بجٹ اعداد و شمار کی ہیرا پھیری ۔ ملو بھٹی وکرما کا ردعمل
بجٹ صرف کاغذیہ اورگلرکےپھل کے مماثل۔بی جے پی کا ردعمل
حیدرآباد:18؍مارچ
( زین نیوز ڈاٹ نیٹ)
تلنگانہ حکومت کی جانب سے آج بجٹ 2021-2022پیش کیا گیا۔وزیر خزانہ ہریش راؤ نے تلنگانہ اسمبلی میں مکمل بجٹ پیش کیا۔ انھوں نے اپنی بجٹ تقریر میں کہاکہ ریاستی حکومت تمام طبقات کی فلاح و بہبود کی پابند ہے اور ریاست کی تمام شعبوں میں ترقی حکومت کا اولین مقصد ہے
وزیر اعلیٰ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی زیر قیادت ریاست تمام شعبۂ جات میں ترقی کی راہ پر گامزن ہےگذشتہ سات
سالوں میں تلنگانہ ترقی میں دوسری ریاستوں سے آگے نکل گئی ہے تلنگانہ ترقی میں سب سے آگے ہے اور ہم طے شدہ اہداف کو مقررہ مدت میں مکمل کر رہے ہیں۔کووڈ -19کےباوجود بجٹ میں بہبود عامہ اور ریاستی ترقی کو ترجیح دی گئی ہے۔کورونا کی وجہ سے عالمی معیشت تباہ ہوگئی ہےاورکورونا کا ریاست پر شدید اثر پڑا لیکن ہم پریشانیوں اور چیلنجوں پر قابو پا کر آگے بڑھ رہے ہیںہریش راؤ نے کہاکہ اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ مجھے ریاست کا بجٹ پیش کرنے کا موقع نصیب ہوا ہے
ریاستی وزیر خزانہ ہریش راؤ نے مالی سال 2021-2022 روپئے کے تخمینہ کے ساتھ 2 لاکھ 30 ہزار 825 کروڑ روپے بجٹ
پیش کیا۔جس میں آمدنی1لاکھ96ہزار383کروڑ روپئے ہےتوقع ہے کہ مالیاتی خسار54کروڑ905لاکھ روپئے ہوگا۔ہر ایک رکن اسمبلی کو ایریا ڈیولپمنٹ کے لئے سالانہ 5؍کرور روپئے اور قانون ساز کونسل کے لئے800 کروڑ روپئے بجٹ مختص کیے گئے ہیں نئی سکریٹریٹ کے لئے610کروڑ روپئے‘ اوریجنل رنگ روڈ کی حصول اراضی کے لئے570 کروڑمحکمہ جنگلات کے لئے6721 کروڑآرٹی سی کے لئے8کروڑ‘ گرام پنچایت دیہی ترقیات کے لئے172.92کروڑ روپئے مختص کیے گئے ہیںوہیں وزیرخزانہ نے تلنگانہ بجٹ میں اقلیتوں کےلیے1606 کروڑ روپے‘ شادی بیاہ کے لئے کلیان لکشمی اور شادی مبارک اسکیم کے لئے 2750 کروڑ روپے ‘بپاشی شعبہ کےلیے 62ہزار کروڑ روپئے‘ ڈبل بیڈروم مکانات کے لئے 11ہزار کروڑ روپے مختص کئے ہیں
ریاستی وزیر خزانہ مسٹر ٹی ہریش راؤ کی جانب سے بجٹ پیش کیے جانے کے بعد حزب اختلاف کے رہنماوں نے شدید تنقید کی
اور کہاکہ یہ اس یہ بجٹ عام آدمی کے لئے اچھا نہیں ہے حکومت عوام کو گمراہ کررہی ہے سی ایل پی قائد بھٹی ملو وکرما نے بجٹ پر اپنی برہمی کا اظہار کیا انھوں نے میڈیا کے نمائندوں سے مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ کورونا سےپریشانیوںکا سامنا کرتے ہوئے کس طرح2,30,825.96کا بجٹ پیش کیا گیاریاست ابھی تک3.5لاکھ کروڑ کی مقروض ہےمزید 45,509لاکھ کروڑکا خسارہ بتایا گیا ہےڈبل بیڈ رومس مکانات ‘ ملازمتیں‘نہیں ہیں اعدادوشمار کے ذریعہ صرف عوام کو دھوکہ اور گمراہ کرنے والا بجٹ ہےحکومت نے عوام کو پھر دھوکہ دیا اور مایوس کردیا
وہیں بی جے پی کے ارکان اسمبلی نے بھی شدید تنقید کرتے ہوئے دوباک کے ایم ایل اے رگھو نندن راؤ نے بجٹ کوگلرکےپھل کے مماثل قرار دیا اورکہاکہ ہیں تارک وطن خلیجی کارکنوں کو مکمل نظر انداز کیا گیا ہے جبکہ 500کروڑ روپئے بجٹ مختص کرنے کا اعلان کیا گیا تھا
گوشہ محل بی جے پلی کے ایم ایل اے راجا سنگھ نے کہاکہ یہ بجٹ صرف کاغذیہے کوئی عمل آوری نہیں ہوگی۔ کھیل کے شعبوں کو نظر انداز کیا گیا ہے