ماں اور بھائیوں پر حملہ کرنے والے بیٹے کو تین سال قید
خاندانی تشدد ناقابلِ برداشت جرم قرار۔ عدالت کا فیصلہ
جگتیال:۔15؍اکتوبر
(زین نیوز)
جگتیال ضلع کے دھرم پوری علاقے میں ماں اور بھائیوں پر حملہ کرنے کے مقدمے میں عدالت نے ملزم کو تین سال قید کی سزا سنائی۔ جوڈیشل فرسٹ کلاس مجسٹریٹ دھرم پوری محترمہ ایگی جانکی نے یہ فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ خاندانی رشتوں میں تشدد نہ صرف اخلاقی بلکہ قانونی طور پر بھی سنگین جرم ہے۔
تفصیلات کے مطابق، دھرم پوری پولیس اسٹیشن کی حدود میں واقع دونتاپور گاؤں کے رہائشی ایرا اکشے کمار (عمر 21 سال) نے اپنی ماں ایرا کلاوتی سے رقم کے مطالبے پر جھگڑا کیا۔ شکایت کنندہ کے مطابق، شوہر کی وفات کے بعد اکشے کمار اکثر ماں سے پیسے مانگتا اور بات نہ ماننے پر بدسلوکی کرتا تھا۔
بتایا جاتا ہے کہ 4 اکتوبر 2020 کی رات تقریباً نو بجے، ملزم نے اپنے چند دوستوں کے ہمراہ گھر میں گھس کر ماں اور اپنے بھائیوں سنجے اور ادے کمار پر حملہ کیا۔ بیچ بچاؤ کے لیے مداخلت کرنے والے داسری کِشن کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ واقعے کے بعد متاثرہ خاتون نے دھرم پوری پولیس اسٹیشن میں تحریری شکایت درج کرائی۔
پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا، جہاں دورانِ سماعت شواہد اور گواہوں کی بنیاد پر عدالت نے ایرا اکشے کمار کو تین سال قید کی سزا سنائی۔اس مقدمے میں مؤثر تفتیش اور ثبوت فراہم کرنے پر ایڈیشنل پبلک
پراسیکیوٹر راجیش، سب انسپکٹرز سری کانت، کرن کمار، CMS ایس آئی سری کانت اور کورس کانسٹیبل مہیش کی کارکردگی کو جگتیال ضلع کے ایس پی اشوک کمار (آئی پی ایس) نے خصوصی طور پر سراہا۔عدالت کے اس فیصلے کو عوامی سطح پر ایک مثبت مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس سے یہ واضح پیغام گیا ہے کہ خاندانی یا گھریلو تنازعات میں تشدد کسی طور قابلِ قبول نہیں۔
