حیدرآباد:16/مئی
(زین نیوز)
آندھراپردیش سے آنے والی ایمبولنس گاڑیوں کو تلنگانہ میں داخلہ کی اجازت مل گئ ہے۔ تلنگانہ ہائی کورٹ کی جانب سے حکم دیا کہ ایمبولنس گاڑیوں کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کردی جائیں۔
ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق جمعہ کو رات دس بجے سے تلنگانہ پولیس کی کسی اجازت کے بغیر ایمبولنس گاڑیوں کے داخلہ کی اجازت رہےگی۔یہاں یہ بتاناضوری ہے کہ کل پولیس نے کرنول کے قریب پلور ٹول گیٹ کے ساتھ ساتھ دیگر سرحدی علاقوں میں بھی ایمبولنس گاڑیوں کوداخلہ کی اجازت نہیں دی تھی جس سے ہنگامی طبی امداد کی ضرورت کے حامل افراشدید مسائل سے دوچار ہوئے تھے
کوروناسے متاثر مریضوں کو بہتر علاج کی غرض سے آندھراپردیش سے حیدرآباد منتقل کر نے کے دوران پولیس کی جانب سے رکاوٹ بنے پر خود وائی ایس ار رکن اسمبلی حلقہ کرنول مسٹر حفیظ خان کو حیدرآباد۔کرنول چیک پوسٹ پہونچکر مریضوں کو ٹول گیٹ عبور کروانے کےلۓ راست مداخلت کرنی پڑھی
تاہم تلنگانہ پولیس نے ان کی شخصی مداخلت کو قبول کر نے سے یہ کہتے ہوۓ معذرت خواہی کی کہ وہ سرکاری احکامات کی تعمیل کےلۓ پابند عہد ہیں۔ تاہم ہائیکورٹ کے احکامات کے مطابق بغیر کسی پاس کے متاثرہ افراد کی تفصیلات درج کرتے ہوۓایمبولنس گاڑیوں کو حیدرآباد جانے کی اجازت دے رہے ہیں۔کل پلور میں کڑپہ اور نندیال کے دو مریضوں کی ہلاکت کی اطلاع کے بعد تناؤپیداہوگیاتھا

دریں اثنا ایک برقعہ پوش خاتون کا ویڈیو سامنے آیا ہے جس میں اس نےاپنے بیمارشوہرکوکارپوریٹ ہاسپٹل لیجانے کیلئے ایمبولینس کوحیدرآباد جانے کی اجازت دینے التجاکے ساتھ پولیس کے سامنے ہاتھ جوڑ کر گڑگڑاتے ہوئے دیکھی گئ۔
برقعہ پوش خاتون اپنے بیمارشوہرکولے کرایمبولینس کے ذریعہ حیدرآباد آرہی تھی کہ راستہ میں پولیس نے اسے روک دیا۔ خاتون نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ان کے شوہرکی حالت تشویشناک ہےاورہرلمحہ ان کی صحت بگڑرہی ہے۔
خاتون نے بتایا کہ حیدرآباد کے ہاسپٹل میں انھوں نے بیڈ حاصل کرلیا ہے باوجود اس کےتلنگانہ کے پولیس ملازمین انھیں جانے سے روک رہے ہیں۔ خاتون نے زاروقطارروتے ہوئے ہاتھ جوڑ کرالتجا کی میرے شوہرکو بچالو،پلس ریٹ گرررہا ہے،میرے شوہرکی عمر30 سال ہے اورمجھے چھوٹا بچہ ہے، میرے شوہرکو کچھ ہوگیا تو میری دنیا لٹ جا ۓ گی؟
یہ بھی پڑھیں مساجد کے ائمہ ومؤذنین اور امت مسلمہ کی ذمہ داری 
اس نے کہاکہ پولیس والے پیروں پرگرنے پرلاٹھی ماررہے ہیں۔ خاتون نے حکومت سے مدد کی خواہش کی ہے۔ اس موقع پر یہ بتانا ضروری ہے کہ چند دن قبل ہی تلنگانہ ہائی کورٹ نے ریاست میں کورونا حالات پر تشویش کا اظہارکرتےہوئےحکومت کے طرز عمل پر سخت ناراضگی ظاہر کی اور قومی دارالکحومت کا حالہ دیا جہاں مختلف ریاستوں کے عوام میعاری علاج کی غرض سے آیا جایا کرتے ہیں مگر وہاں ایسا نہیں کیا جاتا۔

اس موقع پر عدالت نے یہ بھی کہا کہ کسی بھی ہاسپٹل میں علاج کروانا ہر شہری کا اپنا اختیارہے جس کو روکنے کاحکومت کوحق نہیں ہے۔ عدالت نے ریمارک کیا کہ حکومت ایسا کر کےاز خود غیر قانونی حرکت کی مرتکب ہوئی ہے جس کو بین الریاستی سرحدوں پر تحدیدات عائد کر کرنے اختیارات نہیں ہیں یہ معاملہ مرکز کے دائرہ اختیار میں آتا ہے تاہم علاج کے لۓ وہ بھی کسی کو نہیں روک سکتی۔
عدالت نے یہ جاننا بھی چاہا کہ بہیرون ممالک کے شہری بہتر علاج کے لۓ حیدرآباد آسکتے ہیں اور وہ یہاں کے نامی گرامی کارپوریٹ ہاسپٹلس میں قیام کرسکتے ہیں تو پھر ملک کے شہری کیوں کر اپنی پسند کے دواخانوں میں علاج کا حق نہیں رکھتے۔عدالت العالیہ نے اس عمل کو غیر انسانی قرار دیا اور حکومت سے غیراختیاری عمل سے گریز کی ہدایت دی تھی۔
