گورنمنٹ ڈگری کالجوں سے اُردو کورسس کی برخواستگی کی کوشش ناقابل قبول

بین الریاستی تازہ خبر

چیرمین پروفیسر پاپی ریڈی سےآئیٹا تلنگانہ کے ذمہ داران کا مطالبہ
حیدرآباد24/جون

(پریس نوٹ)
آئیٹا تلنگانہ کے میڈیا کمیٹی کے ممبر محمد معین الدین کے بموجب آئیٹا ایشوز اڈریسنگ کمیٹی کے کنوینر عبدالکریم نے ریاستی وزیر تعلیم  تلنگانہ شریمتی سبیتا اندراریڈی، کمشنر کالجیٹ ایجوکیشن شری نوئین متل، ہائر ایجوکیشن کونسل کے چیئرمین پروفیسر پاپی ریڈی سے مطالبہ کیا کہ گورنمنٹ ڈگری کالجوں سے اردو کورسس کی برخواستگی کی کوشش ترک کریں

جس سے کئی لکچررس (کنٹراکٹ، آؤٹ سورس) بے روزگار ہو جائینگے ہزاروں طلباء جو انٹر میڈیٹ کے مختلف کورسوں میں زیر تعلیم ہیں ڈگری میں داخلہ کے لیے پریشان کن حالات سے دوچار ہونگے اور قوی امکان ہے کہ وہ تعلیم سے دوری اختیار کر لیں۔

 حکومت تلنگانہ مختلف طریقوں سے ریاست میں اردو زبان کے خاتمہ کے لئے کوشاں ہیں، اردو زبان ریاست کی سرکاری اور دوسری سب سے زیادہ استعمال کی جانے والی زبان ہے، اتنی بڑی آبادی کی مادری زبان کے ساتھ ناروا سلوک رکھنا انتہائی تشویشناک عمل ہے۔

ریاست میں اردو میڈیم کورسس اور تعلیمی ادروں میں نشستوں میں ہر سال کمی کردی جاتی ہے،مخلوعہ نشستوں کو پُر کرتے ہوئے اساتذہ کے مسئلہ کو حل کرنے کے بجائے حکومت اردو میڈیم میں داخلوں کو ہی بند کردیتی ہے۔ دو سال قبل اردو میڈیم میں بی کام، بی ایس سی میں داخلوں کو بند کردیا گیا۔ دیگر کورسس میں داخلے تو دئیے جارہے ہیں لیکن ان کے لئے اساتذہ کا تقرر عمل میں نہیں لایا جارہا ہے
اردو ریاست کی دوسری بڑی زبان کے ساتھ ساتھ دوسری سرکاری زبان کا درجہ بھی رکھتی ہے جسکے ناطے کچھ کورسس تو اسمیں برقرار رکھنا ضروری ہے کویڈ 19 حالات کے چلتے اسطرح کورسس ختم کرنامناسب نہیں طلباء ان حالات سے پریشان ہیں ہوسکتا ہے

حالات کی بحالی کے بعد زیادہ داخلے ہوں اس طرح کورسس اچانک ختم کرنے سے حکومت کی نیک نامی بھی متاثر ہو سکتی ہے آئیٹا اردو دوست انجمنوں اور اداروں، اولیائے طلباء، طلباء، لکچررس سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ ان کالجوں میں داخلے دلوایں۔ آئیٹا نے اپنے ان احساسات کو متعلقہ ذمہ داروں کو ای میل پیغام کے ذریعے مطلع بھی کیا ہے۔ امید اجتماعی کوششیں رنگ لائیں۔