۔ان کے قیام کا وقت شام 5 بجے تک طے تھا، مگر وہ دوپہر ڈھائی بجے ہی واپس چلے گئے۔ ذرائع کے مطابق، یہ افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ ہجوم کے بے قابو ہونے کے باعث ان کی تقریر منسوخ ہوئی، تاہم اس بارے میں کوئی سرکاری وضاحت جاری نہیں کی گئی۔
قبل ازیں، دیوبند پہنچنے پر ان کا پھولوں کی پتیاں نچھاور کر کے پرتپاک استقبال کیا گیا۔ طلبا کی بڑی تعداد ان سے ملنے کے لیے دوڑی، جس کے نتیجے میں ہجوم بڑھ گیا اور حفاظتی حصار ٹوٹ گیا۔
پولیس کو ہجوم کو کنٹرول کرنے کے لیے مداخلت کرنی پڑی، جس کے باعث گارڈ آف آنر دینے کا پروگرام بھی منسوخ کر دیا گیا۔تقریر کی منسوخی کے بعد، جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے وضاحت دیتے ہوئے کہاکہ وزیرِ خارجہ نے دارالعلوم میں آنے والے طلبا سے پہلے ہی بات چیت کرلی تھی، لیکن ان کے ساتھ موجود وزارت کے اہلکاروں نے جلد واپسی پر اصرار کیا۔
دارالعلوم دیوبند کو اسلامی دنیا کے قدیم ترین اور معتبر دینی مراکز میں شمار کیا جاتا ہے۔ افغان علما اور طلبا کا اس ادارے سے گہرا تاریخی اور تعلیمی تعلق رہا ہے۔ مولانا امیر خان متقی کا یہ دورہ اس دیرینہ رشتے کو ایک بار پھر زندہ کرنے اور مذہبی قربت کے اظہار کا موقع قرار دیا جا رہا ہے
دورے کے بعد قومی رپورٹس میں یہبھی خبر چھپی کہ اس سلسلے میں خواتین صحافیوں کی رسائی سےیہ بات بھی سامنے آئی ہے خواتین صحافیوں کو اندرونی پبلک پروگرام یا پریس بریفنگ کے قریب بیٹھنے کی اجازت محدود رکھی گئی یا علیحدہ انتظام کیا گیا۔ دارالعلوم کے میڈیا انچارج اشرف عثمانی نے انہیں پردے کے پیچھے علیحدہ بیٹھنے کے لیے کہا۔