شمس الرحمن فاروقی کا انتقال دنیائے اردو ادب وتنقید کا نقصان ِ عظیم

تازہ خبر مذہبی

محمدیوسف رحیم بیدری
 بیدر۔ 25ڈسمبر  ۔عبدالصمد منجوالا
آج 25ڈسمبر کی صبح دنیائے اردو ادب کی ممتاز، معتبر اور دلیل وبرہان سے لیس ادبی شخصیت اور نقاد جناب شمس الرحمن فاروقی کاسانحہ ٔ ارتحال ہوا۔اناللہ واناالیہ راجعون ۔ اکیسویں صد ی کے دوسرے دہے کے اختتام سے چھ دن قبل شمس الرحمن فاروقی نے اس دنیا ئے سودوزیاں کو چھوڑ کر عالم بالا کاسفر اختیار کیا ۔ اللہ تعالیٰ ان کے اس سفر کوکامیابی میں بدل دے۔ اوران کے کئے گئے ادبی کام خصوصاً ان کی تنقید کوقبول کرتے ہوئے ان کے ساتھ مغفرت اور درگذر کا معاملہ کرے اور انہیں جنت الفردوس میں جگہ عطاکرے۔ یہ بیان ممتاز شاعروادیب محمد یوسف رحیم بیدر ی سکریڑی یاران ادب بیدرنے دیاہے۔ انھوں نے اپناصحافتی بیان جاری رکھتے ہوئے کہاکہ شمس الرحمن فاروقی جدیدیت کے سرخیل تھے۔ جدیدیت نے جو نقصان اردو ادب کو پہنچایا وہ اپنی جگہ ، لیکن شمس الرحمن فاروقی نے اپنی ساری زندگی اردو ادب اور تنقید کے لئے مختص کردی تھی ۔ ایک ایسے وقت جب کہ ارد وزبان کادامن عربی اور فارسی سے کاٹنے کی سرکاری مہم خفیہ اور کہیں کہیں پر اعلانیہ جاری تھی ایسے وقت شمس الرحمن فاروقی ہی تھے جوایک ایسی دیوار بن کر کھڑے ہوگئے جہاں پہنچ کرسازشی افراد اپنی بے بسی کے اظہار میں گریہ کرنے لگتے تھے۔ گیان چندجین جیسے اردووالوں نے جب ایک منصوبہ کے تحت خود اردوزبان کی خدمات پر شب خون مارنے کی کوشش کی تو یہ شمس الرحمن فاروقی ہی تھے جنہوں نے اردو کی’’ گنگا جمنی تہذیبی خدمت‘‘ کو اجاگر کیا۔اور جولوگ اردوکی مخالفت میں آئے تھے دلیل وبراہین کی روشنی میں انہیں پوری طرح نہتا کرکے انہیں چاروں خانے چت کردیاتھا۔ فاروقی کی غالب شناسی اور میرؔنوازی توسبھوں کے سامنے عیاں ہے لیکن ماہنامہ ’’شب خون ‘‘ کے توسط سے باوجود اختلاف کہ انھوں نے جن اسلام پسندوں کو آگے بڑھایا ان میں حفیظ ؔمیرٹھی کا نامِ نامی اولیت رکھتا ہے۔شمس الرحمن فاروقی ماہنامہ’’شب خون ‘‘ اوراپنی تحریروں کے ذریعہ تنازعات میں گھرے رہنے کے باوجود ایک وسیع المشرب شخصیت تھے۔ جو تنقید لکھی  تحقیق  کے بعد لکھی اور تحقیق بھی وہ جس کی سند کی ضرورت اس لئے نہیں تھی کہ وہ علم کے جس اونچے مقام تک پہنچ گئے تھے ، وہاں ان کے کام کوسند عطاکرنے والاکوئی دوسراتھاہی نہیں۔ وہ خود ادیب ،شعر اء اور ناقدین کے لئے سند تھے۔ ایسی دیدہ ور شخصیات صدیوں میں پید اہوتی ہیں۔اردو زبان میں کیاگیاان کاتحقیقی اور تنقیدی کارنامہ انگریزی اور دیگر عالمی ادب کے مقابل رکھے جانے کی طاقت اپنے اندر رکھتاہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے اسلاف کی قدر کرنے کی توفیق دے۔ واقعی شمس الرحمن فاروقی کادنیا سے چلاجانا ایک سانحہ ہے جس کو اردو قاری ، طالب علم اور ارد واسکالرس مدتوں یادرکھیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان سے خصوصی معاملہ فرمائے اس کے لئے دعا گوہوں۔