امیر شریعت مولانا ولی رحمانی صاحب کا انتقال

تازہ خبر قومی

پٹنہ:3؍اپریل

زین نیوز ڈاٹ نیٹ

ملک کے مہشور عالم دین، امیر شریعت اور خانقاہ رحمانی مونگیر کے روح رواںحضرت امیر شریعت مولانا محمد ولی رحمانی مدظلہ جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈمولانا ولی رحمانی کا آج مختصر علالت کے بعد انتقال ہوگیا۔ وہ گزشتہ کئی روز سے بیمار چل رہے تھےآج صبح سےزیادہ بیمار ہوگئے ہیں، پہلے ان پر غشی طاری ہوئی،پھر تنفس بے قابو ہوگیا،

اعلان:نماز جنازہ
کل بروز اتوار 4 اپریل 2021 ع مطابق 21 شعبان 1442ھ دن میں 11بجے خانقاہ رحمانی مونگیر میں جنازہ کی نماز ہوگی

۔ واضح رہے کہ حضرت مولانا رحمانی صاحب کی دینی وملی خدمات صرف پٹنہ بہار ہی نہیں بلکہ سارے ہندوستان میں روز روشن کی طرح عیاں تھیں ۔علمی ورثہ کے حامل کے خاندان سے آپ کا تعلق تھا ۔پرسنل لابورڈ کا جب عصر حاضر میں نام لیا جاتا ہے تو انکے والد محترم اور مولانا ولی رحمانی صاحب کا نقشہ سامنے آتا ہے ان حضرات کی بڑی خدمات مسلم پرسنل لا بورڈ کے لئے رہی ہیں‘ ملک کی بڑی بڑی سیاسی شخصیات کے ساتھ بھی مولانا کا تعلق رہا ہے

مولانا نے 1974 سے 1996 تک بہار قانون ساز کونسل کے ممبر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ وہ اپنے والد ماجد حضرت مولانا منت اللہ رحمانی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات 1991 کے بعد سے خانقاہ رحمانی مونگیر کے موجودہ سجادہ نشین اور جامعہ رحمانی مونگیر کے سرپرست تھے ، آپ کے دادا مولانا محمد علی مونگیری بانی ندوۃ العلماء ہیں۔ اس خانقاہ کے روحانی سلسلہ میں شاہ فضل الرحمن گنج مرادآبادی بہت ہی اہم کڑی ہیں۔ وہ اس وقت آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے ۔ وہ رحمانی 30 کے بانی بھی ہیں ، وہ پلیٹ فارم جہاں عصری تعلیم کے متعدد شعبوں میں معیاری اعلی تعلیم و قومی مقابلاجاتی امتحانات کے لئے طلباء کو تیار کیا جاتا ہے ۔

اس ادارے سے ہر سال NEET اور JEE میں 100 سے زائد طلباء منتخب ہوتے ہیں۔ حضرت مولانا سید ولی رحمانی عوامی تقریر ، اپنی شخصیت و ملی مسائل میں جرأت صاف گویئ و بےباکی اور دونوں ہی شعبوں میں تعلیم کے لئے مشہور ہیں۔ ان کا ماننا تھا کہ کسی کو ایک وقت میں دونوں طرح کی تعلیم حاصل کرنی چاہئے ، اور کسی بھی چیز سے پہلے انسان کو انسان ہی ہونا چاہئے۔ شاہ عمران حسن نے مولانا ولی رحمانی کی سوانح عمری حیات ولی (حیات ولی) لکھا ہے۔

انا للہ و انا الیہ راجعون اللہم اغْفِرْ لہ وَارْحَمْہُ وَعَافِہِ وَاعْفُ عنہ وَأَکْرِمْ نُزُلَہُ وَوَسِّعْ مُدْخَلَہُ وَاغْسِلْہُ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَنَقِّہِ من الْخَطَایَا کما نَقَّیْتَ الثَّوْبَ الْأَبْیَضَ من الدَّنَسِ وَأَبْدِلْہُ دَارًا خَیْرًا من دَارِہِ وَأَہْلًا خَیْرًا من أَہْلِہِ وَزَوْجًا خَیْرًا من زَوْجِہِ وَأَدْخِلْہُ الْجَنَّۃَ وَأَعِذْہُ من عَذَابِ الْقَبْرِ أو من عَذَابِ النَّارِ. میم ضاد فضلی

تعزيتي پیغام حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی ال انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر کی طرف سے۔۔۔ حضرت امیر شریعت مولانا ولی رحمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی وفات کے تعلق سے