معجزہ فن کی ہے خون جگر سے نمود………………
سید عظمت اللہ:بین الاقوامی شہرت یافتہ سیرامک اینڈ کرسٹل آرٹسٹ
چیف منسٹر کے سی آر، وزیرآئی ٹی کے ٹی آر، رکن کونسل کویتا، جگن موہن ریڈی کے علاوہ بین الاقوامی قائدین سعودی بادشاہ ملک عبد العزیز،پرنس چارلس کے خوبصورت سیرامک و کرسٹل پورٹریٹس کے تخلیق کار
……سید رافت اللہ……
حیدرآباد16:؍مارچ
موتیوں کے شہر اورہیروں کی منڈی کی حیثیت سے دنیا بھرمیں معروف حیدرآباد کواس بات کا امتیاز حاصل ہے کہ اس نے اپنی سرزمین سے ایسے ایسے نادر ونایاب تراشدہ ہیرے جنم دئے ہیں جنہوں نے اس سرزمین سے اُٹھ کر دنیا بھر کو اپنے علم و ہنر سے روشن و منور کردیا ۔
شہرکی ایک ایسی ہی شخصیت سید عظمت اللہ کاشمارآج کرسٹل آرٹسٹ کی دنیا میں بین الاقوامی فنکار کی حیثیت سے ہوتا
ہے جنہوںنے سال2000ءسے2005ءتک مسلسل 5برسوں تک سخت جدوجہد اورمشق کے بعدقیمتی نگینوں(کرسٹل) کے ذریعہ بین الاقوامی شخصیتوں کے جگمگاتے اور عظیم الشان پورٹریٹس بنانے کے چیلنجنگ کام کا آغاز کیا ۔
سید عظمت اللہ نے صدر تلنگانہ جاگرتی و رکن قانون ساز کونسل کے کویتا کی سالگرہ کے موقع پران کی بے مثال سیاسی خدمات اور انسانیت نوازی پر اپنے دلی جذبات اور تعلق قلبی کا اظہار کرنے کیلئے محترمہ کویتا کی ایک مسکراتی ہوئی تصویر کو جگمگاتے ہوئے قیمتی نگینوں سے تیار کرتے ہوئے انہیں بطور تحفہ پیش کیا ہے ۔
اس پورٹریٹ کی تیاری میں جو قیمتی نگینے استعمال کئے گئے ہیں ان میں آسٹریا سے درآمد کردہ سواراوسکی (Swarovski) کرسٹلس اور چیک ریپبلک سے درآمد پریسیوزا (Preciosa) کرسٹلس شامل ہیں۔ مذکورہ پورٹریٹ میں 33 ہزار کرسٹلس کا استعمال کیا گیا اور 46 رنگوں(colors) سے مزین کیا گیا۔ اس پورٹریٹ کا ہر ایک نگینہ کو ہاتھوں سے کینوس پر خصوصی کیمیکل سے چسپاں کیا گیا جس میں تقریبا دیڑھ ماہ کا وقت درکار ہوا۔

اپنے پر کشش پورٹریٹ کا دیدار کرنے کے بعد کلوا کنٹلہ کویتا نے نہ صرف بے حد مسرت کا اظہار کیا بلکہ اس نادرونایاب فن سے وابستہ انفرادی فنکارکی عزت وحوصلہ افزائی کرتے ہوئے بے پناہ توقیر اوراحترام سے نوازتے ہوئے انہیں شالپوشی کرتے ہوئے انہیں تہنیت پیش کی ۔
سید عظمت اللہ کوبچپن سے آرٹسٹ بننے کا شوق رہا ہے جسے انہوں نے ایک انفرادی رجحان میں تبدیل کرتے ہوئے قیمتی نگینوں کی آمیزش کے ذریعہ اس فن میں چارچاند لگادئے ۔اس طرح سیدعظمت اللہ کو بین الاقوامی سطح پر کرسٹل آرٹ کا موجد اور بانی کہلائے جانے کابھی مکمل اعزاز حاصل ہے ۔
جس طرح ہر دہائی میں دنیا نے ایک نیا سنگ میل عبور کیا ہے اسی طرح سید عظمت اللہ نے بھی 1970 سے تاحال یعنی
5 دہائیوں میں اپنے ہنر میں مزید نکھار لایا اور بین الاقوامی سطح پر اپنی منفرد شناخت بنائی۔انہوں نے 1970 کی دہائی میں
کمپیوٹر پروگرامنگ کے ذریعہ پورٹریٹس بنانے کا آغاز کیا۔ 80 کی دہائی میں انہوں نے اپنے کام میں اختراع لاتے ہوئے سیرامک پینٹنگ کے ذریعہ پورٹریٹ بنائے اور سال 2005 سے قیمتی نگینوں کے ذریعہ خوبصورت پورٹریٹس تیارکئے۔
واضح رہے کہ سید عظمت اللہ نے نہ صرف تلنگانہ کے جگمگاتے ستاروں بشمول وزیراعلیٰ کے سی آر‘ کے کویتا ‘ کے ٹی آربلکہ
چیف منسٹر آندھرا پردیش جگن موہن ریڈی بلکہ قومی عظیم سیاسی شخصیات سابق وزیراعظم آنجہانی اندرا گاندھی، راجیو گاندھی ، سابق صدر جمہوریہ فخر الدین علی محمد کے علاوہ سابق صدر نشین یوپی اے اوراے آئی سی سی سونیا گاندھی‘ راہول گاندھی سے اپنی فنکاری اورہنرمندی کی داد اور حوصلہ افزائی حاصل کرچکے ہیں ۔ اس کے علاوہ سید عظمت اللہ کی قیمتی نگینوں سے تیار کردہ شاہکار پورٹریٹس کا اگر ذکرکیا جائے
جنہوں نے بین الاقوامی سطح کی جانب اپنی توجہ مبذول کروائی تو ان میں بیت المقدس کا وہ لاثانی پورٹریٹ بھی شامل تھا جس
کا سلطنت اسلامیہ ترکی کے غیور حکمراں طیب اردغان کے ہاتھوں افتتاح عمل میں آیا تھا جسے سید عظمت اللہ اپنے ایک شاہکارپورٹریٹ کا درجہ بھی دیتے ہیں ۔
اس کے علاوہ اانھوں متحدہ عرب امارات کے حکمرانوں بشمول شیخ راشد المختوم کے علاوہ امیرقطر‘کویت ‘سعودی پرنس ولید بن طلال اور خلیج کے دوسرے بڑے عرب ملک سعودی
عربیہ کے اس وقت کے حکمرانوں شاہ عبد العزیز کے علاوہ ملک فہد بن عبد العزیز اور ولی عہد پرنس عبداللہ بن عبد العزیز کے پورٹریٹ کی تیاری کا بھی اعزاز حاصل ہے ۔
یہاں اس امر کا تذکرہ بےجا نہ ہوگا کہ سعودی عرب کے ملک فہد بن عبد العزیز السعود کے قدآورکرسٹل پورٹریٹ کی تیاری بھی
سید عظمت اللہ کے ہاتھوں مکمل ہوئی جسے بعدازاں فٹبال ورلڈ کپ کے موقع پرنصب کیاگیا تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے کئی بین الاقوامی شخصیات بشمول برطانیہ کے سابق وزرائے اعظم ڈیوڈ کیمرون اور تھرےسامئے، لندن کے میئر صادق خان، ہوم سکریٹری ساجد جاوید اوربرطانوی شاہی گھرانے کے پرنس چارلس ، ڈوچس آف کیمبرج کیٹ مڈلٹن اورسابق صدر امریکہ بل کلنٹن کے پورٹریٹس بھی شامل ہیں۔
