پارٹی کی اعلیٰ قیادت یوگی پرلگام کسنے میں ناکام۔یوگی پر آر ایس ایس کا ہاتھ!

تازہ خبر قومی

یوپی انتخابات‘ ہندوتوااوررام مندر کے نام پرلڑے جائیں گے
نئی دہلی:18؍جون
(زین نیوز)
اگرچہ مودی اوریوگی کے مابین پچھلے کچھ عرصہ سے جاری ”سردجنگ“ پچھلے دنوں یوگی کے دورہ دہلی اوروہاں بی جے پی کے قومی صدرجے پی نڈا‘ وزیرداخلہ امیت شاہ اوروزیراعظم نریندرمودی سے ہوئی علحدہ علحدہ تفصیلی ملاقاتوں کے بعدبظاہر کوئی مفاہمت میں ختم ہوتی نظرآرہی ہے لیکن ان ملاقاتوں میں ایک بات توکھل کر سامنے آرہی ہے کہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت یوگی پرلگام کسنے میں ناکام ہے

بلکہ یہ بھی کہاجاسکتاہے کہ اس وقت آدتیہ ناتھ یوگی وزیراعظم نریندرمودی کیلئے وہی ثابت ہوسکتے ہیں جوساست سال پہلے خود مودی اڈوانی کیلئے ثابت ہوئے تھے اوراس کی وجہ یہ ہے کہ آرایس ایس یوگی کے ساتھ کھڑی ہوگئی ہے کیونکہ اترپردیش میں جہاں سات آٹھ ماہ بعداسمبلی انتخابات منعقد ہونے والے ہیں اورجبکہ پارٹی قیادت (بشمول آرایس ایس) یہ اشارہ دے چکی ہے کہ یوپی انتخابات‘ ہندوتوااوررام مندر کے نام پرلڑے جائیں گے توبی جے پی اورآرایس ایس کے پاس یوپی میں قیادت کیلئے بھگوادھاری گورکھ ناتھ مندر کے منہت یوگی سے بہترکوئی اورچہرہ موجودنہیں ہے

اب دہلی میں یوگی‘ نڈا‘ یوگی شاہ اوریوگی مودی کے مابین کیاجات چیت ہوئی وہ تواس وقت تک سامنے نہیں آئے گی جب تک کہ خود یوگی منہ نہ کھولیں لیکن بیانیہ یہی سامنے آرہاہے کہ یوپی میں 2022ء کے الیکشن یوگی کی قیادت میں ہی لڑے جائیں گے۔لیکن جیسا کہ مودی جی کی قربت سے جاننے والوں کا کہناہے کہ مودی جی حکیم عدولی ہرگز برداشت نہیں کرسکتے اوریوگی نے مودی کے بھیجے گئے نمائندہ خاص ریٹائرڈ آئی اے ایس آفیسر اے کے شرما کونائب وزیراعلیٰ توکیا اپنی کابینہ میں شامل نہ کرکے مودی کی حکم عدولیی ہی کی ہے اورظاہر ہے اس کی قیمت آج نہیں توکل انہیں چکانی پڑے گی

فی الحال تودونوں طرف سب کچھ ٹھیک ہے کی تصویرپیش کی جارہی ہے لیکن اندرونی طورپر یوگی نے جس طرح اپنے پرپھیلائے ہیں ان پردں کوکترنے کیلئے مختلف حکمت عملیاں زیرغورہیں ان میں سے ایک مبینہ طورپر امت شاہ ی پیش کردہ تجویز یوپی کودویا تین چھوٹی ریاستوں میں تقسیم بھی شام ہے تاکہ یوگی کی اہمیت کوگھٹایاجاسکے لیکن دہلی سے لکھنو واپس ہونے پراس کی بھنک ملتے ہی یوگی نے کہاکہ میں اپنی ریاست کی تقسیم کسی صورت میں نہیں ہونے دوں گا۔ جبکہ تجویز یہ تھی کہ یوپی کے دونوں ایوانوں میں پہلے سیاست کی تقسیم کی قرار دادمنظور کی جائے اوراس کے بعدپارلیمنٹ سے بھی اسے پاس کرواکے یوپی کودویا تین حصوں میں تقسیم کردیاجائے۔

دراصل یوپی میں اس وقت فضاء بی جے پی کیلئے سازگارنہیں ہے کورونا وباء کے سلسلے میں ریاستی حکومت کی بدانتظامی اورلاپرواہی سے ریاست کے عوام شدید ناراض ہیں پنچایت الیکشن میں بی جے پی کا مظاہرہ مایوس کن رہا۔200سے زیادہ پارٹی کے ایم ایل ایز یوگی سے ناخوش ہیں اوربی جے پی کی اعلیٰ قیادت کے سامنے یہ ساری وجوہات یوگی کوباہر کاراستہ دکھانے کیلئے کافی تھیں لیکن جیسا کہ آپ جانتے ہیں ان سب کے باوجود یوگی کی کرسی نہ صرف سلامت رہی بلکہ 2022ء کاالیکشن ان ہی کی قیادت میں لڑنے کا اعلان بھی کیاگیا۔

وزیراعظم مودی کی زبردست طاقت کے مدنظر کیا موجودہ دورمیں کسی بھی دیگربی جے پی اقتدار والی ریاست کے چیف منسٹر سے اس طرح کی حکم عدولی کی توقع کی جاسکتی ہے؟ کہاجارہاہے کہ یوگی گذشتہ دومہینوں سے نریندرمودی سے بات بھی نہیں کررہے تھے اوروہ دہلی جانا بھی نہیں چاہتے تھے لیکن آرایس ایس کے مشورے پرانہیں دہلی جاکر پارٹی کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرنا پڑا لیکن ان ملاقاتوں کا مطلوب یہ نہیں کہ یوگی نے ہتھیار ڈال دیئے ہیں بلکہ ان کے تیوروں میں اب بھی کوئی تبدیلی نظر نہیں آرہی ہے توظاہر ہے اس کے پیچھے یقینا کوئی طاقت ہے اورسب جانتے ہیں کہ وہ طاقت آرایس ایس کی ہے جس سے بی جے پی کا بڑے سے برا لیڈر بھی پنگالینے کی ہمت نہیں کرسکتا۔

اورسنگھ پریواراتنا زیادہ طاقتور ہے کہ جب وہ مودی کووزارت عظمی کی کرسی پر بٹھاسکتاہے توبہت آسانی سے اسے اتاربھی جاسکتاہے سنگھ پریوار کے پاس مودی جیسے نہ جانے کتنے مہرے موجود ہیں اوریوگی آدتیہ ناتھ اس وقت ایسے ہی ایک مہرہ ہیں۔کسی نے توکیا خود یوگی نے کبھی سوچاہاتھا کہ وہ یوپی کے چیف منسٹر بنادیئے جائیں گے؟ کیونکہ 2017ء کے یوپی اسمبلی الیکشن سے پہلے اورنتائج کے بعدمیں بھی چیف منسٹر کے عہدے کی دوڑمیں یوگی شامل ہی نہیں تھے وہ تودراصل گورکھ پور کے ایم پی تھے لیکن اچانک آرایس ایس نے چیف منسٹر کے عہدے کیلئے یوگی کولاکھڑا کیا اورکسی کواس پراعتراض نہیں ہوا۔

اس کے بعدسے آرایس ایس پوری طرح یوگی کے پیچھے ہے اوروہ آہستہ آہستہ یوگی کومودی کے متبادل کے طورپر ابھارتاجارہاہے اوریہی وجہ ہے کہ خود یوگی بھی خود کومودی کے ٹکرکا لیڈرسمجھنے لگے ہیں اب یہ سردجنگ آگے چل کرکیا رخ اختیار کرتی ہے۔مودی شاہ اس سے کیسے نمٹتے ہیں یہ آنے والے کچھ ہفتوں یا کچھ مہینوں میں ہی سامنے آجائے گا۔