حیدرآباد۔
نمائندہ خصوصی
خوش نصیب ہے وہ شخص جو علم کے زیور سے آراستہ و پیراستہ ہوتا ہے۔علم کے بغیر انسان ‘ انسان نہیں رہتا۔علم ‘ انسان کو اعلیٰ و ارفع مقام عطا کرتا ہے۔علم سے ہی انسان میں اچھے اور برے کی تمیز پیدا ہوتی ہے۔ہر دور میں علم کی اہمیت و افادیت پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔تعلیم یافتہ قوم سے ہی ایک اچھا معاشرہ پروان چڑھتا ہے۔ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر محمد غوث ڈائرکٹر/سکریٹری اردو اکیڈیمی تلنگانہ نے ڈاکٹر میر شمس الدین احمد خان کی تہنیتی تقریب سے کیا جو ارپن جنتاسیواچیرٹیبل ٹرسٹ کی جانب سے منعقد کی گئی۔ڈاکٹر میر شمس الدین احمد خان کی کتاب” حیدرآباد کے لبا طبقے کے سماجی و معاشی حالات کا جائزہ” کو اردو اکیڈیمی تلنگانہ نے سال 2018کیلئے انعام دوم سے نوازا ہے۔تقریب کی صدارت صدر ٹرسٹ محمد واحد علی خان ایڈوکیٹ منیجنگ ٹرسٹی نے کی۔سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے ڈاکٹر محمد غوث نے کہاکہ ڈاکٹرمیرشمس الدین احمدخان ایک سنجیدہ اسکالر ہے جنہوں نے سماج کے پسماندہ طبقات کے سماجی ومعاشی حالات کومنظرعام پرلانے کی کامیاب کوشش کی ہے جس کی جتنی بھی ستائش کی جائے کم ہے۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کی ریسرچ سماج کے دبے کچلے اور علم سے محروم افراد کیلئے انتہائی سود مند ثابت ہوگی۔ ڈاکٹرم ق سلیم نے کہاکہ مصنف کتاب طویل عرصہ سے خاموش عوامی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ موصوف کی دواہم کتابیں منظرعام پرآچکی ہیں۔ موصوف’ مسلم سماج کے ہرپسماندہ طبقات اوران کی سیاست اور سماج پر گہری نظر رکھنے والی شخصیت ہے۔ایڈوکیٹ محمدواحدعلی خان نے کہا کہ ارپن جنتاسیواچیرٹیبل ٹرسٹ ہمیشہ سے ادبائ’ سماجی جہدکاروں کی ہمت افزائی کی کوشش کرتا ہے۔ لاک ڈاون سے لیکرسیلاب متاثرین کی بھی ٹرسٹ کی جانب سے مالی مدد کی گئی۔ انہوں نے کہاکہ ڈاکٹرمیرشمس الدین احمدخان اس عمرمیںبھی سماجی خدمات کو جاری رکھے ہوئے ہیں وہ ایک بہترین کارنامہ ہے۔ڈاکٹرسیدحبیب امام قادری نے کہاکہ ڈاکٹرمیرشمس الدین احمد خان نے مولانا آزادنیشنل اردویونیورسٹی کے شعبہ البیرونی مرکزبرائے مطالعات ِسماجی اخراج وشمولیتی پالیسی میں ایم فل اورپی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے ۔انہوں نے اپنے مقالے میں پسماندہ طبقات کے حقوق اورتحفظ کیلئے بنائی جانے والی پالیسیوںسے متعلق تجاویز بھی پیش کیں۔ ڈاکٹرمیرشمس الدین احمدخان نے تمام کاشکریہ اداکیا۔اس موقع پر میرجنیداحمدخان بھی موجودتھے
