ریاست میں منعقد شدنی بلدی انتخابات کو کالعدم قرار دینے ریاستی ہائی کورٹ کا انکار

بین الریاستی تازہ خبر

حیدرآباد۔22؍اپریل
( زین نیوز ڈا ٹ نیٹ)
ریاستی ہائی کورٹ نے واضح کیا ہے کہ تلنگانہ میں بلدیاتی انتخابات کو روکا نہیں جاسکتا۔ ریاست میںمنعقد شدنی بلدی انتخابات کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کے ساتھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس ہیما کوہلی کی بنچ پر سنیئرکانگریس لیڈر مسٹر محمد علی شبیرنے لنچ موشن پیٹشن دائر کی گئی ہے۔
مسٹر محمد علی شبیرنے اپنی درخواست میں کہا کہ اس وقت ریاست میں بڑے پیمانے پر کورونا کسیس ہورہے ہیں جس کے تناظر میں انتخابات کو ملتوی کرنا چاہئے۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ تلنگانہ حکومت نے نائٹ کرفیو کو پہلے ہی نافذ کیا ہے اس لئے موجودہ حالات اور انسانوں کی جانوں کی حفاظت کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس وقت انتخابات کرنے کی الیکشن کمیشن کو ہدایت کی درخواست کی۔

تاہم چیف جسٹس ہما کوہلی نے لنچ موشن پیٹیشن پر سماعت سے انکار کردیا اور چیف جسٹس نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ ایک بار پھر الیکشن کمیشن سے رجوع ہو کرمطالبہ کریں۔

ڈویژن بینچ میں پہلے ہی ایک درخواست دائر کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ہائی کورٹ سنگل بنچ انتخابات نہیں روک سکتی۔یہاں یہ بتاناضروری ہے کہ مسٹر محمد علی شبیر نے اس سے قبل ایک رکنی بینچ پر درخواست دائر کی تھی جہاں فاضل جج نے یہ کہتے ہوئے اس درخواست کی سماعت سے انکار کیا کہ فی الوقت ریاست میں بلدی انتخابات کا عمل شروع ہوچکا ہے اس پر حکم التواء جاری نہیں کرے گی جس پر ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے باقاعدہ درخواست دائر کی ہے۔

سابق میں ہائیکورٹ نے ا سٹیٹ الیکش آفیسر کو ہدایت کی کہ درخواست گزار کی جانب سے اٹھائے گئے نکات پر غورکرے۔ دریں اثنا ہائی کورٹ کے تازہ ترین فیصلے سے اب ریاست میں2 میونسپل کارپوریشنس اور 5بلدیات کے انتخابات شیڈول کے مطابق 30 ؍اپریل کو منعقد ہوں گے۔