اسمبلی کے محاصرہ کی کوشش۔
حیدرآباد:25؍مارچ
(زین نیوز ڈاٹ نیٹ)
ملازمین کی سبکدوشی کی حد عمر میں اضافہ کی بل کی فوری منسوخی کا مطالبہ کرتے ہوئے آج عثمانیہ یونیورسٹی کے طلباء یونینوں کی جانب چلو اسمبلی پروگرام کا اعلان کرتے ہوئے آرٹس کالج سے ہاتھوں میں پلے کارڈس تھامے ریالی کی شکل میںنکال کر اسمبلی کا محاصر ہ کرنے کی کوشش کی جس کے نتیجہ میں کچھ دیر کے لئے کشیدگی پھیل گئی ۔

پولیس نے فوری چوکسی اختیار کرتے ہوئے بل کی منسوخی کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کرنے والے عثمانیہ یونیورسٹی طلباء یونینوں کے قائدین کواسمبلی کے سامنے سے حراست میں لتے ہوئے نامپلی پولیس اسٹیشن منتقل کردیا۔
عثمانیہ نیورسٹی طلباء یونینوں کے قائدین ویلپولہ سنجے بی ایس ایف‘ اورگنٹی کرشنا عثمانیہ جے اے سی‘ کوتہ پلی تروپتی این ٹی وی ایس‘ وینوگوپال بی وی ایس‘ٹی بی ایس‘ جیشیٹی شنکر‘ شریش‘ چندو‘ رامو‘ جوش کے علاوہ دیگر طلباء یونینوں کے قائدین نے ملازمین کی سبکدوشی کی حد عمر میں اضافہ کی بل کی منسوخی کا مطالبہ کرتے ہوئے اسمبلی کے محاصرہ کی کوشش کی اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔ اور انصاف کا مطالبہ کیا

اس موقع پر طلباء یونین کے قائدین نے مخاطب کرتےہوئے کہاکہ کے سی آر کے زیر قیادت تلنگانہ حکومت ملک کی پہلی ریاست ہے جہاں ملازمین کی سبکدوشی کی حد عمر میں اضافہ کیا جب کہ کسی ملازم کی جانب سے اضافہ کا مطالبہ نہیں کیا گیا ہے ‘ کے سی آر کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ 12؍سو طلباء کے قربانیوں کے نتیجہ میں کے سی آر تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ کے عہدہ پر فائز ہیں اور ان ہی طلباء کی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ کررہے ہیں ‘ اور طلباءکے مستقبل کو تباہ کررہے ہیں
کسی ایک ملازم سے پوچھے بغیر عمر کی حد میں اضافہ کرنا درخت کی شاخ پر بیٹھ کر خود شاخ کے کاٹنے کے مترادف ہے‘ طلباء یونین کے قائدین نے فوری طور پر عمر کی حد میں اضافہ کی بل کی منسوخی کا مطالبہ کیا دیگر صورت حکومت کو شدید احتجاج کا سامنا کرنا پڑئیگا
