نئی دہلی:30؍جون
(زین نیوز؍ایجنسیز)
پچھلے سات مہینوں سے دہلی کی تمام سرحدوں سمیت یوپی گیٹ پر زراعت ایکٹ کے خلاف احتجاج کرنے والے کسانوں اور بی جے پی کے حامیوں کے مابین جھڑپ ہوگئی۔ آج صبح بی جے پی کارکن یوپی گیٹ پر کسان آندولن سائٹ کے اندر پہنچےجس کے بعد ان کے اور کسانوں کے مابین لڑائی ہوگئی کسانوں کے ساتھ بی جے پی کارکنوں کی جھڑپ میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
کسانوں اور بی جے پی کارکنوں کے مابین تصادم کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی کے کارکن قائد امیت والمیکی کے استقبال کے لئے یہاں آئے تھے۔ امت والمیکی کو اترپردیش یونٹ کا سکریٹری بنایا گیا ہے۔ اس واقعے میں بی جے پی کارکنوں کی کار توڑ دی گئی تھی۔۔ کسانوں کا الزام ہے کہ بی جے پی کارکنوں نے ان کے ساتھ بدسلوکی کی

اس واقعہ کے بعد بی جے پی کارکنوں نے غازی آباد ایس ایس پی آفس کے روبرو احتجاج کیا اور علاقہ کو بلاک کردیا۔ بی جے پی کارکنوں کا کہنا ہے کہ کسانوں نے ان کی گاڑی کو نقصان پہنچا ہےتوڑ پھوڑ کی ہے۔جبکہ کے دیکھا گیا ہے کہ بی جے پی کارکن تلواروں سے لیس تھے
ایک انگریزی ویب سائٹ میں جاری خبر کے مطابق جب گاڑیوں کا قافلہ دہلی سے غازی آباد جانے والی لین پر کسانوں کے پلیٹ فارم کے سامنے پہنچا تو دونوں کے مابین لڑائی شروع ہوگئی۔ ایک دوسرے کے درمیان بحث و تکراراور گالی گلوچ بڑھ گئا اور معاملہ ہاتھا پائی تک پہنچ گیا اور پھر تخریب کاری کی صورت اختیار کرلی۔ بی جے پی کا یہ الزام بھی ہے کہ کسانوں نے ان کے خلاف نعرے بازی کی اور کچھ گاڑیوں میں توڑ پھوڑ کی۔
اسی دوران بھارتیہ کسان یونین کے قومی ترجمان راکیش ٹکیت نے اس سارے معاملے پر کہا بی جے پی کارکنان اس اسٹیج پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ ایک طویل عرصے سے اس ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر بی جے پی والے کسانوں کے پلیٹ فارم کو اتنا پسند کرتے ہیں تو انہیں پارٹی چھوڑ کر ہمارے ساتھ شامل ہونا چاہئے۔ کسانوں کی تنظیم ان کا خیر مقدم کرے گی انہوں نے ہنگامہ آرائی اور حملہ کرنے والے ملزم کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے
کسان تنظیمیں مرکزی حکومت کے زرعی قوانین کے خلاف مستقل احتجاج کر رہی ہیں۔ حکومت سے متعدد فریقین کی بات چیت کے بعد بھی اس مسئلے کو حل نہیں کیا گیا اور نہ ہی کسانوں کا احتجاج ختم ہوا۔ دہلی میں کسان ابھی بھی بہت سی سرحدوں پر احتجاج کر رہے ہیں۔