بیدر30؍ڈسمبر
عبدالصمد منجوالا
دفتر مجلس اتحاد المسلمین بیدر پر جنگ آزادی کے مایہ ناز ثپوت شہید بھگت سنگھ کے خانوادہ اُن کے پوتے وکرم سندھو پہنچے جہاں صدر مجلس بیدر جناب سید منصور احمدقادری نے اُنکا والہانہ استقبال کیا جیسے ہی وہ یم آئی یم دفتر پہنچے پٹاخے اور آتشبازی سے آسمان گونج اُٹھا پھر دفتر کے اندر صد ر مجلس کے ہاتھوں ان کی شال پوشی اور گل پوشی ہوئی ان کے ساتھ بامبے سے اُن کے ساتھی جناب رفعت تھے اور ساتھ میں بیدر گردوارہ پر بندھک کمیٹی کے ذمہ دار جناب پنیت سنگھ بھی تھے۔صدر مجلس نے ان مہمانوں کا بھی استقبال کیااور ان کی بھی شال پوشی و گل پوشی کی گئی ۔ اس موقعہ پر صدر یم آئی یم بیدر جناب سید منصور احمد قادری نے خطاب کرتے ہوئے شہید بھگت سنگھ کی سوانح عمری اور ان کے تاریخی انقلابی کارناموںپر تفصیل سے روشنی ڈالی جس میں سب سے اہم بات یہ تھی کہ شہید بھگت سنگھ اپنے بچپن سے ہی اولولعزم اور انقلابی تھے صرف بارہ سال کی عمر میں اُنہوں نے جلیان والا باغ کے سانحہ کی اطلاع ملنے پر دوسرے ہی دن مقام واردات پر پہنچ کر معصوم ہندوستانیوں کے قتل عام سے پھیلی پڑی لاشوں کو اپنے آنکھوں سے دیکھ کر وہیں قسم کھائی تھی کہ وہ ان معصوموں کی شہادت کا بدلہ ضرور لیں گے اور اس طرح وہ وہاں کے میدان سے مٹھی بھر مٹی جس میں تمام شہیدوں کے خون کی آمیزش شامل تھی اپنے ساتھ لیکر آئے تھے اور روزانہ صبح کو جس طرح لوگ پو جا کرتے ہیں وہ اسی مٹی کے سامنے اپنی قسم دہراتے ۔اُن کا ماننا تھا کہ انگریز صرف ظلم اور استبداد کی زبان سمجھتے ہیں اس لئے اُن سے اُسی زبان میں بات کرتے ہوئے یعنی اینٹ کا جواب پتھر سے دیناہوگااس طرح وہ ایک نڈر ، بیباک کرانتی کاری یعنی انقلابی نوجوان تھے جنہوں نے کبھی کسی سے ڈرے بغیر انگیریزوں کے خلاف نبر دآزمارہے وہ کہا کرتے تھے کہ میری قربانی سے یہاں کے نوجوان جاگیں گے اور ہر گھر سے ایک بھگت سنگھ پیدا ہوگا اُنہیں اپنی جان کی نہیں بلکہ دیش کی آزادی کی فکر تھی۔انگریزوں نے جب اسمبلی پر حملے کی الزام میں انہیں گرفتار کیا تو اُن کا کیس اُس وقت کے مشہور وکیل جناب آصف علی صاحب یعنی ایک مسلم ایڈوکیٹ نے ہی لڑاتھا۔ جناب منصور احمد قادری نے دعا کی کہ اللہ پاک دیش کیلئے ایسا بھی جذبہ یہاں کے ہرنوجوان میں پیدا کرے اور آج بھی دیش کے سمو دھان کے یہاں کے قانون کے یہاں کی گنگا جمنی تہذیب اور آپسی بھائی چارے کو ختم کرنے والوں کے خلاف اسی طرز پر لڑنے اور مرنے کا جذبہ پیدا کرے۔ اس موقع پر بیدر کے تمام مجلسی قائدین کے علاوہ سینکڑوں محبان مجلس موجود تھے ۔
