آخری قسط
ازقلم: عبدالقیوم شاکرالقاسمی
جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء امام وخطیب مسجد اسلامیہ نظام آباد
9505057866
پہلی قسط میں عورت کا مقام ومرتبہ دوسری قسط میں حجاب اورپردہ کی اہمیت کے حوالہ سے چندمعروضات قرآن وحدیث کی روشنی میں رقم کےءگےء تھے
تیسری اور آخری قسط میں وہ گناہ عظیم جس کو ذکرکرتے ہوے بھی ایک باغیرت وباحمیت انسان کی روح کانپ اٹھتی ہے جس کاتصوربھی دلوں کودہلادینے کے لےء کافی ہوجاے جس کو عصمت فروشی اور تن فروشی کہاجاتاہے اور اصطلاح عرف میں جسم فروشی اور زناء سے بھی تعبیر کیاجاتاہے اکثروبیشتر یہ گناہ فقروفاقہ مالی تنگدستی اور معاشی بحران کے پیش نظر حالات زمانہ سے مجبور انتہای بچھڑے طبقہ سے تعلق رکھنے والی خواتین کرگذرتی ہیں
گناہ بہرحال گناہ ہے کوی عام انسان سےسرزدہوں یا کسی خاص طبقہ کے لوگوں سے وجود میں آے جس کی سزالازما ہونا ہی ہونا ہے خواہ دنیامیں ہوں یا آخرت میں
لیکن افسوس کا مقام ہیکہ آج کل ہرطبقہ کی خواتین اس گناہ میں مبتلا اور ملوث ہوتی نظر آرہی ہیں مشاہدات وواقعات اس بات کو عیاں کررہے ہیں کہ اچھے خاصے متمول گھرانوں سے تعلق رکھنے والی خواتین بھی اس گناہ کو شوقیہ طورپر کررہی ہیں
ہمیں اس گناہ کے وجوہات واسباب کی جانب نظر کرتے ہوے اس کا تدارک کرنے کی ضرورت ہے
شرعی اعتبارسے جب عورت اپنے مقام کو نہیں سمجھ پاتی اور بے پردگی کو فیشن سمجھ لیتی تو اس کے بعد آہستہ آہستہ وہ اس گناہ کے قریب پہونچ جاتی پھرتسکین قلب کاسامان کرنے کے لےء اس عمل کو کربیٹھتی ہیں
زمانہ کی بدنامیوں اور لوگوں کی نظروں میں ہونے والی رسوائیوں کی پرواہ اورفکر سے غافل ہوکر وہ اس حد تک بھی بڑھ جاتی ہیں کہ اس گناہ کے کرنے کو وہ پیشہ اورعادت بنالیتی ہیں جب کوی ان کو سمجھانے والایاکوی سرپرست نہیں ملتا تو وہ اس گناہ کی عادی بن کر اپنی پوری زندگی حرام کاری کے ساتھ گذارلیتی ہیں
ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اس گناہ تک پہونچنے کا پہلا راستہ وہ نگاہوں کی حفاظت نہ کرنا ہے یعنی
بدنگاہی وہ پہلا زینہ ہے جہاں سے عورت بے حیاء وبے غیرت بننا شروع ہوتی ہے اسی لےء حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
اذالم تستحیی فااصنع ماشئت
جب تم حیاء نہ کروتو جوچاہوکرو
یعنی بے حیاء انسان ہروہ کام کرگذرتاہے جس کو شریعت اسلامیہ نے برا کہا ہے اور اس کو اس قسم کے کام کرنے میں کوی عار بھی محسوس نہیں ہوتا
بے حیاء باش ہرچہ خواہی کن
یہی وجہ ہیکہ احادیث میں حیاء کو ایمان کا ایک اہم حصہ اور شعبہ قراردے کر اس کی اہمیت کو الگ سے بیان فرمایاہے قرآن مجید میں بھی اللہ تعالی نےایسا اسلوب وطرزاختیارفرمایاکہ انسان کوی بھی گناہ کے قریب نہ جاے اگر جاے گا توڈرہیکہ اس گناہ میں مبتلاء ہوجاے گا
زناء کے قریب بھی نہ جاؤ شراب کا ایک قطرہ بھی حرام ہے سود اور رشوت سے بھی دوررہو یہ سب وہ احکامات ہیں جن کے قریب جانے سے بھی انسان کو منع کیا جارہاہے
دنیاوی اعتبار سے اس گناہ کے بہت سارے محرکات وعوامل ہیں جس پر نظر کرکے تلافی کرنا قوم وملت کے ہرفردکی ذمہ داری ہے
افلاس وغربت جس کا سب سے بڑا سبب ہوتا ہے مالی بحران کی شکارخواتین اس گناہ کو کرنے میں پیش پیش رہتی ہیں چونکہ ان کا مقصد صرف مالی منفعت حاصل کرنا اور اپنے حسن وجمال کے جھانسہ پھانس کر ہر مرد کو لوٹنا اور اس کی جیب خالی کرنا ہوتا ہے
اس لےء ایسی خواتین کی تفصیلات حاصل کرکے اس گناہ میں ملوث ہونے سے پہلے پہلے ان کی مالی امدادکویقینی بنایاجاءے تاکہ یہ خواتین اس قبیح وشنیع عمل سے بچ کر اچھی زندگی گذاریں
دوسری وجہ
عیاشی اور شوقیہ مزاج ہے جس کی وجہ سے محض لطف اندوزی کے لےء بہت ساری خواتین اس گناہ میں مبتلا ہوتی ہیں جن کو سمجھانے اور راہ راست پہ لانے کی ضرورت ہوتی ہے ان کو اس گناہ کی قباحت سے واقف کرانا اور اس کے نقصانات سے باخبر کرنا ضروری ہے تاکہ وہ حلال طریقہ سے اپنی خواہشات کی تکمیل کرکے حرام عمل سے اجتناب کرسکیں
آج ان سب احوال کاجائزہ لینے اور اس بڑھتے ہوے گناہ سے معاشرہ کو پاک کرنے کی ضرورت ہے
بعض علاقوں میں لڑکیوں کا باضابطہ اغواءکرکے اور بعض مقامات پر اس کو کمائ کاذریعہ سمجھ کر مستقل طورپر کاروبار اور دھندا کیا جاتا ہے مخصوص عورتیں ہوتی ہیں جن کے پاس ہر ایک فون نمبرات اور ایڈریس موجود ہوتے ہیں وقت ضرورت ان سے رابطے کرکے ایک دوسرے کو ملانے کا یہ کام کرتی ہیں ایسی عورتوں کو چاہیے کہ وہ اللہ ورسول کا خوف اور ڈر اپنے دل میں پیداکریں اور انسانیت کو اس گناہ کے دلدل میں ڈالنے والے عمل سے بازرہیں ورنہ دنیاوآخرت میں ان کا انجام بہت ہی برا ہوگا چونکہ یہ بدعملی اللہ ورسول دین وشریعت کے سراسرمغائرومخالف ہے جس کو زناکہاجاتاہے اوراس سے بہت ساری برائیاں جنم لیتی ہیں
معاشرہ میں زنا سے ہونے والی خرابیوں اور نقصانات کو اچھے انداز میں بتایاجاے کہ
زنا ہر قسم کے شرکواکھٹاکرنے کا موجب ہوتاہے جس سے عزت وشرافت دفن ہوجاتی ہے
زنا کی وجہ سے بے حیای عام ہوجاتی زانی اورزانیہ کے چہروں پر بے شرمی کے پردے پڑجاتے ہیں
زناکی وجہ سے چہروں کی سیاہی اور ظلمت میں اضافہ ہوجاتاہے
زناکی وجہ سے دل کی دنیا اندھیری ہوجاتی ہے
زناامت کی تباہی وبربادی کا سبب ہے
اوربھی ان گنت وبے شمار ظاہری وباطنی انفرادی واجتماعی مفاسد معاشی ومعاشرتی نقصانات اس برے عمل کی وجہ سے پیداہوتے ہیں
اللہ پاک ذلت ورسوائ سے ہماری اور امت مسلمہ کی حفاظت فرماے پاک اور صاف ستھری زندگی گذارنے کی توفیق مرحمت فرماے
آمین
