قیام تلنگانہ کے بعد امن و امان کی برقراری تلنگانہ حکومت کی اولین ترجیح

بین الریاستی تازہ خبر

تلنگانہ میں کارپوریٹ سطح کی پولیس اسٹیشن عمارتوں کی تعمیر۔وزیر داخلہ الحاج محمد محمود علی
حیدرآباد:16؍جون
(زین نیوز)
تلنگانہ پولیس جیسی متحرک پولیس جو اپنی فرض شناسی کے علاوہ سماجی خدمات میں بڑھ چڑھ کرحصہ لے رہی ہے ملک بھر میں کہیں نظر نہیں آتی۔اسی لیے تلنگانہ پولیس کو ملک بھر میں ایک خاص مقام حاصل ہے۔۔ ان خیالات کا اظہار وزیر داخلہ الحاج محمد محمود علی اور ریاستی وزیر برائے افزائش مویشیاں ٹی سرینیواس یادو نے ایس آر نگر پولیس اسٹیشن کی عمارت کا افتتاح کرتے ہوئے کیااورکہا کہ تلنگانہ میں کارپوریٹ سطح کی پولیس اسٹیشن عمارتیں تعمیر کی جارہی ہیں۔

جس میں عوام کی سہولیات کے لیے تمام انفراسٹرکچر فراہم کی گئی ہیں۔ ایس آر نگر پولیس اسٹیشن کے لیے 1040 مربع گز زمین فراہم کی گئی جس میں عمارت کے لیے 15,000 مربع فیٹ پر چار منزلہ خوبصورت عمارت تمیر کی گئی ہے۔جس کے لیے 4.26 کروڑ روپئے خرچ کئے گئے۔ یہ عمارتیں سٹیزن فرینڈلی پولیسنگ اسکیم کے تحت تعمیر کی جارہی ہیں۔

الحاج محمد محمود علی نے کہا کہ تلنگانہ پولیس فرینڈلی پولیسنگ کے لیے ملک بھر میں اہم مقام رکھتی ہے۔قیام تلنگانہ کے بعد سے تلنگانہ پولیس نے عوام کے ساتھ بہتر تعلقات پیدا کرتے ہوئے ان کے مسائل کو حل کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قیام تلنگانہ سے قبل عوام میں پولیس کے متعلق ایک قسم کا ڈر اور خوف تھا جس کی وجہ سے عوام بلا خوف پولیس اسٹیشن کو نہیں جایا کرتے تھے ۔

بلکہ جب کبھی پولیس اسٹیشن کو جانا ہوتا تو اپنے کسی لیڈر یا وکیل کو ساتھ لے جایا کرتے تھے، جس کی وجہ سے ان کے مسائل کا حل، وقت طلب ہوتا تھا۔ اس کے مقابل قیام تلنگانہ کے بعد چیف منسٹر مسٹر کے چندرا شیکھر راؤنے محکمہ پولیس کو اہمیت دیتے ہوئےا س میں کئی ایک اصلاحات لائیں جس میں ڈی جی پی ڈاکٹر ایم مہندر ریڈی نے کافی تعاون کیا۔

وزیر موصوف نے کہا کہ چیف منسٹر چندرا مسٹر کےشیکھر راؤ نے محکمہ پولیس کو سات سو کروڑ روپئیوں کا بھاری بجٹ مہیا کیا جس کی بدولت محکمہ پولیس میں جدید آلات سے لیز مختلف قسم کی گاڑیاں فراہم کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ پولیس نے پچھلے سات سالوں میں بہترین کارکردگی سے ملک بھر میں تلنگانہ پولیس کا نام روشن کیا ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ تلنگانہ پولیس جدید ٹکنالوجی کا بھرپور استعمال کرکے مسائل کا حل تلاش کررہی ہے۔سی سی ٹی وی کی تنصیب میں تلنگانہ ریاست، ملک بھر میں سر فہرست ہے۔ملک بھر کے 70 فیصد کیمرے صرف تلنگانہ میں موجود ہیں۔ اسکے علاوہ بین الاقوامی سطح پر حیدرآباد کوسی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب میں سولہواں مقام حاصل ہوا ہے۔

تلنگانہ میں خواتین کی سیفٹی اور سیکیوریٹی کو کافی اہمیت دی جاتی ہے اسی لیے ان کے مسائل کو فوری حل کرنے اور حفاظت فراہم کرنے کے لیے ” شی ٹیم” کا قیام عمل میں لایا گیا جس کے بہترین نتائج منظر عام پر آرہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں لا اینڈ آرڈر پُر امن ہے۔یہاں پر کسی قسم کے بڑے فسادات یا نیکسلزم نہیں ہیں۔انہوں نے تلنگانہ پولیس کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ ڈائیل 100 سے پانج منٹ کے اندر پولیس ایکشن لے رہی ہے۔وزیر موصوف نے کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک بین الاقوامی طرز کا سنٹر ہے جوملک بھر میں پہلی مرتبہ حیدرآباد، تلنگانہ ریاست میں تعمیر کیا جارہا ہے۔

اس سنٹر کی تکمیل سے محکمہ پولیس کے علاوہ دیگر متعدد محکمہ جات کو بھی اس سے مربوط کرتے ہوئے اعلیٰ خدمات حاصل کی جائیں گی۔ الحاج محمد محمود علی نے کہا کہ پاسپورٹ پولیس ویریفیکیشن میں تلنگانہ پولیس کا کارنامہ یہ ہے کہ تلنگانہ پولیس ، چار سے پانچ دنوں میں اس عمل کو پورا کر رہا ہے جس کی وجہ سے مرکزی حکومت نے پچھلے چار سالوں سے تلنگانہ پولیس کو ویری فاسٹ ایوارڈ سے نوازا ہے۔ورنہ قیام تلنگانہ سے پہلے اس عمل کے لیے ایک مہینے سے زیادہ کا وقت درکار ہوتا تھا۔انہوں نے کہا کہ قیام تلنگانہ کے بعد تلنگانہ حکومت نے امن و امان کی برقراری اور بہتر کارکرگی کے لیے سات نئے کمشنریٹ راچہ کونڈا، ورنگل، سدی پیٹ،کریم نگر، راماگنڈم،نظام آباد اور کھمم میں قائم کئے۔ وزیر داخلہ نے آخر میں کہا کہ تلنگانہ حکومت مجموعی طور پر ترقی کی طرف گامزن ہے۔جس کے لیے انہوں نے چیف منسٹر کے سی آر کا شکریہ ادا کیا۔ ایس آرنگر پولیس اسٹیشن کی جدید عمارت کی بہترین تعمیر پروزیر داخلہ نے ڈی جی پی ڈاکٹر ایم مہیندر ریڈی، کمشنر پولیس حیدرآبادمسٹرانجنی کمار اور ان کی پوری ٹیم کو مبارکبادی پیش کرتے ہوئےنیک خواہشات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر رکن قانون ساز کونسل ایم ایس پربھاکرراؤ، رکن قانون ساز اسمبلی مسٹرماگنٹی پربھاکر ،چیرمین تلنگانہ اسٹیٹ ہاؤزنگ کارپوریشن مسٹر کے۔ دامودر، کارپوریٹرس مسز لکشمی، مسز دے دیپیا راؤ، ایڈیشنل پولیس کمشنر (کرائم) مسزشیکھا گوئل، ایڈیشنل پولیس کمشنر ( ٹرافک) مسٹرانیل کمار،جوائنٹ پولیس کمشنرمسٹر اے آر سرنیواس، اور دیگر شریک تھ