abused-by-a-senior-leader copy

سابق ایم پی کے قریبی نے مجھے "مُلی” اور "دہشت گرد” کہا 

تازہ خبر قومی
سابق ایم پی کے قریبی نے مجھے "مُلی” اور "دہشت گرد” کہا 
خواتین کی توہین برداشت نہیں کروں گی ۔ رکن پارلیمنٹ اقرا حسن 
سہارنپور ؍ کیرانہ 16؍؛۔اکتوبر
(زیڈ این میڈیا سرویس)
اتر پردیش کے کیرانہ حلقہ سے سماج وادی پارٹی (ایس پی) کی رکن پارلیمنٹ اقرا حسن نے الزام لگایا ہے کہ سابق ایم پی کے قریبی ساتھی نے ان کے اور ان کے خاندان کے خلاف نازیبا اور فرقہ وارانہ زبان استعمال کی۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں اقرا حسن نے جذباتی انداز میں کہا کہ انہیں "ملی” اور "دہشت گرد” کہا گیا، جو نہ صرف ان کی بلکہ پورے علاقے کی خواتین کی توہین ہے۔
اقرا حسن نے اپنے خطاب میں بتایا کہ ان کے خاندان کے بارے میں توہین آمیز تبصرے کیے گئے اور انہیں بار بار مذہب کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا۔انہوں نے کہا کہ مجھے "مُلی”، "دہشت گرد” کہا گیا اور میرے والد کو گالیاں دی گئیں۔ یہ صرف میری نہیں بلکہ ہر عورت کی توہین ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ ایک اعلیٰ سطحی رہنما کے اشارے پر یہ سازش کی جا رہی ہے تاکہ ان کی شبیہ کو نقصان پہنچائی ہے۔
سہارنپور کے چھاپور گاؤں میں مندر کی بے حرمتی کے واقعے کے بعد پیش آئے تنازع کے تناظر میں اقرا حسن بدھ کے روز موقع پر پہنچیں۔انہوں نے کہاکہ میں مندر کی بے حرمتی کے واقعے سے دکھی ہوں۔ کسی بھی عبادت گاہ کی توہین ناقابلِ برداشت ہے۔

لیکن مجھے جس طرح مذہب کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا، وہ بی جے پی کی سازش ہے۔جلسے کے دوران اقرا حسن نے جذباتی انداز میں گاؤں والوں سے سوال کیاکہ کیا میں آپ کی برادری کی بیٹی نہیں ہوں؟ اگر میں آپ کے معیار پر پوری نہیں اترتی تو ووٹ مانگنے کی حقدار نہیں۔
 لیکن اگر کوئی لڑکی ہمت سے آگے بڑھ رہی ہے تو کیا اس کے ساتھ زیادتی کی جائے؟انہوں نے کہا کہ سیاست میں آ کر انہوں نے کبھی مذہب یا ذات کی بنیاد پر تفریق نہیں کی۔میرے لیے ہر مذہب، ہر ذات میرا اپنا ہے۔ میری برادری میرے خون میں شامل ہے۔
اگر آپ چاہیں تو میرا خون نکال لیں، مگر میری شناخت پر انگلی نہ اٹھائیں۔یہ تنازعہ چند ہفتے قبل اُس وقت شروع ہوا جب ایک ویڈیو وائرل ہوا جس میں کچھ موٹر سائیکل سوار افراد اقرا حسن اور ان کے اہلِ خانہ کو گالیاں دیتے ہوئے نظر آئے۔
اقرا حسن نے ان افراد کے خلاف شکایت درج کرائی تھی، بعد ازاں پولیس نے انہیں گرفتار کیا، تاہم وہ ضمانت پر رہا ہو گئے۔یہ تمام افراد مبینہ طور پر بی جے پی کے ایک سابق رکنِ پارلیمنٹ کے قریبی بتائے جاتے ہیں۔اقرا حسن نے کہا کہ ان کے خاندان کی سیاسی تاریخ میں کبھی کسی نے ذاتی حملہ نہیں کیا تھا۔شاید لوگوں کو میرا کام پسند نہیں آ رہا، لیکن ذاتی کردار کشی کسی بھی جمہوری سماج کے لیے خطرناک ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جو لوگ آج خود کو عظیم انسان کہتے ہیں، وہ دراصل سماج کو توڑنے کا کام کر رہے ہیں۔اقرا حسن نے چھاپور کے عوام سے اپیل کی کہ وہ تحمل اور اتحاد کا مظاہرہ کریں۔میں سیاست کے نام پر مذہب کو بیچنے والوں کے خلاف ہوں۔ احتجاج سب کا حق ہے، مگر خواتین اور برادری کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرنا سماج کو کمزور کرتا ہے۔
اقراء حسن کے حق میں کانگریس رہنما پون کھیڑا نے بھی بیان جاری کیا، جس میں انہوں نے کہاکہ ایک تعلیم یافتہ، آزاد عورت  خاص طور پر ایک مسلم عورت  دائیں بازو کے غنڈوں کو سب سے زیادہ پریشان کرتی ہے۔
اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اس کا کام کتنا ہی بامعنی ہو یا اس کی کامیابیاں کتنی ہی ناقابلِ تردید ہوں، وہ اس کے وجود کو طعنے دیتے ہیں، بہتان لگاتے ہیں اور اس کے وجود کو اپنی سوچ کے مطابق لیبل لگا دیتے ہیں۔ ان کے تنگ، غیر محفوظ ذہن صرف اس سیاست کو نہیں سمجھ سکتے جو نفرت یا مذہبی پولرائزیشن سے آزاد ہو۔”