دعاء بھی ایک عبادت ہے‘ بلکہ اعلی درجہ کی عبادت ہے

بین الریاستی تازہ خبر

مسجد اسلامیہ نظام آباد میں مفتی سلمان منصوری صاحب کا ناصحانہ خطاب
تلخیص عبدالقیوم شاکر القاسمی
جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء نظام آباد
اللہ تبارک وتعالی نے اپنے بندوں کو حکم دیا کہ تم مجھ سے مانگو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا جب تم میرے بندو ہو تو تمہاری امیدوں کا مرکز میں ہی ہونا چاہیے یہ بات اللہ کو بہت بری لگتی ہے کہ بندہ اللہ کوچھوڑ کر غیراللہ سے مانگے ایک مثال سے اس بات کو سمجھیں کہ ایک باپ ہے جس کو اللہ ہاک نے مال ودولت بھی دیا ہوا ہے اس باپ نے اہنے بیٹے سے کہ دیا کہ تمہاری جوبھی ضرورت ہو مجھ سے کہو میں اس کی تکمیل کروں گا

لیکن اس نالائق بیٹے نے باپ سے کہنے کے بجاے چوراستہ پر بھیک مانگنے لگ جائے یا کسی دوسرے کے سامنے ہاتھ پھیلاے تو باپ کو ناراضگی اور یقینا ہوگی باالکل اسی طرح اللہ پاک بھی غیروں سے مانگنے پر ناراض ہوجاتے ہیں کہ پیدا تو اس بندہ کو میں نے کیا اس کی ضرورت کی چیزوں کو پورا بھی میں کرتا ہوں لیکن بندہ اللہ کو چھوڑ کر کسی اور سے مانگنے لگ گیا چڑھاوے چڑھانے لگ گیا دوسروں سے منتیں مانگنے لگ گیا اور کوی چیز مل جاے تو اس کی نسبت اللہ کے علاوہ دوسروں کی جانب کردیتا ہے تو اللہ کو جلال آجاتا ہے ایسے بندوں سے اللہ سخت ناراض ہوجاتے ہیں

اللہ کو کونسا بندہ پسند ہے جو مسلسل اسی سے مانگتا رہے کبھی مایوس نہ ہونے والا ہوں یہی فرق ہے خالق اور مخلوق میں کہ دنیا کا کوی بھی انسان ہووہ خواہ کتنی ہی دولت کا رکھنے والا کیوں نہ ہو وہ دوسروں کی خواہشات اور امیدوں کو کبھی بھی پورا نہیں کرسکتا ہے دوچار مرتبہ اس سے مانگا جاے تو وہ ناراض ہونے لگ جاے گا ایک وقت ایسا آے گا کہ یہ مالدار بھی اس مانگنے والے سے پیچھا چھڑالے گا اور خالق کا معاملہ یہ ہیکہ وہ مانگنے والے بندوں سے خوش ہوتا اور اللہ سے قریب ہوتا جاتا ہے اسی وجہ سے قرآن مجید بارہا فرمایاگیا کہ مجھ سے مانگو میں تمہاری فریاد سنوں گا اور جو مجھ سے دعاء مانگنے سے تکبر کرتا ہے اس کا ٹھکانہ جہنم ہے اللہ کء سامنے ہاتھ اٹھانے سے اعراض کرتےہیں میں ان کو ذلیل کرکے جہنم میں ڈالوں گا بلکہ دعاء کو ایک مستقل عبادت ہی قراردےدیا

جیسے نماز روزہ ایک عبادت ہے دعاء بھی ایک عبادت ہے بلکہ اعلی درجہ کی عبادت ہے الدعاء ھوالعبادۃ اسی لے ہر عبادت کے بعد دعاء ہے نماز کے اخیر میں سلام سے قبل دعاء ہے نماز کے بعد بھی ہے گرچیکہ وہ نماز سے باہر ہے اسی طرح روزہ کے بعد بھی دعاء ہے اور حج تو پوری کی پوری عبادت دعاؤں ہی کی ہے جو نیک کام کرو اس کے بعد دعاء کرو تو وہ قبول ہوتیاسی طرح دیگر مواقع پر دعاؤں کی قبولیت کے وعدے فرماے ہیں اسلئے ہمیں چاہیے کہ ہرمعاملہ میں خواہ وہ دین کا ہو یا دنیا کا ہواللہ سے مانگتے رہنا چاہیے ہاں تدبیر بھی اختیارکروایسانہ ہو کہ بس دعاء کرکے خاموش بیٹھ جاے بلکہ تدبیر کرو اور پھر نےنتیجہ اللہ پر چھوڑو اسی لےء حضور نے فرمایا کہ لایردالقدرالاالدعاء تقدیر کو صرف دعاء ہی ٹال سکتی ہے تقدیر میں تبدیلی ہمارے اعتبار سے ہوتی ہے اللہ کے نزدیک تو وہ پہلے ہی سے طےء ہے مگر ہمارے اعتبار سے جب ہم دعاء کرتے ہیں تو تبدیلی ہوتی ہے مایوس نہ ہوں مانگتے رہیں اس کی وجہ سے کبھی کوی مصیبت ٹال دی جاتی ہے کبھی دوسری چیز مل جاتی ہے کبھی وہی چیز حاصل ہوجاتی جو بندہ نے مانگی ہے کچھ نہیں تو اللہ کے پاس وہ محفوظ ہوجاتی ہے اس لےء مانگتے رہو مانگنا نفع سے خالی نہیں ہے اللہ پاک ہم سب کو اپنے مانگنے والے بندوں میں شامل فرماے آمین