حیدرآباد۔ 21؍مارچ
(نمائندہ خصوصی)
گریٹر حیدرآباد میں چند ماہ سے کورونا وائرس کا خوف ختم ہو گیا تھا شہر میں معمول کی زندگی جاری تھی لیکن ملک کی کئی ریاستوں میں کورونا کی دوسری لہر اور تلنگانہ میں کورونا کیسس میں دن بہ دن اضافہ کے بعد گریٹر حیدرآباد اور اطراف و اکناف میں پھر ایک مرتبہ کورونا کا خوف دیکھا جا رہا ہے
خاص کر اسمبلی میں چیف منسٹر کے چندرشیکھررا¶ کی جانب سے دو یوم میں اسکولس جاری رکھنے یا بند کرنے کے فیصلے سے متعلق بات کے بعد عوام کورونا سے محفوظ رہنے کے تدابیر اختیار کر رہے ہیں اور دوبارہ شہر میں ماسک کا استعمال دیکھا جارہا ہے ۔

ریاست بھر میں کورونا کے واقعات میں اضافہ ہورہاہے اور خاص کر اسکولوں سے منفی اطلاعات موصول ہورہی ہیں کیونکہ اسکولوں میں طلبہ اور اساتذہ کے کورونا ٹسٹ کی مثبت رپورٹس نے طلبہ،والدین، اسکول انتظامیہ،متعلقہ حکام اور حکومت کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔
ریاستی حکومت کورونا کی ایک لہر کو روکنے کےلئے کوشاں ہے اور اسکولوں کے بارے میں آئندہ دو یا تین دن میں اہم فیصلہ کرے گی کیونکہ چند تعلیمی اداروں میں وائرس کے معاملات میں اضافہ ہوا ہے۔
چیف منسٹر کے چندر شیکھر را¶ نے اسمبلی میں کہا کہ کورونا کے معاملات میں ایک بار پھر اضافہ ہونا شروع ہو گیا ہے، اگرچہ اس کے خاتمے کے بارے میں سوچا جارہا تھا جبکہ پڑوسی ریاست مہاراشٹر ا میں یہ وائرس تیزی کے ساتھ پھیل رہا ہے

انھوں نے مزید کہا ہے کہ کورونا کی دوسری لہر نہیں آئی ہے لیکن اب اس میں وائرس کے پھیلنے میں اِضافہ ہورہا ہے اور ہماری ریاست کے محکمہ صحت کی جانب سے وائرس کے پھیلا¶ کی روک تھام کےلئے تمام کوششیں کی جارہی ہیں اور ریاستی چیف سکریٹری کو بھی چوکنا کردیا گیا۔
چیف منسٹر کا کہنا تھا کہ ہم تشویش میں مبتلا ہیں کیونکہ اسکولوں میں مثبت کسی رپورٹ کیے جارہے ہیں۔ جب ہمارے ہاسٹلوں میں ایسا ہوتا ہے تو یہ ہمارے لئے پریشانی کی بات ہے کیونکہ یہ سب بچے ہیں اور ساتھ رہتے ہیں۔
تعلیمی سرگرمیں کو جاری رکھنا ہے یا کیا کرنا ہے اس ضمن میں چند ایک دن میں فیصلہ کیا جائے گا ۔کیونکہ ہم اپنے بچوں کو تکلیف نہیں دے سکتے۔یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا چند ماہ سے ریاست کے دار الحکومت حیدرآباد میں سماجی فاصلے کا کوئی پاس و لحاظ نہیں کیا جا رہا ہے لیکن اب کئی لوگ سماجی فاصلے کی برقراری کےلئے شادیوں اور دیگر تقاریب میں شرکت کرنے سے گریز کر رہے ہیں
