یوپی
زین نیوز ڈسک
اتر پردیش کی یوگی حکومت نے پاکستانی خاتون بانوبیگم ایف ائی آر درج کرتے ہوئے تحقیقات کا حکم دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق کراچی پاکستان سے تعلق رکھنے والی 65سالہ بانو بیگم اترپردیش کے ایک موضع کے لئے اس وقت وہ بلاک کے لئے عبوری سرپنچ کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہی ہے۔ایک ایسے وقت جب ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تناؤ کی صورتحال پائی جاتی ہے بتایا جاتا ہے کہ کراچی سے تعلق رکھنے والی خاتون بانو بیگم تقریباً 40سال قبل اتر پردیش کے ایٹا ضلع کے جلسر بلاک آئی تھی اور یہاں کے ایک مقامی شخص اختر علی سے شادی رچائی تھی اور اس وقت وہ بلاک کے لئے عبوری سرپنچ کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہی ہے ۔ مقامی افراد کی شکایت پرجیسے ہی اس بات کا علم عہدیداروں کو ہوا تو انھوں نے فوری طور پر بانو بیگم کو بلاک کے عبوری سرپنچ کے عہدےسے ہٹادیا ہے ایٹا ضلع کےپنچایت راج آفسیرآلوک پریادشی نے پولیس سےبانو بیگم کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت دی ہے‘ ضلع کلکٹر مسٹر شوق لال نے بھی اس بات کی تحقیقات کا حکم دیا کہ سرپنچ منتخب ہونے کے لئےمطلوبہ دستاویزات‘ آدھار کارڈ کس طرح حاصل کیں ہیں۔جبکہ وہ ایک پاکستانی شہری ہیں اورانکاطویل مدتی پاسپورٹ ہے۔بتایاگیا ہے کہ وہ ہندوستانی شہریت کے لئےکئی ایک بار کوشش کرچکی ہیں آخر کار انھوںنے آدھار کارڈ‘ اور دیگر دستاویزات حاصل کرلیں۔
